گوشہ اطفال

​بچوں میں بڑھتی ہوئی ہیجانی کیفیت!

تعلیمی ادارے اور اساتذہ اپنی خصوصی خدمات کی بدولت آنے والی نسلوں کو ہیجان سے دور رکھنے کیلئے عملی کردار اداکرسکتے ہیں ۔ ہم اپنی اقدار کو زندہ رکھنا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنی موجودہ اور آنے والی نسلوں کیلئے کچھ ایسی تدبیریں کرنی ہونگی جن کی بدولت معاشرہ ہیجان جیسی موذی اور مہلک مرض سے نجات پاسکے۔​

مزید پڑھیں >>

اسکو لوں کا انتخاب، ایمان و عقیدہ کی فکر کے ساتھ کریں!

مئی کا مہینہ عصری اسکولوں کی سالانہ چھٹیوں کا ہوتا ہے اور تقریبا دیڑھ ماہ کی تعطیلات کے بعد جون میں اسکولوں کا آغاز ہوتا ہے اور تعلیمی سال کی شروعات ہوتی ہے ،لیکن جون کے آنے سے قبل ہی ماں باپ اپنی اولاد کی بہتر تعلیم کے لئے اچھے سے اچھے اسکول کے انتخاب کی فکر میں رہتے ہیں ، بچے تو اپنی چھٹیوں کو گزارنے میں مصروف رہتے ہیں مگر والدین بہت ہی فکر مند ہوتے ہیں کہ اپنے بچوں کو کن اسکولوں میں داخل کروائیں اور آگے تعلیمی مرحلے کو بڑھانے کے لئے کس طرح کے اداروں کا انتخاب کریں ؟

مزید پڑھیں >>

اچھا اسکول، اچھا استاد اور تانباک مستقبل!

نپولین نے کہا تھا : تم مجھے اچھی مائیں دو ، میں تمہیں بہترین قوم دوں گا ۔ ماں کی یہ اہمیت اس لئے ہے کہ انسانوں کا بچپن ماں کی گود میں بسر ہوتا ہے اور انسان کا بچپن جیسا ہوتا ہے ۔ اس کی باقی زندگی بھی ویسے ہی ہوتی ہے ۔ لیکن بچپن صرف ایک ’’اجمال‘‘ ہے صرف ایک ’’امکان‘‘ ہے۔

مزید پڑھیں >>

حفاظتی ٹیکے اور دشواریاں

بچے کلیوں کی طرح کومل ہوتے ہیں ۔ وہ ہوا میں تیرتے وائرس اور بیکٹریا کا مقابلہ نہیں کرپاتے۔ اس لئے انہیں انفیکشن کا خطرہ زیادہ رہتا ہے۔ پہلے دنیا بھر میں ڈائریا، نمونیا، چیچک، خسرہ، ملیریا، ہیپ ٹائٹس بی، ڈپ تھیریا (گل گھوٹو، کالی کھانسی) سے بچے مرجاتے تھے۔ ٹیٹنس اور پولیو سے بھی بچوں کے اپاہج ہونے یا مرنے کا امکان رہتا ہے۔

مزید پڑھیں >>

ننھے پھول

بچوں سے مشقت لینا کسی بھی مہذب معاشرے کو ہرگز زیب نہیں دیتا۔ معاشی بدحالی، سہولیات سے محرومی، استحصال، بیروزگاری، غربت اور وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم جیسے مسائل کے باعث بچوں کو زیورِ تعلیم سے دور رکھ کر ان سے جبری مشقت لی جا رہی ہے۔ روز بہ روز بڑھتی غربت اور مہنگائی نے غریب بچوں کو اسکولوں سے اتنا دور کر دیا ہے کہ ان کیلئے تعلیم ایک خواب بن کر رہ گیا ہے۔ غریب مفلوک الحال خاندان اپنے پیٹ کی ا?گ بجھائیں یا تعلیم کے بھاری بھرکم اخراجات برداشت کریں ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت اور معاشرے کو مل کر اس کا تدارک کرنا چاہئے۔

مزید پڑھیں >>

گرمائی تعطیلات کو کار آمد بنائیے!

