آئینۂ عالم

ایک نئے جنگی محاذ کی سمت امریکہ کی  پیش قدمی

امریکہ اور سوویت یونین کے درمیان 1940ء سے 1990ء کی دہائی تک جاری رہنے والی سرد جنگ نے عسکری امور، نظریات، نفسیات، صنعت، تکنیکی ترقی،خلائی دوڑ، دفاع، روایتی وجوہری ہتھیاروں میں مسابقت سمیت مختلف شعبہ ہائے حیات  کو اپنے زیر اثر لے لیا تھا۔ حالانکہ امریکہ اور سوویت یونین دوسری جنگ عظیم میں جرمنی کے خلاف متحد تھے لیکن نظریات وعزائم کے اختلاف کی وجہ سے دونوں بالواسطہ ایک دوسرے سے برسر پیکار تھے۔

مزید پڑھیں >>

اسرائیل سے نفرت کیوں؟

اسرائیل نے اس دوران مسلسل کوشش کی ہے کہ بیت المقدس پر اس کے قبضے کو جائز تسلیم کیا جائے اور یروشلم کو غیر متنازعہ شہر قرار دے کر اسرائیل میں شامل قرار دیا جائے؛ لیکن عالمی رائے عامہ اس کے اس موقف کو قبول نہیں کر رہی۔ 1995ء میں جب اسرائیل نے یروشلم کو اپنا دارالحکومت قرار دیا تو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 5دسمبر 1995ء کو بھاری اکثریت کے ساتھ قرار داد منظور کر کے اسرائیل کے اس اقدام کو غیر قانونی قرار دے دیا اور واضح طور پر کہا کہ یروشلم کی حیثیت ایک متنازعہ شہر کی ہے اور باقاعدہ فیصلہ ہونے تک یہ متنازعہ شہر ہی رہے گا۔

مزید پڑھیں >>

جھوٹ اور لوٹ پر قائم ملک اسرائیل!

یہود، مسلمانوں اور عیسائیوں کی طرح، مسیح ابن مریم علیہ ا لسلام کے نہیں ، ابلیس کے نمائندے دجال  کے منتظر ہیں جو حضرات عیسیٰ و مہدی علیہم ا لسلام کی آمد سے قبل آئے گااور اپنے ’مسیح موعود ‘اور بعض کے مطابق ’مہدی موعود ‘ ہونے کا جھوٹا دعویٰ کرے گا۔ لیکن عیسائیوں کو دھوکے میں رکھنے کے لیے انہی کی طرح یہود  بھی ’مسیح موعود ‘ کے منتظر ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں ۔

مزید پڑھیں >>

 عالمی ایٹمی جنگ: پس پردہ اسرائیلی مفادات

تیسری عالمی جنگ کب ہونی ہے، یہ تو عالمی حالات اور عالمی رہنماؤں کی بصیرت پر منحصر ہے، لیکن ہنری کسنجر نے مسلمانوں کو خبردار کر دیا ہے کہ اسرائیل اُنہیں تباہ کر دے گا، اِس لئے اب مسلمان حکمران بھی آنکھیں کھولیں اور آپس کی لڑائیوں اور تنازعات کو فراموش کرکے اور خیر باد کہہ کر آئندہ کے حالات کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار ہو جائیں، ورنہ اسرائیل کے جو عزائم ہیں، اُن سے تو ہنری کسنجر نے پردہ اُٹھا ہی دیا ہے۔

مزید پڑھیں >>

 امریکہ برطانیہ تعلقات میں کھنچاؤ

عالم انسانیت ان کے خونین پنجوں میں سسک سسک کر عرصہ حیات پوری کررہاہے۔ استعمار کے درمیان یہ دراڑیں اقوام عالم کے لیے گھپ اندھیرے میں روشنی کی پھوٹتی ہوئی ایک خوش آئند کرن ثابت ہوگی۔ ان دونوں ممالک کے بل بوتے پر عالم اسلام پر مسلط مصنوعی قیادت بھی بہت جلد کمزوری کاشکارہوچکے گی اوریوں اسلامی نشاۃ ثانیہ کی منزل قریب تر آ لگے گی۔ اﷲتعالی نے چاہاتوآنے والا دورامت مسلمہ کی قیادت میں کل انسانیت کے لیے رحمت و برکت اور امن واستحکام کاحامل ہوگا، انشااﷲتعالی۔

