دیگر نثری اصناف

شام کی بیٹی

اسپتال کے ڈائرکٹر ابو موسی نے ہماری دو جماعتیں بنادیں اور یہ مریضوں کی رعایت اور اسپتال میں ان کی کثرت کے سبب ایک مناسب فیصلہ تھا، مجھے سیلانی بھائی اور استاد جی کو ابو موسی ایک کمرے میں لے گئے جہاں اک نوجوان لڑکی اسکارف لئے ہوئے بڑی سی چادر میں  ملبوس بیڈ پر بیٹھی تھیں اور ایک نوجوان بیڈ کے کنارے پر کھڑا تھا۔ لڑکی کا نام نغم تھا اور بیڈ کے کنارے کھڑا لڑکا اسکا شوہر تھا_

مزید پڑھیں >>

ڈاکٹراحمد علی برقی اعظمی کی شعری و فکری جہات: روح سخـــــن کے حوالـــــے سے

ڈاکٹر احمد علی برقی ؔاعظمی علمی و ادبی دنیا میں محتاج تعارف نہیں ، آج کی سائبر اور سوشل میڈیا والی دنیا میں شاید ہی کوئی دن ایسا گزرتا ہوگا جب ان کی کو ئی نہ کوئی تخلیق وہاں پہنچ کر قارئین، صارفین اور ناظرین سے داد نہ وصول کرتی ہو۔ اسی طرح دنیا بھر میں منعقد ہونے والی شعری و ادبی نشستوں میں ان کی شرکت نہ ہوتی ہو۔ بلکہ آج کے وقت میں تو انھیں اس دنیا میں نام پیدا کرنے والوں میں اہم اور نمایاں مقام حاصل ہوتا جارہا ہے۔ بالخصوص ان کی موضوعاتی اور فکری شاعری نے تو دنیا بھر میں دھوم مچا رکھی ہے۔

مزید پڑھیں >>

اردو غزل کا منٹو: شادؔ عارفی

  دبستان دہلی، دبستان لکھنؤ، دبستان عظیم آباد کی طرح دبستان رام پور بھی اردو ادب میں اپنی علاحدہ پہچان، منفرد مقام ومرتبہ لیے ہوئے ہے۔ جغرافیہ کے اعتبارسے یہ ریاست چھوٹی تھی لیکن اس کے فرماں روا بلند حوصلوں کے مالک تھے۔ 1857کے ناکام انقلاب کے بعد جب اردو کے دونوں دبستانوں (دہلی اور لکھنوء) میں افراتفری کا ماحول پید اہوا اور ادبا وشعرا میں اضطراب پنپنے لگا تھا۔ ایسے پُرآشوب ماحول میں والئی رام پور نوّاب یوسف علی خاں ادباوشعراکے لیے امید کی کرن بنے۔

مزید پڑھیں >>

بہار اردو اکادمی کی بے اصولی ہی اصول ہے

   بہار اردو اکادمی کی گزشتہ 16 جنوری 2018 ء کو منعقدہونے والی مجلس عاملہ کی میٹنگ میں لئے گئے فیصلوں پر میں حیران اور پشیمان  ہوں۔  حیران اس لئے ہوں کہ یہ تمام فیصلے اردو زبان و ادب کے حق میں نہیں ہیں ، بلکہ دوست نوازی کو ترجیح دینے اور اردو زبان کو نقصان پہنچانے کی کوشش ہے،اور  پشیمان اس لئے ہوں کہ میں اس اکادمی کی مجلس عاملہ کا رکن ہوں اور گزشتہ تقریباََ ڈھائی برسوں سے اپنی تمام تر کوششوں کے باوجود اکادمی کے اندر پھیلی بے ا صولی ا ور بے ضا بطگی، نیز، انصافیوں کو ختم کرنے میں ناکام رہا اور اس بات کا بھی اعتراف کرتا ہوں کہ میں چند ایسے لوگوں سے جو اردو زبان و ادب کے نام پرلوٹ مچائے ہوئے ہیں،

مزید پڑھیں >>

مشاہیر: خطوط کے حوالے سے

  یہ بات سو فی صد سچ ہے کہ’’ خط آدھی ملاقات ہوتی ہے۔ ‘‘کیوں کہ بہ ذریعہ خط انسان اپنی بات اور دلی جذبات مکتوب الیہ تک با آسانی پہنچا دیتا ہے۔ اس طرح دونوں ایک دوسرے کی خیر و عافیت سے واقف ہو جاتے ہیں۔ مکتوب نگار کھبی کبھی اپنے مکتوب میں اُن حالات و واقعات کو بھی قلم بند کر دیتا ہے جو اُس کی نجی زندگی میں رو نماہوتے ہیں۔ خط میں طنز و مزاح، کے علاوہ ہجر و وصال کی باتیں، مسرّت و تعزیت کا اظہار، کاروبار کا احوال، اور اخلاق و اخلاص کا درس بھی دیا جاتا ہے۔ جب ان واقعات و حالات کو کوئی علمی، ادبی اور سیاسی شخص تحریر کرتا ہے تو ایسے خطوط تاریخ رقم کرنے میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔ کیوں کہ یہ واقعات کوئی معمولی واقعات نہیں ہوتے۔

