نقطہ نظر

ہندوستانی مسلمانوں کی ذمہ داری

اگر اس وقت پورے ہندوستان کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوگا کہ چھوٹے چھوٹے عہدوں سے لیکے بڑے بڑے عہدوں تک ہر جگہ سنگھ کے آدمی بیٹھے ہوئے ہیں ، ہندوستان کے لئے اس سے زیادہ بدقسمتی کی بات کیا ہے کہ ہندوستان کے سب سے زیادہ معزز اور محترم تینوں اعلی عہدوں پہ بھی انہیں کے لوگ فائز ہیں ، یہ سب کیسے ہوا، کیوں ہوا، اس کی پوری الگ داستان ہے، ہاں بنیادی بات صرف اتنی سی ہے کہ کل کی وہ تنظیم جس پہ کبھی پابندی عائد تھی اور جسے عام آدمی ملک مخالف تسلیم کیا کرتے تھے، وہی آج ملک کے سیاہ وسفید کی مالک اور سب سے بڑی نیشنلسٹ پارٹی ہے.

مزید پڑھیں >>

مقابلہ تو دل ناتواں نے خوب کیا

گجرات الیکشن اپنے اختتام کو پہنچ گیا۔۔۔بی جے پی کی شرمناک جیت ہوئی اور کانگریس ہار کر بھی جیت گئی۔ بی جے پی ۱۸۲ سیٹوں میں سے ۹۹ سیٹوں پر سمٹ گئی اور راہل گاندھی ناٹ آئوٹ ۷۷ رہے، باقی سیٹیں دیگر پارٹیوں کو ملیں۔ اس الیکشن سے سیکولر پسند عوام کو بہت ساری امیدیں وابستہ تھیں، لوگوں کو ایگزٹ پول پر یقین نہیں تھا کہ بی جے پی جیت جائے گی اور چھٹی مرتبہ اپنی حکومت وہاں بنائیں گی، لوگ راہل گاندھی، ہاردک پٹیل اور جگنیش میوانی کی قیادت پر یقین کرتے ہوئے اسے بی جے پی کے پالے سے دور رکھناچاہتے تھے، لیکن ای وی ایم کی مہربانی، لیڈران کی اشتعال انگیزی، ایس پی بی ایس پی کا ایم آئی ایم والا رول اور دیگر اہم وجوہات نے الیکشن کو ہندو مسلم  بناکر بی جے پی کو کراری جیت سے ہمکنار کرایا۔

مزید پڑھیں >>

سعودی عرب میں شہزادوں کی تعداد

رپورٹ کے مطابق سعودی شہزاد ی اور شہزادیاں اس حد تک خرچ کرتے ہیں کہ پیرس میں ایک سعودی شہزادی نے 2009ء میں 30 ملین امریکی ڈالر کی شاپنگ کر ڈالی مشرق وسطی میں اٹھنے والی شورش کے بعد سعودی عرب کے سابق بادشاہ شاہ Prince Abdullah نے عوام کو مطمئن رکھنے کے لئے 130 ارب امریکی ڈالر کی مراعات دی تھیں۔ جبکہ موجودہ بادشاہ  Salman نے اقتدار سنبھالتے ہی عوام کو 32 ارب ڈالر کا پیکج دے رکھا ہے۔

مزید پڑھیں >>

خوشگوار تعلقات: ہند و پاک کی ضرورت

ہندستان کی حکومت جس پارٹی یاگروپ کے ہاتھ میں ہے اس کی پالیسی اورسیاست ہندوپاک کے خوشگوارتعلقات کے خلاف رہی ہے۔ یہ پارٹی مہاتما گاندھی جیسی شخصیت کوبھی اس لئے بخشنے کے لئے تیارنہیں ہوئی کہ وہ شخصیت ہندستان اورپاکستان کے اچھے اورخوشگوار تعلقات کی علمبردارتھی اورہندومسلمان کے تعلقات کو بھی بہتربنانے کی جدوجہدکررہی تھی۔ مذکورہ گروپ گاندھی جی کی کوشش پرنہ صرف پانی پھیردیابلکہ گاندھی جی کی جان کے دشمن ہوگیا اورگاندھی کواس راہ میں اپنی جان سے ہاتھ دھوناپڑا۔

مزید پڑھیں >>

زعفرانیت کا عروج اور مسلمانوں کیلئے مخلصانہ پیغام

ہونا یہ چاہئے کہ ہم پھر سے پہلی اسلامی دعوت کے اصول و طریقہ کار کے مطابق مسلمانوں کو ایمان کی دعوت اور اللہ ورسول صلی اللہ علیہ وسلم اور آخرت کے عقیدہ کی پوری طاقت کے ساتھ دوبارہ تبلیغ وتلقین کی جائے، وہی اعتماد واعتقاد بحال کیا جائے، اور اس کے لئے وہ سب راستے اختیار کئے جائیں جو اسلام کے ابتدائی داعیوں نے اختیار کئے تھے، اور عصر جدید کے وسائل وذرائع سے بھی بھرپور استفادہ کیا جائے،

مزید پڑھیں >>

سامراجی طاقتوں کو امن نہیں جنگ چاہئے!