مزید پڑھیں >>

اسلامی جمہوریہ پاکستان کے بارے میں امریکی عزائم

 پاکستان دشمنی کااس سے بڑھ کراورکیاثبوت ہوگاکہ امریکی صاحب کتاب نے سی پیک منصوبے کی شاہراہ کوامریکی مفادات کے لیے بہت سنجیدہ خطرہ قراردے کر اس منصوبے کے خلاف سخت اقدامات پرزوردیاہے۔ امریکہ جیسا اتنابڑاملک اور دنیاکی واحدسپرپاورکوہزاروں میل دورسات سمندرپارایک سڑک کی تعمیرپر نامعلوم اپنی جان کے لالے کیوں پڑ گئے ہیں ؟؟؟صاحب کتاب نے پرزورطورپرسفارش کی ہے کہ سی پیک سے امریکی دفاعی مفادات بری طرح حرج ہوں گے۔

مزید پڑھیں >>

طاقت ہتھیاروں میں نہیں ہوتی

جنوری ؍ فروری۱۹۷۹میں ایران میں انقلاب رونما ہوا۔محمد رضا شاہ پہلوی کے اقتدار کا سورج غروب ہوا اور لاشرقیہ لا غربیہ اسلامیہ  اسلامیہ کا نعرہ لگانے والے امام خمینی افق اقتدار پر طلوع ہوئے۔مگر مغرب نے انھیں برداشت نہ کیا۔ پہلے چند سال مغرب نے اس نوزائداہ حکومت کو نیست و نابود کرنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگا دیا۔ پورے ملک میں جو ممکن تھا خون خرابہ کرایا گیا۔ یہاں تک کہ پوری پارلیمنٹ اور صدر مملکت کو ایک دہشت گردانہ حملے میں اڑا دیا گیا۔ اور ’’معصوم‘‘ مغرب کو اس وقت نہ ایران میں دہشت گردی نظر آتی تھی نہ افغانستان میں ۔کیونکہ دہشت گردی کرنے والے مغربی اور عیسائی تھے۔ اور شکار مشرقی اور مسلمان تھے۔

مزید پڑھیں >>

ایران میں خانہ جنگی استعماریت کی ایک ناکام کوشش

استعماری طاقتیں ہر محاذ پرمسلسل ایرانی قوم کے عزائم اور انکی جوانمردی کے سامنے گھٹنے ٹیکتی آئی ہیں۔ فلسطین کا دیرینہ مسئلہ ہو یا پھر یمن، شام، لبنان اور عراق کی جنگ میں انکی ناکامی کا طویل سلسلہ ہو ہر محاذ پر ایرانی حکومت کی منصوبہ بندیوں نے استعماری سازشوں کو شکست دی ہے۔ ظاہر ہے زخم کھایا ہوا دشمن ہمیشہ موقع کی تاک میں رہتاہے۔ یہ موقع دشمن کے ہاتھ لگا بھی مگر ایک بار پھر ایرانی قوم کے عزائم اور داخلی پالیسی سازوں نے انہیں ناکام بنادیا۔ حالیہ دنوں میں ایران میں ہونے والے تمام تر مظاہروں کو دشمن نے اپنے اہداف کے حصول کا ذریعہ بنانے کی کوشش کی مگر ناکام رہے۔

مزید پڑھیں >>

کیا امریکہ بھی ٹوٹ جائے گا؟

امریکی قیادت اور اس ملک کی خفیہ ایجنسیوں نے دنیابھر میں آزادی پسند تحریکوں کو ہوا دے رکھی ہے، دیگرممالک کے اندر ونی معاملات میں مداخلت یہ ملک اپنا حق حکمرانی سمجھتاہے،جمہوریت،انسانی حقوق،معاشی قرضے وغیرہ اور اب دہشت گردی کے نام پر امریکہ کی دوسری دنیاؤں میں دراندازی ایک عالمی حقیقت بن چکی ہے۔ ایک طرف علیحدگی پسندوں کو زیرخانہ بھاری امدادفراہم کرناتو دوسری طرف ملکی قیادت کو علیحدگی پسندوں کا خوف دلاکر ان سے اپنے مذموم مقاصدپورے کراناامریکی خارجہ پالیسی کا سب سے بڑا اصول نظر آتاہے۔

مزید پڑھیں >>

سعودی حکومت کی خاموشی منصوبہ بندہے!

اس وقت دنیا بھرکے مسلمانوں میں یہ سوال گہراتا جارہاہے کہ یروشلم معا ملے میں ٹرمپ کے فیصلے کے خلاف باضابطہ طور پر احتجاج کرنے کے ساتھ ساتھ اگر سعودیوں نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کردیے توعالم اسلام کی مشرق وسطیٰ کے حوالے سے پالیسی کا کیا ہوگا؟ یہ سوال شاید اتنا بے تکا ہے نہیں جتنا کہ یہ لگتا ہے۔

مزید پڑھیں >>