تبصرۂ کتب

علی گڑھ سے طلوع ‘فکرِ نَو’!

اسی پس منظر میں ’فکر نَو ‘ کے بنیادی نظریات کا اِحاطہ کرتے ہوئے پروفیسر شروانی  اُس کے دوسرے شمارے (ستمبر 2017) میں لکھتے ہیں کہ’’اِس کا پہلا مقصد سر سید احمد خان کی سائنٹفک سوچ کا اِحیا ہے۔ سائنٹفک سوچ کا مطلب ہے مسائل کو عقل کی روشنی میں حل کرنا اور روایت کا پابند ہو کر نہ رہ جانا ۔مسائل مَرُور ِ اَیّام کے ساتھ بدلتے  رہتے ہیں۔

مزید پڑھیں >>

جہاد اور روح جہاد

ظلم وجبر کا استیصال ہی جہاد کا اصل مقصد اور ا س کی روح ہے۔ جہاد کا اصل مقصد کشورکشائی نہیں بلکہ حق کے قیام کے لیے راہیں ہموار کرنا اور موجود رکاوٹوں کو دور کرناہے۔ اگر کوئی قوم حق اور نظام عدل کو اختیار کرتی ہے تو نظام مملکت سے دستبردار ہونا اس کے لیے ضروری نہیں۔

مزید پڑھیں >>

قافلہ کیوں لٹا؟

محمد ذکی کرمانی ہی کے لفظوں میں ’’یہ ایک عظیم کتاب ہے اور تمیم انصاری ایک عظیم مصنف۔ بعض کتابیں مطالعے کے دوران ہی قاری کا نقطہ نظر تبدیل کرتی جاتی ہیں۔ اس کتاب کو پڑھتے ہوئے میں اس کیفیت سے دوچار ہوا جو آج سے چالیس سال قبل مشہور اردو نقاد حسن عسکری کو پڑھتے ہوئے مجھ پر طاری ہوئی تھی۔ یعنی مغرب سے ہٹ کر ایک ایسے بیانیہ کا وجود اور اس کی فعالیت کا احساس جسے ہم اپنا کہہ سکیں۔

مزید پڑھیں >>

برقیؔ اعظمی کی ’روحِ سخن‘

برقیؔ اعظمی کی موضوعاتی شاعری کلاسیکی روایاتِ شعر و ادب سے پوری طرح ہم آہنگ ہے لیکن اس میں عصرِ حاضر کا رنگ بھی پوری طرح آب و تاب کے ساتھ جلوہ گر ہے۔ اعظمی صاحب کے یہاں موضوعات کے انتخاب میں ایک آفاقیت ہے۔

مزید پڑھیں >>

زندگی گلزار ہے!

 آج رشتوں کی معنویت ختم ہوتی جارہی ہے۔پیسے کی ریل پیل سے خون، پانی میں تبدیل ہوچکا ہے۔قدروں کا زوال  ہورہا ہے۔ اس سماج میں بالی وڑ اور ہالی وُڑ کا پُرفریب کلچر اب پوری طرح سماچکا ہے۔مغربیت نے ہمیں پوری طرح اپنی لپیٹ میں لیا ہے۔ اذانیں تو ہر طرف ہورہی ہیں لیکن ان اذانوں میں اب وہ’ روحِ بلالی‘ ختم ہوچکی ہے۔ ہم  نے اب بہت سے نقاب اپنی جیب میں رکھے ہیں جہاں جیسا موقع ملا وہاں ویسا نقاب پہن لیا۔ لیکن ایک وقت ایسا بھی آتا ہے کہ جب انسان کے باطن کا زنگ اور میل ان نقابوں پر اتر آتا ہے جو انسان کو شرمشار کرکے چھوڑ جاتا ہے۔

مزید پڑھیں >>

شاخ طوبیٰ: جذبۂ اندروں کا خوبصورت اظہار 

شعری تخلیقات میں نعت گوئی کا سلسلہ قدیم بھی ہے اور انتہائی دشوار گزار بھی ۔دشوار گزار اس معنی میں کہ اس صنف سخن میں دوسری اصناف کے مقابلے کچھ زیادہ ہی حزم و احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے۔  ذراسی غفلت اور بے توجہی کسی کوبھی خارج از ایمان بناسکتی ہے۔

مزید پڑھیں >>

شذرات معرفت: اللہ کی طرف بلانے والی ایک مختصرکتاب

مجموعی طور پر یہ کتاب ان افراد کیلئے انتہائی مفید اور کارآمد ثابت ہوسکتی ہے جن کے دلوں میں تزکیہ ٔ نفس کی خواہش اور ایک اچھا اور مفید انسان بننے کی آرزو ہوگی ۔ موجودہ صورتحال اور کفر و الحاد کے بڑھتے خدشات کے پیش نظر اس طرح کی کتابوں کی ضرور ت اب پہلے سے بھی کہیں زیادہ محسوس کی جارہی ہے ۔

مزید پڑھیں >>

حیات مخدوم سید اشرف جہانگیر سمنانیؒ

بدایوں میں ملا عبدالقادر بدایونی کے کتب خانے سے استفادہ کیلئے تین دن تک وہاں باریابی کیلئے مقیم رہا۔ حضرت سید اشرف جہانگیر ؒ کے حالات زندگی پر مشتمل زیر نظر کتاب پورے پلان کا ایک حصہ ہے اس میں آپ کے حالات اور واقعات کی چھان بین کی گئی ہے اور انہیں جہاں تک ممکن ہوسکا تحقیق کی کسوٹی پر پرکھنے کی کوشش کی گئی ہے ۔ ‘‘

مزید پڑھیں >>

جہاد اور روح جہاد

جہاد نام ہے ستائے ہوئے اور کچلے ہوئے مظلوموں کے آنسو پونچھنے اور ان کے زخموں پر مرہم رکھنے کا اور یہ مظلوم انسان کسی بھی رنگ و نسل ،کسی بھی قوم و مذہب اور کسی بھی زبان اور کلچر کے ہو سکتے ہیں جہاد کمزوروں اور مظلوموں کے لیے نعمت اور رحمت ہے ۔جہاد کا ظلم و فساد سے کوئی تعلق نہیں خواہ وہ نعرہ تکبیر  اور تہجد و اشراق کے ساتھ ،پرچم اسلام کو لہرا کر اور قرآن ہاتھوں میں لے کر ہی کیوں نہ ہو !

مزید پڑھیں >>

دعوہ گائیڈ

عبدالسلام صاحب کی یہ کوشش لائق تحسین ہے کہ انھوںنے اس سمت میں ایک مفید قدم اٹھایا ہے۔ اس مختصر کتاب کے عنوانات پر نظر ڈالنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ ایک اچھی کوشش ہے اور دعوتی جد و جہد کے دوران ایک Ready reference کا کام دے سکتی ہے۔

مزید پڑھیں >>