گوشہ اطفال

انسان سازی کی ابتدا!

پھر چھے سال سےتیرہ چودہ سال تک کا زمانہ جس میں بچے کی اسکولنگ ہوتی ہے یہ تقریباً فیصل ہوجاتا ہے کہ اس بچے کو آگے چل کر کیا بننا ہے۔ ’جاب زدہ مشین ‘، ’ کریر گزیدہ حیوان ‘یا پھر’دانش و حکمت کا حامل انسان ‘جو نہ صرف اپنے مقصد ِ وجود سے آشنا ہو بلکہ یہ بھی جانتا ہو کہ اُسے یہ دنیا جس حالت میں ملی ہے، اپنے بعد والوں کے لیے اس سے بھی زیادہ اچھی حالت میں چھوڑ کر اُسے جانا چاہیے۔

مزید پڑھیں >>

ہم اپنے بچوں کو کیا بنائیں؟

 ہمارے رسول ﷺ فداہ اُمی و َ اَبی تو خود ایک معلم تھے جو دنیا میں بھیجے ہی اس لیے گئے تھے کہ تمام بنی آدم کو کتاب اور حکمت Wisdomکی تعلیم دیں اور اُن کا تزکیہ کریں یعنی اُنہیں عدو مبین کی لائی اور پھیلائی ہوئی گندگیوں سے پاک کریں !

مزید پڑھیں >>

سنبھالو اپنے معصوموں کو!

 ہمارے نوجوان اس قوم کا سرمایہ ہیں اور اس امت کا جتنا نقصان ہونا تھا ہورہا ہے آنے والے دن شاید ہمیں آج سے زیادہ بدترین صورتحال دکھانے والے ہوں اس لیے لڑکوں کی تعلیم وتربیت کے متعلق معاشرے میں پھیلی ہوئی بے حسی کو اب بیدار کرنا ہی پڑے گا۔ بڑے بڑے انقلابات،رفاہی فلاح وبہبود کی زبانی جمع خرچیاں، مسلک ومذہب کی تلاطم خیز آندھیاں سب کچھ ایک طرف رکھ دیجیے!

مزید پڑھیں >>

بچے، اسمارٹ فون اور ہم

ایک بات اور بھی یاد رکھنی چاہیے کہ آج کے بچے ٹکنالوجی کے معاملہ میں آپ سے بہت زیادہ ذہین ہیں ۔ اگر آپ موبائل کے منفی پہلوئوں پر بات کرتے ہوئے ان سے کھل کر گفتگو نہیں کرتے ہیں اور کچھ موضوعات پر بات کرتے ہوئے شرم و جھجھک محسوس کرتے ہیں تو یہ بھی آپ کی بہت بڑی بھول ہے۔ بچوں کو اپنے اعتماد میں لے کر اگر آپ نے صحیح نہج پران کی رہنمائی نہیں کی تو یاد رکھیے کہ اِس اسمارٹ فون کی وجہ سے آپ کا لختِ جگر جنسی مریض، جرائم پیشہ یا مختلف قسم کے ذہنی اور نفسیاتی امراض کا شکار ہو سکتا ہے۔

مزید پڑھیں >>

اسٹریٹ چلڈرن اور معاشرہ (2)

پاکستان، بنگلہ دیش، برکینا فاسو، کمبوڈیا، کمیرون، کولمبیا، کوسٹا ریکا، ایتھوپیا، جرمنی، گانا، ہیٹی، بھارت کینیا، مالی، موریشس، موروکو، فلسطین، فلپائن، پولینڈ، رومانیہ، روس، سنیگال، سربیا، سائوتھ افریقہ، سری لنکا، تھائی لینڈ، ٹوگہ، یوگانڈا، ویتنام، زامبیا، زمبابوے، عراق، یمن، شام، افغانستان وغیرہ میں سٹریٹ چلڈرن کی بڑی تعداد موجود ہے۔ انڈیا میں اس وقت ایک ملین سٹریٹ چلڈرن ہیں۔

