منطق و فلسفہ

انسان اور زمین کی حکومت (قسط دوم)

ابلیس کی والدہ کا نام "نبلیث" تھا جو قوم جنات کی سب سے زیادہ طاقتور مادہ تھیں کہ کئی سو کا مقابلہ کر سکتی تھی ان کے چہرے کی ساخت جیسے مادہ بھیڑئیے کا چہرہ ہوتا ہے (واضح رہے کہ جنات کی شکلیں مختلف ہوتی یا ہو سکتی ہیں اور یہی ان کی پہچان اوپر بیان کی گئی کہ وہ کسی بھی صورت میں متشکل ہو سکتے ہیں ) ان دونوں کے بارے مشہور تھا کہ جس قوم میں چلیپا اور نبلیث ہوں وہ کبھی ہار نہیں سکتی کوئی قوم ان کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔

مزید پڑھیں >>

دے جا وُو: فطرت کا سر بستہ راز

تقریباً ہرانسان 'دیجا و ُو' کے تجربہ سے گزرتاہے۔ لیکن علم کی پوری تاریخ میں آج تک اس مظہر کو سمجھنے کے لیے جس قدر بھی مفروضے قائم کیے گئے  ہیں ان میں سے کسی ایک پر بھی سچے دل سے ایمان لانے کو جی نہیں چاہتا۔ صرف میرے ساتھ یہ معاملہ نہیں ، کسی انسان کو بھی اُن توجیہات پر یقین نہیں آتا جو آج تک کسی بھی زبان، مذہب یا علم کی شاخ کی طرف سے پیش کی گئی ہیں ۔ اس سے پہلے کہ ہم "دیجاو ُو" کو سمجھنے کی  ناکام کوششیں کریں ۔ قبل ازیں جو کوششیں ہوچکی ہیں ، اُن پر  پہلے ایک نظر ڈال لیتے ہیں۔

مزید پڑھیں >>

انسان اور زمین کی حکومت (قسط اول)

ایسی لاتعداد کہکشائیں آسمانوں میں موجود ہیں جس تک سائنس کی دسترس اب تک ممکن نہیں ہوئی اللہ ہی ہے اس کا خالق اور بنانے والا ہے۔ مکہ کے کافر رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہتے تھے کہ اللہ کیسے پیدا کرے گا انسان کو جب وہ مٹی میں غرق ہو جائیں گے بلکہ مٹی میںگل مل جائیں گے تو اس پر اللہ کافروں سے فرماتا ہے انسان کو دوبارہ پیدا کرنا مشکل ہے یا اس اتنی بڑی کائنات کو پیدا کرنا بڑا کام تھا۔ یہ ذہن میں رہے کہ کافر بھی مانتے تھے کہ کا ئنات کا خالق اللہ ہے۔

مزید پڑھیں >>

ہیگل کا تصور ارتقائی شعور اور ابجیکٹ کی حقیقت

یونیورسل صفات کا وہ دنیا (ورلڈ) جس کو انڈرسٹنڈنگ گرفت میں لیتا ہے،  ان یونیورسل صفات کا ظہور   appearance کہلاتا ہے جب کہ اس اپیرنس سے آگے (beyond ) ابجیکٹ کے خالص یونیورسل صفات کی دنیا کو ہیگل inner world of being کہتے ہیں... یہ انر ورلڈ فورسز اور لاز کے زریعے appearance ورلڈ سے پرویا ہوا ہے . ابجیکٹ کے اندر شعور کی رسائی اپیرنس یا انر ورلڈ اف بینگ کو انڈرسٹنڈنگ اپنی گرفت میں لیتی  ہے البتہ ان کنڈیشنل یونیورسل صفات، فورسز و لاز، انر ورلڈ اف بینگ  سب مابعد الطبعیاتی بحث ہے .

مزید پڑھیں >>

انسانی ذہن، ایک عضو معطل

میرا خیال ہے کہ انسان اخلاقی طور پر اس قدر بہتر ہوجائیگا کہ پوری زمین پر شاید ہی کوئی انسان کسی انسان کا قتل کرے۔ شاید ہی کوئی لڑائی جھگڑا باقی رہے۔ ۔میرے دوست کہتے ہیں خواب دیکھنے کا کوئی بل نہیں آتا۔ لیکن اوپٹمسٹک تھیوریز کے حق میں دلائل دینے کے لیے میرے پاس اس کالم میں جگہ نہیں۔ شاید آئندہ کسی کالم میں، میں اس پر تفصیل سے لکھ سکوں۔

