تبصرۂ کتب

طلسمات عروض: فن عروض پر سکندر احمد کی منفرد تحریر

 موجودہ دور جب ارد و ادب کیلئے ہی پرخار ہوچکا ہے ایسے میں بھلا شاعری کا مستقبل کیوں کر مستحکم رہ سکتا ہےیہ کتنا بڑا المیہ ہے آج سب سےزیادہ کتابیں شعری مجموعوں پر مشتمل ہوتی ہیں لیکن ان میں نہ عروض کا کہیں التزام ہوتا ہے نہ ہی فکری معیار کی بلندی کا جبکہ شاعری کا ان دونوں لوازمات سے مزین ہونا ضروری ہے۔ سکندر احمد کی یہ کتاب ’ طلسمات عروض، فن عروض پر ایک مستند اور تحقیقی تخلیق کا درجہ رکھتی ہے۔ امید ہے کہ اہل علم اور خصوصا ً شعراءاس سے بھرپور مستفید ہوں گے۔

مزید پڑھیں >>

شیخ رحمان اکولوی کے ’مضامین‘: ایک جائزہ

کتاب کی اہمیت حیرت انگیز انکشافات کے سبب مزید بڑھ جاتی ہے جس سے قاری کے تحیر اور معلومات میں اضافہ ہوتا ہے۔ زبان سہل اور شگفتہ ہے لیکن کہیں کہیں کمزور ہوگئی ہے اس کے علاوہ کمپوزنگ کی غلطیاں مزید الجھن پیدا کرتی ہیں جن پر قابو پانا ضروری تھا۔

مزید پڑھیں >>

نفرت کی درس گاہیں!

کتاب کی مصنفہ ایک خاتون نازیہ ارم ہیں ، فیشن ڈزائن کے فیلڈ میں سرگرمِ عمل ہیں اور TheLuxuryLabel.inنامی سائٹ کی بانی ہیں ، یہ کتاب انھوں نے بڑی ریسرچ اور تحقیق کے بعد لکھی ہے، انھوں نے ملک کے 12؍شہروں کے 100؍بچوں اور ان کے والدین سے بات چیت کی، یہ بچے اور خاندان مڈل کلاس یا اس سے اوپر کے مسلم طبقوں سے تعلق رکھتے تھے، گفتگو کے دوران انھیں پتاچلاکہ ملک کے بہت سے مشہور ترین اوراعلیٰ درجے کے سکولوں میں بھی مذہبی بنیادوں پرمسلم بچوں کی ہراسانی کے تکلیف دہ اور حیرت ناک واقعات رونما ہورہے ہیں ، انھوں نے انہی سچی کہانیوں کو کتابی شکل دے کر (بلاتفریق مذہب)ہندوستان بھر کی ماؤں کو اپنے بچوں کی تربیت کے تعلق سے فکر مندی کا مظاہرہ کرنے کی دعوت دی ہے۔ یہ اقتباس scroll.inپرشائع ہواہے، پوری کتاب ضرور پڑھنی چاہیے!

مزید پڑھیں >>

شعری مجموعے ’ظہورِ غزل‘ کا تنقیدی مطالعہ

ظہور احمد صاحب کا کمال یہ ہے کہ ان کے سامنے زبان کی خدمت اور ذاتی شعری مشق کے لیے روزگار کبھی مسئلہ بن کر رُکاوٹ نہیں بنا۔باری تعلی اور تقدیر پر انھیں مکمل یقین اوربھروسا تھا۔وسائل کی فراوانی انھیں خوب میسر رہی۔آج اُن کی کاوش اُردو دنیا کے سامنے ہے۔میں اُمید کرتا ہوں کہ ان کا یہ شعری مجموعہ اُردو غزل کے فروغ میں سنگِ میل کی حیثیت سے پذیرائی حاصل ضرور کرے گا۔آخر میں میں ظہور احمد ظہورؔ کے اس شعر پر اپنی بات ختم کرتا ہوں ۔

مزید پڑھیں >>

نورِ نبوت کی کرنیں (دروس حدیث)

مولانا عثمانی کا قلم سے بھی رشتہ قائم تھا۔ ان کے بہت سے مضامین، جن میں سے زیادہ تر احادیثِ نبوی ؐ کی توضیح وتشریح پر مبنی ہیں ، ماہِ نامہ زندگی نو میں شائع ہوئے ہیں ۔ جناب محمد اسعد فلاحی، معاون تصنیفی اکیڈمی نے زندگی کی فائلوں سے ان دروس حدیث کوجمع کردیا ہے ۔ اس سے کارکنانِ تحریک اوردیگر شائقین کوان سے استفادہ میں آسانی ہوگئی ہے۔ چندموضوعات، جن کے تحت احادیث کی تشریح کی گئی ہے، یہ ہیں : حقیقی کام یابی، نجات اورہلاکت کے اہم اسباب، اللہ سے محبت اوراس کے تقاضے، اچھا علم اور اچھا دل، دلوں کا رنگ دور کرنے کا نسخہ، ذکر اِلٰہی، توبہ واستغفار کی اہمیت، اجتماعیت کی ـضرورت و اہمیت، اسلام کا نظام سمع وطاعت، روزوں کا حقیقی انعام، قبر کا عذاب، وغیرہ ۔