مزید پڑھیں >>

بچوں کے خلاف جرائم: ایک لمحۂ فکریہ

جرائم کے ریکارڈ بولتے ہیں کہ روزانہ کتنی ہی زینب وحشی درندوں کی ہوس کا شکار ہوجاتی ہیں۔ یہ انسانیت کا پست ترین مقام ہے۔ زینب کا مجرم اب بھی قانون کی گرفت میں نہیں آسکا۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ اسے بھرے پرے بازار سے اغوا کیا گیا تھا۔ اس کا مطلب ہے کہ عام لوگ مجرم کو پکڑنے میں آگے نہیں آتے ہیں۔ اس صورت حال پر ایک عبر ت انگیز واقعہ پیش کرتا ہوں جسے فیس بک پر نعیم اکرام نے نقل کیا ہے۔ اگرچہ یہ موضوع سے راست متعلق نہیں ہے تاہم ایک اہم نکتے کی طرف اشارہ ضرور کرتا ہے۔

مزید پڑھیں >>

آہ میری کتابیں

جو کتاب پڑھ نہیں سکتا اور جو پڑھنا نہیں چاہتا ان دونوں میں کوئی فرق نہیں ہے۔کہتے ہیں کہ اگر کسی قوم کے زوال یا ترقی کا اندازہ کرنا ہو تو اس کے کتب خانے اور ہوٹلز دیکھ لیں۔ اگر کتب خانے بھرے ہیں تو وہ قوم ترقی یافتہ ہے لیکن اگر ریسٹورینٹس اور ہوٹلز بھرے ہیں تو اس قوم کا اللہ ہی حافظ ہے۔ آپ کو ہزاروں روپے کی کتابیں سڑکوں پر رُلتی نظر آئیں گی لیکن جوتے شیلف میں چمکتے نظر آئیں گے۔ جو قوم کتابوں کے ساتھ یہ سلوک کرے تو اس قوم کو واقعی جوتوں کی ضرورت ہے اور وہی مل بھی رہے ہیں۔

مزید پڑھیں >>

یتیم خانہ اسلامیہ چیرکی: ایک چراغ رہگذر

  صد سالہ جشن کے موقع پر ہم مسلم یتیم خانہ، چیرکی کی طویل خدمات کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے آئندہ دنوں میں اس کی تیز رفتار وسعت و ترقی کے لئے دعا گو ہیں اور بطور خراج عقیدت بانی یتیم خانہ کی کاوشوں کے اعتراف میں  بروقت  وار د شدہ ایک شعر پر اپنی بات ختم کرتے ہیں

مزید پڑھیں >>

بہتر مستقبل کے تئیں بچوں کی تشویش

 عالمی یوم اطفال پر کیا گیا تجزیہ بتاتا ہے کہ دنیا بھر میں رہنے والے 1 سے 12سال کے بچوں کی حالت کہیں زیادہ بدتر ہے۔یہ 180 ملین بچے 37 ممالک میں رہتے ہیں۔  جہاں غریبی، تشدد، صحت کی خراب صورتحال، معیاری تعلیم تک رسائی نہ ہونا، نارواسلوک اور قدرتی آفات بچوں کی پریشانیوں کوبڑھانے کا بڑا سبب ہیں۔  دنیا کے 95 فیصد بچے دہشت گردی کو لے کر فکر مند ہیں۔  یہ بات یونیسیف کے ذریعہ کرائے گئے بھارت سمیت 13 ممالک کے سروے سے سامنے آئی ہے۔

مزید پڑھیں >>

مثالی طالب کے چند اوصاف

ایک طالب اگر اپنی زندگی میں توازن برقرار رکھے، وقت پر ہر کام کو انجام دے، منظم و اصولی زندگی بسر کرے، ذہن و دماغ کی شفافیت کے ساتھ ساتھ دل و نیت کی بھی صفائ رکھے، والدین، اساتذہ اور خود سے بڑے افراد کی عزت و احترام کرنا فرض سمجھے تو ایسے ہی صفات کے حامل طالب کو "مثالی "تصور کیا جائے گا، کیونکہ کہ ایک مثالی طالب ہی آدمیت کا تقاضا اور انسانیت کی سچی تصویر ہوتا ہے -

مزید پڑھیں >>