دیگر نثری اصناف

طلعت پروین کی آزاد نظمیں

طلعت پروین بہار کی یا اردو دنیا کی چند قلمکاروں میں سے ایک ہیں جنھوں نے آزاد نظم کی شروعات کی۔ طلعت ایک فطری شاعرہ ہیں یا یہ کہیں کی فطری ادیبا۔ اور ساتھ ساتھ ایک ہمدرد خاتون ہونے کی وجہ کر اِن کی نظمیں مظلوم اور بے کس کی آواز ہوتی ہیں۔

مزید پڑھیں >>

اکبر الہ آبادی طنز و مزاح کی چلمن سے

 حالی، اکبراوراقبال اردوکے وہ شعراء ہیں ،جنھوں نے اپنی شاعری کے ذریعہ قوم وملت کی اصلاح کی اوران کوآئینہ دکھایا۔ذہنی استعداد،بصیرت اورتخلیقیت کی بناپر ان کی شاعری کانقطۂ نظراوررنگ آہنگ الگ الگ ہے؛لیکن اس میں شک نہیں کہ تینوں نے ملک کے سماجی اورمعاشرتی مسائل کواپناموضع بنایااور فن کے تقاضوں کااحترام کرتے ہوئے تینوں کامطحِ نظر اصلاح اورفلاح تھا۔

مزید پڑھیں >>

رثائی صنف ادب ’نوحہ‘ کا تاریخی و تنقیدی تجزیہ

 رثائی ادب کی سب سے قدیم اور حساس ترین صنف سخن نوحہ پر گفتگو کرنے کا مقصد اپنے اعتقاد کے اظہار سے زیادہ اپنے ادبی یقین کی آسودگی ہے۔رثائی ادب میں مرثیہ اور سلام کی طرح نوحہ بھی ایک مستقل صنف سخن کی حیثیت رکھتا ہے۔ علمائے ادب نے مرثیہ اورسلام کی ادبی افادیت کے پیش نظر اس کے کچھ اصول و ضوابط وضع کئے ہیں اوربیشترشعرا نے ان اصناف سخن میں خوب خوب طبع آزمائی بھی کی اور انیسؔ و دبیرؔ جیسے عظیم شاعروں نے بھی اس صنف سخن سے اعراض نہیں فرمایا۔

مزید پڑھیں >>

کتنے حسیں افق سے ہویدا ہوئی ہے تو

اس پر اہل ایوان نے خوب لطف لیا۔ بی جے پی میں سشما سوراج ایسی لیڈر ہیں جن کو اچھے اشعار یاد ہیں ۔ جب من موہن سنگھ بیٹھ گئے تو سشما کھڑی ہوئیں اور انھوں نے شگفتہ انداز میں کہا کہ وزیر اعظم نے شعر سے ہمارے اوپر حملہ کیا ہے۔ ہم بھی اس کا جواب دینا جانتے ہیں ، ہم شعر ادھار نہیں رکھتے۔

مزید پڑھیں >>

نعت گوئی اور مدحت رسول

حاضرین مدح رسول صلی اللہ علیہ میں جو نعت گوئی شکل میں دور رسالت سے چلی آرہی ہے، ہم نے صرف اس کے چند اردونمونے ہم نے اپنے اردو بھائیوں کے گوش گذار کی ہیں، ورنہ ان شعراء کی طویل فہرست جنہوں نے حب نبوی اور عشق رسول کا  زمزمہ گایا اور   اور اپنی عقیدت ومحبت اور وارفتگی اور حب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا وہ بیش بہا اور انمول تحفہ نعت گوئی کی شکل میں امت کے سامنے پیش کیا جو امت کے بچے بچے کے زبان زد ہیں، وہ ان اشعار کے گنگاتے ہیں اور اپنی خوش آزوای اور اپنے ممتاز ومنفرد ترنم اس کا ایسے زیر وبم پیش کرتے ہیں، حاضرین عشق رسول اور محبت رسول کے دریا میں غوطہ زن ہوجاتے ہیں۔

مزید پڑھیں >>

انگریزی شعر و ادب پر یہودی اثرات (دوسری قسط)

 گیارھویں سے دسویں صدی قبل مسیح تک طالوت، حضرت داودؑ اور حضرت سلیمان ؑکے عہد میں یہودیوں کوجوسربلندی اور طاقت نصیب ہوئی تھی وہ برقرار نہ رہ سکی تھی۔ ہر عروجے را زوال کے کُلیّے کی تہ میں جھانکا جائے تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ زوال کا گَرہن پہلے قوموں کے معتقدات و اخلاقیات کو لپیٹ میں لیتا ہے اور پھر اثر و اقتدار اور شوکت و عظمت کے سورج کی ضیا پاشیوں کو ظلمتیں گھیر لیتی ہیں ۔معلوم تاریخ ِ انبیاء میں حضرت یوسف علیہ السّلام کو ہم مصر کے اقتدار تک پہنچا ہوا دیکھتے ہیں۔انہی کے اقتدار کے عرصے میں آلِ یعقوب کنعان سے اٹھ کر مصر میں جا آباد ہوئے تھے۔آنجناب کے کچھ عرصہ بعدبنی اسرائیل کو مصر کے فرعونوں نے اپنا محکوم بنا لیا اور ان پر ظلم و زیادتی کے پہاڑ توڑنے شروع کر دیے۔

مزید پڑھیں >>

‘لنگی’ افسانہ یا حقیقت بیانی!

محسن خان یونیورسیٹوں کے پروفیسرس اور اردو کے ادبی حلقوں میں ایک لفظ جوباربارسننے میں آرہا ہے وہ ہے لنگی۔ لنگی ایک فائدہ مند چیز ہے اورہرکوئی اسے پہنتا ہے لیکن پچھلے کچھ دنوں سے لوگ لنگی پہننے سے ڈررہے …

مزید پڑھیں >>

احمد علی برقیؔ اعظمی کی غزلیہ شاعری: ایک جائزہ

 برقیؔ صاحب کے یہاں اچھے اشعار کی کمی نہیں ہے۔ ان سے موصوف کی شاعری کا حسن مزید بڑھ گیا ہے۔ اگر وہ اپنے کلام کے حق میں جذباتیت سے کام نہ لیتے تو اس حسن و قیمت میں اور بھی اضافہ ہوتا۔ بایں ہمہ برقیؔ ؔ صاحب کی شاعری ایک حساس صاحب دل اور ماہر فن کی شاعری ہے۔ اُردو شاعری میں  برقیؔ صاحب نے اب تک جو مقام حاصل کیا ہے مستقبل میں اس میں ترقی یقینی ہے۔

مزید پڑھیں >>