دیگر نثری اصناف

اردو کے فوجی کم اور سپہ سالار زیادہ: خدا محفوظ رکھے اس زباں کو

بے شک اردو کا ہر طالب علم اگر خود کو استاد اور سپہ سالار اور بادشاہ سلامت سمجھ رہا ہے تو اس میں وہ کس کا حق مار رہا ہے کہ جبینوں پر شکنیں پیدا ہورہی ہیں ۔ اچھا تو یہ ہے کہ سب پیادوں کو ہمارے اساتذۂ کرام ایسی تربیت دیں کہ وہ فوجی تو ہوں ہی، فوج کی قیادت کرنے کی صلاحیت بھی پیدا ہوجائے اور جب ان کی مقدر کی تختی پر بادشاہت کا تمغہ آویزاں ہونے کی نوبت آئے تو وہ اسے بھی کامیابی کے ساتھ نبھاسکتے ہوں ۔ اب نئی قیادت کا وقت آیا چاہتا ہے۔

مزید پڑھیں >>

افتخار راغبؔ کی غزل گوئی: ایک تنقیدی مطالعہ

راغب ؔکے شعری مجموعے کے ناموں کے جائزے سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے ۔ان کا پہلا شعری مجموعہ ’’لفظوں میں احساس‘‘ صرف ان کی تخلیقی ہنر مندی کا اظہار نہیں بلکہ ان کے تنقیدی شعور کا بھی اعلانیہ ہے۔  یہ آسان کام نہیں ہے۔ انسانی زندگی کے پورے نظامِ تعلق اس کے حادثات اور تجربات کو احساس کے نئے نئے سانچے میں ڈھال کر اس طرح پیش کرنا کہ وہ عام انسانوں کے احساسات کا حصہ بن جائے ۔یہ بڑی بات ہے۔

مزید پڑھیں >>

روایت اور جدّت کا خوبصورت امتزاج: افتخار راغبؔ

 بالعموم بہت کم شعر ایسے ہوتے ہیں جو پڑھتے ہی قاری کے ذہن پر نقش ہو جائیں اور ضرب المثل بننے کی خصوصیت رکھتے ہوں ۔ اس بھیڑ میں چند شعراء ہی ایسے ہیں جنھوں نے اپنی محنت لگن اور دیانتداری سے وادیِ سخن میں اپنا جداگانہ مقام پیدا کیا ہے۔ انھیں میں ایک افتخار راغبؔ صاحب ہیں جن کے زیادہ تر اشعار تاثر اور تاثیر سے لبریز ہیں

مزید پڑھیں >>

افتخار راغبؔ کی غزل گوئی: ایک تنقیدی مطالعہ

اگر افتخار راغبؔ کی شاعری کا مطالعہ کیا جائے تو صاف اندازہ ہوتا ہے کہ وہ دبستانِ میرؔ کے شاعر ہیں یعنی وہ احساسات کی تازہ کاری سے معنی آفرینی کی کوشش کرتے ہیں ۔ اس سلسلے میں وہ کبھی بہت کامیابی سے یہ کام کرجاتے ہیں اور اس کے لیے وہ تشبیہ، تلمیح اور استعارے کا بھی استعمال کرتے ہیں البتہ کبھی پرانے احساسات کی تکرار تک محدود  رہ جاتے ہیں ۔ ہر شاعری میں بلند و پست کی مثالیں مل جاتی ہیں ۔راغب ؔکے شعری مجموعے کے ناموں کے جائزے سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے ۔

مزید پڑھیں >>

 اردو کے زندانی ادب پر ایک طائرانہ نظر

اردو زبان و ادب کاکوئی طا لب علم اس بات سے ناآشنا نہیں ہو سکتا کہ دنیا کی دیگر عظیم اور وسیع زبانوں کی طرح اس کا دامن بھی متعدد اصناف سخن سے مالا مال ہے ،اور صرف یہی نہیں ؛بل کہ ہر مرکزی صنف کے تحت ذیلی انواع اور ضمنی گوشوں کی ایک پوری کہکشاں باہمہ رخشندگی وتابندگی آباد ہے

مزید پڑھیں >>

عندلیب گلشن نا آفریدہ، پروفیسر نیر مسعود

 آج میں ایسی ہی ایک شخصیت کا تذکرہ کررہا ہوں جو فکشن نگاری کے میدان کا ایک ایسا شہسوار تھا جس نے اپنی فکری جولانی طبع سے ایسے شاہکار تخلیق کئےجس نے اپنے عہد کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا ۔اس شخص کو ہمارے اردو کے ادبی سماج میں پروفیسر نیر مسعود کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ان کی ولادت 1936 کو لکھنو میں ہوئی اور ان کا انتقال 24؍جولائی 2017 کو ہوا،انھوں نے 81 ؍سال کی عمر پائی،اور ان کے والد ادبی دنیا کی ایک ممتاز شخصیت تھے۔

مزید پڑھیں >>

اردو تلفظ و املاء کے چند اہم مسائل (قسط دوم)

اس قسم کے الفاظ کا املاءجب مختلف دیکھا تو ذہن میں سوال پیدا ہوتا کہ درست املا ءکیا ہے ؟ اس کا جواب مولانا ابوالکلام آزاد کی معروف زمانہ کتاب غبار خاطر کا مقدمہ از قلم مالک رام پڑھنے کے بعد ملا۔ مالک رام کے بیان کردہ اصول کو سمجھنے سے پہلے ایک ضابطے کا سمجھنا ضروری ہے۔ جب ہم کسی دوسری زبان کے لفظ کو اردو میں لکھیں گے تو ممکنہ طور اس کی تین صورتیں ہو سکتی ہیں :1۔حرف کے بدلے میں حرف:جیسے انگریزی لفظ catمیں تین حروف ہیں ،اس کو اردو میں ’کیٹ‘ لکھا جاتا ہے۔

مزید پڑھیں >>

سعودعثمانی: کہتاہے ہراک بات مگرحسنِ ادب سے

یقیناً ہم جب سعودعثمانی کی شاعری سے روبروہوتے ہیں، توایسا محسوس ہوتاہے کہ اس کے اندر ایک مقناطیسی صلاحیت  ہے، جوہمیں اپنی طرف کھینچ رہی ہے۔ ان کے شعری موضوعات اور جہتوں میں بھی بے پناہ تنوع ہے ، بطورِ خاص اپنی ذات کے اندرون و بیرون کی دریافت اور عرفانِ خودی کے حوالے سے سعودعثمانی کے اشعارکچھ الگ پہلووں سے آشناکرواتے ہیں

مزید پڑھیں >>