برطانیہ کے معروف تجزیہ نگار ’’مائیکل ٹائٹ‘‘ جو عرب معاملات کے ماہر اور مشیر ہیں انھوں نے اپنے خیال کا اظہار کرتے ہوئے تحریر کرتے ہیں کہ۔’’ایران تاریخی طور پرکافی اثر ورسوخ رکھنے والا ملک ہے،ایران اور سعودی عرب میں کشیدگی کی ایک بڑی وجہ مذہب بھی ہے،ان کے مطابق سعودی عرب ایک سنی ملک ہے اور ایران ایک شیعہ اکثریت والا ملک ہے،دونوں ممالک دوسرے ممالک میں اپنے ساتھیوں کی حمایت کرتے ہیں لہذا سعودیہ اور ایران میں کشیدگی کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے، اور گزشتہ چند برسوں میں ایران سعودیہ پر اپنی بڑھتی ہوئی طاقت کی وجہ سے بھاری دکھائی پڑ رہا ہے،اور کئی عرب ممالک ایران کے ساتھ کھڑے ہوئے نظر آرہے ہیں ،جس کی وجہ سے سعودی عرب الگ تھلگ سا دکھائی دے رہا۔‘‘

مزید پڑھیں >>

گجرات کے تین جواں سال لیڈروں کا مودی کو چیلنج

مودی جی پورے انتخابی مہم میں فرقہ وارانہ مسئلہ کو اٹھاتے اٹھاتے جب تھک گئے تو راہل گاندھی پر نشانہ سادھا کہ وہ ہندو نہیں ہیں غیر ہندو ہیں۔ مسلمان کے لڑکے ہیں اور ان کے باپ دادا بھی مسلمان تھے اور یہ کانگریس پارٹی مسلمانوں کی پارٹی ہے۔ اگر کانگریس جیت گئی تو احمد پٹیل گجرات کے وزیر اعلیٰ ہوں گے اور مسلم راج واپس آجائے گا اور ہندو ئوں پر ظلم و ستم ہونا شروع ہوجائے گا۔ یہ پروپگنڈہ کرنا شروع کردیا۔

مزید پڑھیں >>

جمہوریت اور اس کے مبنیِ کفر فاسد اصول

تمام مسلمان، تمام فرقے، تمام گروہ، تمام اسلامی ریاستیں اپنے تمام باہمی اختلافات اور ماضی کی تلخیوں کو بھلا کر اللہ عزوجل اور اس کے پیارے رسول ﷺ کے نام پر، ان کی رضا کی خاطر، صرف اور صرف اسلام اوراہل اسلام کی عظمت، سربلندی، عزت ووقار اور سلامتی و بقاء کی خاطر ایک مرکز پر اکٹھے ہو جائیں ، آپس میں باہمی تعاون، اتحاد، اتفاق،اخوت، ہمدردی و مساوات کو فروغ دیں کیونکہ آج جتنی ہمیں ان چیزوں کی ضرورت ہے شاید کہ اس سے پہلے کبھی نہ تھی۔

مزید پڑھیں >>

سیاسی ٹھگ

قبل اس کے کہ لوگ اپنی ہار پر سنجیدگی سے غور کرپاتے، کچھ سیاسی ٹھگ ای وی ایم کو ایک بار پھر خبروں میں لاکر دھیان ہٹانے کی کوشش کر رہے ہیں، جبکہ صاف صاف دکھ آیا ہے کہ کانگریس کو کچھ نشستوں پر صرف سو کالڈ مہا سیکولر فورسز کو حاصل ہونے والے ووٹوں نے ہرایا ہے،، رہی سہی کسر آزاد سیکولر امیدواروں نے پوری کردی ہے اور ان نشستوں کی تعداد اتنی ہے، جتنی کانگریس کو واضح اکثریت کے لئے مطلوب تھی، یہ بتاتا چلوں کہ مجھے کانگریس کا حمایتی بھی نہ سمجھا جائے۔

مزید پڑھیں >>

ملت اسلامیہ کو ایسے کسی ’برج کورس‘ کی ضرورت نہیں!

برج کورس کے قائم کرنے کا مقصد یہ بتایاگیا تھا کہ ’’ فارغین مدارس کو علوم عصریہ سے اس حد تک واقفیت کرادی جائے کہ وہ یونی ورسٹیوں کے کسی بھی شعبے میں بہ آسانی داخلہ لے سکیں ‘‘۔(ص۸)  لیکن کتاب کا مطالعہ سے یہ بات سامنے آتی ہے  اس شعبے کے ذریعے طلبہ کو مدارس، اہل مدارس اور ملت اسلامیہ سے بد ظن کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ مسلم یونی ورسٹی کے ارباب حل و عقد کو سنجیدگی سے اس کا نوٹس لینا چاہیے اور برج کورس کے قیام کے مقصد کے حصول کی تدابیر اختیار کرنے کی فکر کرنی چاہئے۔ 

مزید پڑھیں >>