مزید پڑھیں >>

سلیم شوق پورنوی: سیمانچل کے ادبی افق پر طلوع ہوتا نیا ستارہ 

اول مولانا سرور حسین قاسمی جو کہ ایک بہترین مزاحیہ شاعر ہیں پھر ان کے حکم کے مطابق جناب تلک راج پارس جبلپوری سے منتسب ہوا .  الحمد للہ اب تک ان سے منسلک ہوں . کبھی کبھی دیگر شعرا سے بھی اصلاح کی سعادت حاصل کر لیتا ہوں .  ان میں جناب احمد ندیم مورسنڈوی، علامہ مسیح الدین نذیری قاسمی، کامران غنی  خاص طور پر قابل ذکر ہی

مزید پڑھیں >>

عظیم اردو افسانہ نگار سعادت حسن منٹو

سعادت حسن منٹو,بیسویں صدی کے عظیم الشان افسانہ نگارتھے,جنہوں نےاپنےافسانوں میں وقت کےبےرحم اورظالم سماج کوبالکل ننگاکرکےرکھ دیا,ان کےاندرمنافقت نہیں تھی وہ بدصورتی کوخوب صورت بناکرپیش کرنےکےقائل نہیں تھے,بغیرلاگ لپیٹ کےاپنی بات کہہ دیناان کاخاصہ تھا,انہوں نےسماج میں پھیلی ہوئی غلاظتوں کونہایت سچائی کےساتھ منظرعام پرلاناشروع کیا ان کےاوپرفحش نگاری کےالزامات بھی لگےمقدمہ بھی ہوالیکن ا نہوں نےکسی بھی الزام کی پرواہ نہ کی,نہ وہ مقدمہ سےہراساں ہوئے بلکہ بہت بےباکی کےساتھ اور دیوانہ وارسلگتےمسائل کواپنےافسانےکاموضوع بناتےرہے.ان کےافسانےلافانی اہمیت کےحامل ہیں ,ان کےسحرطرازافسانوں نےعالم گیرشہرت حاصل کی .

مزید پڑھیں >>

احمد فرازؔ کی شاعری میں احتجاج اور رومانیت کے عناصر

  بلا شبہ، نثر کے مقابلے شاعری کا جادو ہر خاص و عام کے سر چڑھ کر بولتا ہے۔ یہ بات صرف اُردو شاعری پر ہی صادق نہیں ہوتی بل کہ دنیائے ادب کی شاعری ہر دور میں قارئین کو اپنی جانب متوجہ کرتی آئی ہے۔ لیکن ایسا بہت کم ہی ہوا ہے کہ کوئی شاعر ناقدین ادب کی توجہ کا بھی مرکز بنا رہا ہو اور عام لوگوں نے اِسے دادِ تحسین بھی دی ہو۔ اُردو ادب کے دامن میں بھی ایسے بہت سے شاعر ہیں جن کی شہرت کے چرچے ہر طرف سنائی دیتے ہیں۔

مزید پڑھیں >>

اخترؔ الایمان کی شخصیت کے چند نقوش

اخترؔالایمان(۱۹۱۵ء۔۱۹۹۶ء)کا شمار بیسویں صدی کے نما ٰیندہ نظم گو شاعروں میں ہوتا ہے۔فیضؔـ‘جوشؔ‘ن۔م۔راشدؔ اور میراجیؔ کے بعد جس شاعر نے اردو نظم نگاری کو نئی پہچان‘ جہت ‘ سمت و عروج بخشا وہ  اخترؔالایمان ہے۔اخترؔالایمان نے اپنے دور کی کسی بھی تحریک سے وابستہ ہو کر شاعری نہیں کی۔ حالاں کہ ایک طرف ان کے تعلقات ترقی پسند شاعروں اور ادیبوں سے تھے تو دوسری جانب حلقہ ارباب ذوق سے بھی ان کی دوستی تھی۔میراجی کے ساتھ ساتھ سردار جعفری‘ سجاد ظہیر‘ ملک راج آنند‘ کیفی اعظمی‘ شہر یار‘ مجروح سلطان پوری جیسے نام ور ادیبوں اور  شاعروں سے اچھے مراسم تھے۔

مزید پڑھیں >>

احمد ندیمؔ قاسمی: ذات و صفات

ندیمؔ ؔ صاحب واقعی درویش صفت انسان تھے۔ وہ زندگی اور اُس کے حُسن کے قدر دان تو تھے لیکن انھیں زیادہ کا حرص اور عیش و آرام کا لالچ نہیں تھا، جب کہ وہ ضروریات ِ زندگی خود اپنے دستِ محنت سے پوری کر لیتے۔ وہ کبھی چھینتے نہیں تھے لیکن اپنا کچھ چھیننے بھی نہیں دیتے تھے۔ یہ الگ بات ہے کہ اپنی مرضی سے جتنا چاہا بانٹ دیا۔ وہ اُن کا قیمتی وقت ہی کیوں نہ تھا، کیوں کہ اُن کا پختہ یقین اس میں تھا کہ سکھ سب میں برابر تقسیم ہونا چاہیئں۔

مزید پڑھیں >>