مزید پڑھیں >>

معنی کہاں واقع ہے؟

ڈی کنسٹرکشن تاریخ ِ تنقید میں ’’سٹرکچرلزم‘‘ کے بعد نمودار ہوئی ہے۔ سٹرکچرلزم جسے اردو نقاد ’’ساختیت‘‘ کے نام سے جانتے ہیں بنیادی طور پر ساخت کرنے کا عمل ہے، یعنی کسی بھی لفظ، جملے یا تحریر کے معانی ساخت کرنا۔ آسان الفاظ میں کسی لفظ کے معنی پیدا کرنا۔ اس لفظ میں معنی ڈالنا۔ سٹرکچرلزم خود ایک بہت بڑی تحریک تھی جو کسی تحریر کی ساخت پر توجہ مرکوز کرتی تھی۔ سٹرکچرلزم یہ دیکھتا تھا کہ کسی تحریر کی ساخت کس انداز میں معنی مہیا کررہی ہے۔ لیکن ڈی کنسٹرکشن اس کے برعکس سوچتی ہے۔ وہ کہتی ہے کہ سٹرکچرلزم کو بظاہر جو معنی دکھائی دیتے ہیں وہ فی الحقیقت اُسی تحریر کے  عمیق تر مطالعہ سے فنا ہوجاتے ہیں۔

مزید پڑھیں >>

نظریات کی جنگ خواہش سے پوری نہیں ہو سکتی!

ان حالات میں وقت کی آواز یہی ہے کہ جو لوگ مکھوٹا لگاکر جھوٹ کو سچ اور سچ کو جھوٹ ثابت کر رہے ہیں، ان کی اصل شکل واضح کی جائے لیکن شرط یہ ہے کہ وہ افرد اورگروہ جونظام عدل و انصاف کے قیام کا نعرہ بلند کر تے ہیں قبل از وقت خود انفرادی و اجتماعی ہردو سطح پر وہ نمونہ پیش کریں جس کے وہ خواہش مند نظر آتے ہیں !

مزید پڑھیں >>

مغربی سائنس اور فلسفہ الحاد

مغربی سائنس نے (سائنس کے موضوعات کے سیاق میں ) عالمِ غیب کو تسلیم نہیں کیا ہے۔ اسی طرح شعورِ حیات کے مستقل وجود کا (جو محض مادے کی کسی خاص کیفیت کا نام نہیں ہے) ادراک نہیں کیا گیا ہے۔ اس لیے حیات اور مظاہرِ حیات کی موزونیت اور ان کے اندر پائے جانے والے حسن و تناسب کی کوئی تشریح نہیں ہوپاتی۔ مغربی سائنس نے اس توجیہ کے لیے نظریہ ارتقاء کو پیش کیا ہے۔ انیسویں صدی کے وسط میں ڈارون نے اس نظریے کی ابتدائی شکل بیان کی۔ پھر بعد کے محققین نے اس میں اہم اضافے کیے۔ ہاکنگ جیسا ذہین ناقد بھی ارتقاء کا قائل ہے اور ارتقاء کا نظریہ، الحاد کے فلسفے کے لیے سہارے کا کام کرتا رہا ہے۔

مزید پڑھیں >>

فلسفیانہ طرزِ فکر کی ضرورت و اہمیت!

سماجیات، منطق، لٹریچراورعلمِ نفسیات فلسفیانہ طرزِفکر کو آگے بڑھانے میں مدد کرتے ہیں ،جہاں تک ممکن ہو،ہمیں بحث ونقاش کی مجلسوں میں شریک ہونا چاہیے اورہمارا مقصد مباحثے میں جیت حاصل کرنے کی بجاے اپنی صلاحیت ِ فکرکو بڑھانا ہو۔یہ ایک حقیقت ہے کہ اگر ہم سب فلسفیانہ طرزِ فکر کے حامل ہوتے، تو سال بہ سال ان نیتاؤں کے ذریعے دھوکہ نہ کھاتے۔

مزید پڑھیں >>

دانشوری کا عذاب!

عالم نقوی دانشوری کا ایک عذاب یہ بھی ہے کہ وہ اکثر خالق ِکائنات کے انکار پر ختم ہوتی ہے اور حکمت ،دانائی اور Wisdomکی اس منزل تک بھی نہیں پہنچ پاتی جہاں وہ جاہل بڑھیا تھی جس نے کہا …

مزید پڑھیں >>