کیاہماری غیرت ِ ایمانی کا تقاضا نہیں ہے کہ ہمارے بچے بھی اسلامی سانچے میں ڈھل کر اور تعلیمات ِ نبوی سے آراستہ ہوکر پروان چڑھیں ؟اگر دنیا میں قابل بنانے، اعلی ڈگریاں، بلند عہد ے کے لئے ہم جد وجہد کرسکتے ہیں اوراپنی تمام تر توانائیوں کو کھپا سکتے ہیں تو اس سے بڑا اور اہم مسئلہ آخرت کا ہے، کہ آخرت کی حقیقی زندگی کو کامیاب بنانے اور والدین کے گزرجانے کے بعد بھی اولاد صحیح راستہ پر گامزن رہے تو اس کے لئے لازمی طور پر دینی تعلیم وتربیت کی فکر کرنا ضروری ہے۔

مزید پڑھیں >>

بچوں کی تربیت میں والدین کی ذمہ داریاں

بچے مالک کائنات کی انتہائی خوبصورت اور بہترین نعمت ہیں جس کا کوئی نعم البدل نہیں۔ یہ بات تو ان سے پوچھی جائے جن کو اﷲ تعالیٰ نے اس نعمت عظمیٰ سے محروم رکھا ہے۔ اس نعمت کی قدر کرنا اور ان کی تعلیم و تربیت کا بندوبست کرنا والدین کا فرض ہے۔ یاد رہے کہ اولاد کی صحیغ تعلیم و تربیت والدین کے لئے صدقہ جاریہ اور ذخیرہ آخرت ہے.

مزید پڑھیں >>

ٹیکوں سے اب بھی دور لاکھوں بچے!

ٹیکہ کاری وائرس اور بیکٹیریا سے پیدا ہونے والی بیماریوں سے بچائو کا سستا اور کارگر طریقہ ہے۔ سرکار کی جانب سے تمام ٹیکے پرائمری ہیلتھ سینٹر، سب سینٹر اور آنگن واڑی مراکز پر مفت فراہم کئے جاتے ہیں ۔ وزیراعظم محفوظ زچگی مہم کے تحت تمام حاملہ خواتین کا بچے کی ولادت سے پہلے مفت جانچ اور دیکھ بھال کا انتظام کیا جاتا ہے۔ کئی ریاستوں میں اسمارٹ کارڈ کے ذریعہ حاملہ عورتوں کی پرائیویٹ اسپتالوں میں مفت جانچ اور علاج کا انتظام بھی کیا گیا ہے۔ حاملہ خواتین کو بچے کی پیدائش سے پہلے اور اس کے بعد ٹیٹنس کا ٹیکہ دیا جاتا ہے۔

مزید پڑھیں >>

سمر اسلامک کیمپ: گھر پر، افراد خاندان کیلئے

اگر گھر ہی پر بچوں کی علمی وعملی تربیت کا اس طرز پر اہتمام ہو تو انشاء اللہ مستقبل میں بھی بچوں کی ہمہ جہت تربیت کاتسلسل باقی رہے گا‘گھر ایک تربیت گاہ بنے گا اور اسلامی تعلیمات کو سمجھنے ‘سمجھانے اور ان پر عمل کرنے کا ایک خوشگوار ماحول فروغ پائے گا۔ اللہ رب العزت ہم سب کو اپنے اہل و عیال کی احسن انداز سے تربیت کرنے اور انہیں جنت کی نعمتوں کا مستحق بنانے اور عذاب جہنم سے بچانے کی توفیق عنایت فرمائے۔آمین

مزید پڑھیں >>

جو دلوں کو فتح کر لے وہی فاتحِ زمانہ

بچے کتابوں سے کہیں زیادہ اپنے گھر اور ماحول سے سیکھتے ہیں ۔ وہ ہمارا ادب تبھی کریں گے جب ہم اپنی شخصیت کو آئینے کی طرح صاف اور اکہرا بنائیں گے۔ ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ بچے جن کا ادب نہیں کرتے وہ بڑوں میں بھی پسندیدگی کی نگاہ سے نہیں دیکھے جاتے یہ اور بات ہے کہ سماجی حیثیت یا ذاتی مفادات کی وجہ سے ہم کچھ لوگوں کو برا جانتے ہوئے بھی برا کہنے سے گریز کرتے ہیں لیکن بچوں کی آنکھوں میں نظر آنے والا چہرا ہی اصل چہرا ہوتا ہے۔

مزید پڑھیں >>