تبصرۂ کتب

نمرہ اور نمل! (چوتھی قسط)

ہم سمجھتے ہیں کہ لوگ ہمیں بے عزت کریں گے تو ہماری عزت اور نیک نامی چلی جائے گی ہم رُسوا ہو جائیں گے ۔ ’’لوگ ‘‘ ہمارے بارے میں باتیں کریں گے تو ہم کبھی سر نہیں اُٹھا سکیں گے ۔ حالانکہ لوگوں کا تو کام ہی ہوتا ہے باتیں کرنا ۔ کسی انسان کی عزت لوگوں کی زبان سے نہیں بندھی ہوتی کہ وہ زبان کھولیں گے تو عزت زمین بوس ہو جائے گی ۔

مزید پڑھیں >>

شیخ گلاب: نیل آندولن کے ایک نایک

چنانچہ کل96 صفحات میں سمٹی اس کتاب (یاکتابچے)کو مرتب کرنے کے لیے انھوں نے اردو،ہندی اور انگریزی کے سو سے زیادہ مراجع و مصادر کو کھنگالا ہے۔ اس کتاب کے مطالعے سے نہ صرف شیخ گلاب کی قربانیوں سے آگاہی حاصل ہوتی ہے، بلکہ چمپارن ستیہ گرہ تحریک کواس کی اصل اور مکمل شکل میں دیکھنے کا بھی موقع ملتاہے۔  پوری کتاب شروع سے اخیر تک معلومات کا خزانہ ہے۔

مزید پڑھیں >>

نمرہ اور نمل! (تیسری قسط)

محبت اور عشق میں فرق ہے۔ یہ جو لوگوں نے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے ساتھ ’’عشق‘‘ کا لفظ جوڑنا شروع کر دیا ہے یہ  شاید صحیح نہیں  کیونکہ دونوں الفاظ عربی کے ہیں ۔اور عربی میں عشق کا لفظ مرد اور عورت کی ایسی محبت کے لیے استعمال ہوتا ہے جو معتبر نہیں سمجھی جاتی اس لفظ ِ(عشق) میں شرافت نہیں ہے۔

مزید پڑھیں >>

ہینگر میں ٹنگی نظمیں

ان کی نظموں کا اتارچڑھاؤاور ان میں جو کیفیت ملتی ہے و ہ اس آدمی کی نہیں جس کے بارے میں میر نے کہا ہے ، سرسری تم جہان سے گزرے ۔یہ میں دعوے سے کہہ سکتی ہوں ۔فرحان اپنے بچپن سے زندگی کو جس طرح دیکھ رہے ہوں گے ان کے لئے ہر جا جہان دیگر ہوگا ، ورنہ یہ نظمیں ان کو چھوکر گزرتی بھی نہیں ، بہت ملائم لہجے میں زندگی کے ناگوار نکتے کو بیان کرنا اور ہرہر جگہ وہ اس پڑھنے والے سے قریب ہوجاتے ہیں جو کم و بیش ان کی طرح زندگی کو شاید جھیلتا اور اگر جھیلتا نہیں تو دیکھتا ضرور ہوگا ۔

مزید پڑھیں >>

نمرہ اور نمل!(دوسری قسط)

ہوتا یہ ہے کہ ہم مشکل حالات میں انتظار کرتے ہیں کہ بھئی تنگی کے بعد آسانی آئے گی جبکہ ’آسانیاں ‘ تو اللہ نے تنگی کے ساتھ ہی فراہم کی ہوئی ہوتی ہیں مگر ہم ان کی طرف  متوجہ ہی نہیں ہوتے ۔ہم مشکل کو دیکھتے اور بس اُسی کے بارے میں سوچتے رہتے ہیں نتیجے میں اُُن ڈھیر ساری آسانیوں سے کوئی فائدہ  نہیں اُٹھاتے جو  رحمن و رحیم اللہ نے اُسی مشکل کے ساتھ ہمیں دی ہوئی ہوتی ہیں !

مزید پڑھیں >>

دینی رسائل کی صحافتی خدمات

آج وہ کتاب ختم کی ہے۔ سہیل انجم کو معلوم ہے کہ میں کتاب دیکھتا یا پڑھتا نہیں ہوں بلکہ پیتا ہوں اور اس کے بعد لکھتا ہوں اس میں وقت لگتا ہے جو میرے پاس بہت ہے۔ جس موضوع پر سہیل انجم نے کام کیا ہے وہ سو برس پر پھیلا ہوا ہے اور جتنا بڑا ہندوستان ہے اتنا ہی لمبا چوڑا ہے۔ اسی لئے انہیں سات برس لگے تب بھی اسے دیکھنے کے بعد یاد آیا کہ ابھی کافی باقی ہے۔

مزید پڑھیں >>

نمرہ اور نمل!

نمرہ احمد اپنے قبیلے کے ہر فن کار سے میلوں آگے ہیں۔ انسان شناسی اور کائنات فہمی یوں تو ادب اور فلسفے کے بنیادی موضوع ہیں لیکن اس راہ میں لوگ بھٹکتے زیادہ اور منزل پر کم ہی پہونچتے ہیں لیکن  ان کی سب سے بڑی خصوصیت  ہمارے نزدیک یہی ہے کہ وہ انسان اور اس کے نفس کو پہچاننے کی اپنی سعی جمیل میں کامیاب ہو چکی ہیں۔

مزید پڑھیں >>

عمیر منظر کا مونوگراف ’راجندر منچندا بانی‘ کا ایک تجزیاتی مطالعہ

ہمارےاردو زبان و ادب نے دیگر زبانو ں کے مقابل بہت کم عرصہ میں ایک طویل مسافت طے کی ہے۔ جو چار سے پانچ صدی کے دورانیہ سے زیادہ پر محیط و بسیط ہے۔اس کے انداز حسن قبول اور ہر دلعزیزیت اپنے ایک خاص نکتہ ارتکاز پرتدریجی طور سے دائمی ا ستمرار کی صورت مرحلہ وار پیش رفت کرتی رہی ہے۔

مزید پڑھیں >>

مجتبیٰ حسین کے بہترین سفرنامے

اس سفرنامے پر کتاب اختتام پذیر ہوتی ہے ،اسلوب سادہ ،ہلکے جملے،محاوروں کا برجستہ استعمال ،کہیں لفظ اور کہیں معنی سے پیدا ہوتا مزاح کتاب کو لاجواب کرتا ہے اور عرشیہ ندیم کا عمدہ انتخاب اور ان کا ادبی ذوق تعریف کرنے پر مجبور کرتا ہے ،کتاب ظاہری اعتبار سے بھی عمدہ ہے ،زردی مائل جدید طرز کے کاغذ کا استعمال کیا گیا ہے،اور ٹائٹل بھی خوبصورت اور لاجواب ہے ،کتاب کا مطالعہ بہت سے ملکوں کے سفر کی تمنا قلب میں پیدا کرتا ہے

مزید پڑھیں >>

خواجہ احمد عباس

زیر نظرکتاب ’خواجہ احمد عباس ‘ کے عنوان سے ابھی حال ہی میں شائع ہوئی ہے جس کے مصنف عباس رضا نیّر ہیں جنہوں نے بڑی محنت سے کچھ ایسی تفاصیل جمع کی ہیں جس سے خواجہ احمد عباس کی حیات و خدمات پر بڑی گہرائی کے ساتھ روشنی پڑتی ہے اور کچھ ایسے انکشافات کئے گئے ہیں جس سے صاحب تذکرہ کی زندگی کے ہمہ جہت پہلواجاگر ہوتے ہیں ۔

مزید پڑھیں >>