مزید پڑھیں >>

جہاد اور روح جہاد

زیر تبصرہ کتاب میں مصنف موصوف نے جہاد اور متعلقات جہاد پر گفتگو کی ہے۔ جہاد کوئی نیا موضوع نہیں ہے اور  ایسا بھی نہیں ہے کہ جہاد کے موضوع پر اس سے پہلے کوئی قابل ذکر کتاب نہیں لکھی گئی۔ خود اردو زبان میں مختلف زمانوں میں جہاد کے موضوع پر متعدد کتابیں منصہ شہود پر نمودار ہوتی رہی ہیں۔ لیکن جہاد بہر حال ایک ایساحساس اور تحقیقی موضوع ہے کہ اس کے اصل معنی و مفہوم، اصل غرض و غایت، اصل روح اور درپیش حالات میں اس کے طریقہ کار کی تفہیم وتجدیدکی گنجائش بہرحال باقی رہ جاتی ہے۔ زیر تبصرہ کتاب میں جہادکی جو تعبیر و تشریح اور تفصیل بیان کی گئی ہے وہ کم از کم اردو حلقے کے لیے ایک نئی اور منفرد تحقیق ہے۔

مزید پڑھیں >>

مٹھی بھرآسمان (شعری مجموعہ)

’’مٹھی بھر آسمان، اس لحاظ سے تو مٹھی بھر ہی ہے کہ اس میں شامل نظموں اور غزلوں کی تعداد مختصر ہے لیکن اس چھوٹے سے آسمان میں اوپرتلے کئی دائرے، قوسین اور پرتیں ہیں، اس میں شادمانیوں اور المناکیوں کے گھلے ملے خطوط بھی ہیں اور حسن وعشق کے مرتسم نقوش بھی، لہو کے رشتوں کی حرارت بھی ہے اور جذباتی وابستگیوں کی تجارت بھی۔ بچھڑے ہوئے ماضی کی شادابیوں کی ایک مہک بھی ہے اور نامحتسم حسرتوں کی کسک بھی۔ اخلاقی قدروں کے زیاں کا رونا بھی ہے او ر ان کی بازیابی و بقا کے امکانی موتیوں کا اشعار میں پرونا بھی۔ کتاب کے ابتدائی صفحات میں حمدو نعت، مناجات کا تو اثر شاعر کی مذہبی و روحانی ترجیحات کا غماز بھی ہے۔ ‘‘

مزید پڑھیں >>

’مسلمانوں کے تعلیمی مسائل‘ پر ایک رہنما کتاب

یہ صحیح ہے کہ حصول تعلیم کے موضوع پر اب تک جتنا لکھا جاچکا ہےاتنا پڑھا نہیں گیا، بالفرض جوپڑھا بھی گیا، اس پر عمل بہت کم کیا گیا۔ سچ تو یہ ہے کہ مذہب اسلام کی ابتدا ہی تعلیم سے ہوئی ہے، سرور کائنات، محسن انسانیت، پیغمبر انقلاب محمد الرسول القائد ؐپر جو سب سے پہلی وحی نازل ہوئی وہ علم کے ہی تعلق سے تھی۔ جبرئیلؑ امین نےجب آپ سے کہا، اقراء (پڑھیئے) جواب میں آپ نے فرمایا ’ما انا بقاری ‘ (میں پڑھنا نہیں جانتا)، فرشتے نے پھر کہا اقراء آپ نے کہا، ما انا بقاری، اس کے بعد آپ نے ابتدائی چند آیات تلاوت فرمائیں ۔ فرشتے کے پیہم اصرار سے علم کی اہمیت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔

مزید پڑھیں >>

طلبہ کے تین دشمن

تعلیمی اداروں میں ہونے والے انعامی مقابلوں میں اس طرح کی کتابیں طلبہ میں انعام کے طور پر دی جائیں۔ اور طلبہ سے بھی ان موضوعات پر مضامین لکھنے کی ترغیب دلائی جائے۔ تعلیمی نفسیات پر آسان اردو میں کتاب ’طلبہ کے تین دشمن‘‘ کی اشاعت اور مضامین کی اشاعت پر مصنف فاروق طاہر کو مبارک باد پیش ہے۔ کتاب کی اشاعت ہدی پبلیکیشنز حیدرآباد نے انجام دی ہے۔

مزید پڑھیں >>

بصائر قرآن

قرآن مجید دنیائے انسانیت کے لیے بصیرت و بصارت اور دنیا کو امن وامان کی آماجگاہ بننے کا حقیقی ذریعہ اور راستہ ہے کیوں کہ یہ تمام انسانوں کے لیے ہدایت اور رحمت ہے۔ قرآن مجید ایک الٰہی کتاب ہے جس میں انسان کے تمام بنیادی امور کے بارے میں صاف اور واضح ہدایت ہے۔ اس کی تعلیمات روز روشن کی طرح عیاں ہیں۔ اس کتاب کا کائناتی نظریہ، تصور توحید، تصور رسالت، تصور آخرت، انبیاء واقوام کی تاریخ، تصور خلافت، زندگی کا حقیقی مقصداور وسیع تصورِ ملت واضح ہے۔

مزید پڑھیں >>