دیگر نثری اصناف

مرزا اسداللہ خان غالب (آخری قسط)

مرزاکےاخلاق نہایت وسیع تھے،وہ ہرایک شخص سےجوان سےملنےجاتاتھا،بہت کشادہ پیشانی سےملتےتھےجوشخص ایک دفعہ ان سےمل آتاتھااس کوہمیشہ ان سےملنےکااشتیاق رہتاتھا.دوستوں کودیکھ کروہ باغ باغ ہوجاتےتھےاوران کی خوشی سےخوش اوران کےغم سےغم گین ہوتےتھے،

مزید پڑھیں >>

مادری زبان کی اہمیت

انسانی ذہنی نشوونما میں مادری زبان کی اہمیت مسلمہ ہے جس سے انکار نہیں کیاجاسکتا ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنی مادری زبان اردوجس کے الفاظ شیریں اور اس کی خاصیت ہر فرد کو گرویدہ کرنے کی ہے ،کو اپناتے ہوئے اپنے بچوں کو مادری زبان میں تعلیم دلائیں اور یہ بات ہمیشہ یاد رکھیں کے مادری زبان سے فرار نا ممکن ہے کیونکہ مادری زبان سے متعلق ماہرین نے کئی تجربات کئے ہیں

مزید پڑھیں >>

اردو زبان سے  ہمارا تعلق: عالمی یوم مادری زبان کے حوالے سے

 اردو والوں کا اس سے بڑا المیہ اور کیا ہو سکتا ہے کہ آزادی ملے ستّر سال ہو گئے، لیکن اب تک  قومی سطح پر’  یوم  اردو ‘ منانے کی کوئی ایک تاریخ  طیٔ نہیں ہو سکی ہے، نہ ہی یونیسکو کے ذریعہ ہر سال 21   فروری کو  عالمی سطح پر مادری زبان کی اہمیت اور افادیت  کے پیش نظر اس کے تحفظ اور اس کی بقا کے لئے دی جانے والی دستک کا ہی کوئی رد عمل ہورہا ہے۔

مزید پڑھیں >>

نشورؔ واحدی: ایک شاعر طبیب

یونانی طب اور اردو زبان کے باہم رشتوں کا زمانہ تقریباً ڈھائی سو برس کے عرصہ پرمحیط ہے۔اِس رشتے کا تاریخی مطالعہ اہلِ اردو اور حاملینِ طب دونوں کے لیے اہم ہے، مگر اب تک خاطر خواہ انداز میں اِس پرکام نہیں ہوسکا ہے۔ دونوں کو اِس تشنۂ تحقیق پہلو پر توجہ دینے کی ضرورت ہے، تاکہ اِس رشتے کو مزیدفروغ دیاجاسکے۔

مزید پڑھیں >>

خوشبوؤں کے شاعر الیاس تنویرؔ کی پہلی برسی

محمد الیاس تنویرؔجو گزشتہ برس 31 جنوری کو اس جہان ِفانی سے کوچ کر گئے۔ اردو کے ممتاز شاعر ہونے کے علاوہ انسانی زندگی پر نفسیاتی حوالوں سے اور کائنات کے اسرار کوسمجھنے والے دانشور تھے۔ انہوں نے اپنی دانش کو مطالعے کی کثرت سے فروغ دیا اور نفسیات کو اپنے مزاج کا اس طرح حصہ بنایا کہ یہ علم اشیاء، مظاہر اور شخصیات کو کھوجنے کے لئے ان کی عینک بن گیا۔

مزید پڑھیں >>

حکایاتِ غم کی تصویر: ڈاکٹر کلیم احمد عاجزؔ

 ڈاکٹرکلیم احمدعاجزؔ ؒ کی شاعری سے میں ہی نہیں، میرے جیسے نہ جانے کتنے اورمتاثرہوئے ہوں گے، خواہ وہ ڈاکٹرصاحب سے واقف ہوں یانہ ہوں، وجہ صرف اس کی یہ ہے کہ ’’ان کے شعروں میں ایک مخصوص سادگی ہے، ان کے الفاظ جانے پہچانے، ان کی ترکیبیں ایس سیدھی سادھی ہوتی ہیں کہ مفہوم فوراً ذہن نشین ہوجاتاہے، یہ نہیں کہ ان کے اشعارسطحی ہوتے ہیں ؛ بل کہ الفاظ اورترکیبوں اورمعانی کے درمیان کوئی پردہ نہیں ؛ بل کہ یوں کہئے کہ ان کے الفاظ ایسے شفاف ہیں کہ معانی کوایک نگاہِ غلط اندازبھی پالیتی ہے‘‘۔

مزید پڑھیں >>

عظیم افسانہ نگار: سعادت حسن منٹو (آخری قسط)

منٹوکی یہی بےساختگی اوربےتکلفی ہےکہ قاری پوری طرح ان کی بات کوسمجھنےاورمتفق ہونےلگتاہے،قاری اورکہانی میں دوری یا بعد پیدانہیں ہوتا، ایک مقام ایساآتاہےکہ قاری خودکوکہانی میں شامل سمجھنےلگتاہےاورافسانےکی پوری اقلیم یعنی احساسات وجذبات، کردارونفسیات اورحالات وواقعات کی ترتیب،تشکیل میں قاری ان کاہم نوابن جاتاہے.کیوں کہ منٹوجس زبان میں کلام کرتاہیں اسے سمجھنا قاری کےلیےمشکل نہیں ہوتا.

مزید پڑھیں >>

رِم جِھم برسات

بچپن میں جب برسات کا موسم آتا دھواں دار بارش ہوتی تو اسبسطاس کی نالیوں سے گرتے پانی کو دیکھ کر کتنا خوش ہوتے پھر ایک مقام سے لگاتار زیادہ مقدار میں گرنے والے پانی سے بنے گڑھے میں بھیگتے ہوئے جاکر کاغذ کی کشتی چھوڑ آتے اور ایک لکڑی کی مدد سے اسے پانی میں تیرنے مین مدد کرتے کیا دن تھے..

مزید پڑھیں >>

’پیام صبا‘ کا پیام

’’پیام صبا‘‘ کامران غنی صباؔ کا اولین شعری مجموعہ ہے۔ شاعر نے اپنی قافیہ پیمائی کو پیام قرار دیا ہے اسی مناسبت سے مجموعے کا نام ’’پیام صبا‘‘ رکھا ہے۔ لہٰذا ’’پیام صبا‘‘ کا پہلا پیام یہ ہے کہ شاعری پیغام ہے لیکن یہ ضروری نہیں کہ ہر شاعری پیغام ہو۔ جب کسی کی شاعری میں پیغام نہیں ہوتا تو کہا جاتا ہے کہ اس میں کوئی پیغام نہیں اور پیغام ہونے کی صورت میں اس کا اعتراف کیا جاتا ہے۔

مزید پڑھیں >>

ملبیری کے آس پاس: جذبات واحساسات کی شاعری 

عطاءالرحمان طارق شعراء کی اس بھیڑ میں خود کو منفرد اور اپنی جانب لوگوں کی توجہ مبذول کرلینے کا ہنر جانتے ہیں، یہی سبب ہے کہ وہ اپنی ہر نئی کتاب میں ایک نیا رنگ و آہنگ، نیا اسلوب اور نئی فکری جہتیں تلاش کرلیتے ہیں جو ان کی کامیابی کی ضامن بن جاتی ہیں ۔ ویسے تو ادب میں ان کی شناخت ادب اطفال کے حوالے سے ہوتی رہی ہے۔

مزید پڑھیں >>