منطق و فلسفہ

مغربی سائنس اور فلسفہ الحاد

مغربی سائنس نے (سائنس کے موضوعات کے سیاق میں ) عالمِ غیب کو تسلیم نہیں کیا ہے۔ اسی طرح شعورِ حیات کے مستقل وجود کا (جو محض مادے کی کسی خاص کیفیت کا نام نہیں ہے) ادراک نہیں کیا گیا ہے۔ اس لیے حیات اور مظاہرِ حیات کی موزونیت اور ان کے اندر پائے جانے والے حسن و تناسب کی کوئی تشریح نہیں ہوپاتی۔ مغربی سائنس نے اس توجیہ کے لیے نظریہ ارتقاء کو پیش کیا ہے۔ انیسویں صدی کے وسط میں ڈارون نے اس نظریے کی ابتدائی شکل بیان کی۔ پھر بعد کے محققین نے اس میں اہم اضافے کیے۔ ہاکنگ جیسا ذہین ناقد بھی ارتقاء کا قائل ہے اور ارتقاء کا نظریہ، الحاد کے فلسفے کے لیے سہارے کا کام کرتا رہا ہے۔

مزید پڑھیں >>

فلسفیانہ طرزِ فکر کی ضرورت و اہمیت!

سماجیات، منطق، لٹریچراورعلمِ نفسیات فلسفیانہ طرزِفکر کو آگے بڑھانے میں مدد کرتے ہیں ،جہاں تک ممکن ہو،ہمیں بحث ونقاش کی مجلسوں میں شریک ہونا چاہیے اورہمارا مقصد مباحثے میں جیت حاصل کرنے کی بجاے اپنی صلاحیت ِ فکرکو بڑھانا ہو۔یہ ایک حقیقت ہے کہ اگر ہم سب فلسفیانہ طرزِ فکر کے حامل ہوتے، تو سال بہ سال ان نیتاؤں کے ذریعے دھوکہ نہ کھاتے۔

مزید پڑھیں >>

دانشوری کا عذاب!

عالم نقوی دانشوری کا ایک عذاب یہ بھی ہے کہ وہ اکثر خالق ِکائنات کے انکار پر ختم ہوتی ہے اور حکمت ،دانائی اور Wisdomکی اس منزل تک بھی نہیں پہنچ پاتی جہاں وہ جاہل بڑھیا تھی جس نے کہا …

مزید پڑھیں >>