نقطہ نظر

اور بھی غم ہیں زمانے میں مدرسوں کے سوا

حکومت کے کارندے صرف کسی نہ کسی علاقہ میں گوشت کی دُکان اس جرم میں بند کرا رہے ہیں کہ لائسنس نہیں ہے۔ لائسنس کوئی بازار میں نہیں بکتا حکومت دیتی ہے اب یہ اس کی ذمہ داری ہے کہ جو صاف ستھری دُکان کھول کر بیٹھا ہے اس کا لائسنس بنا دیا جائے۔ اور اگر نہیں بنے گا تو گوشت کٹے گا بھی بکے بھی اور کھایا سب جائے گا بس رشوت دوگنی ہوجائے گی اور گوشت مہنگا ہوجائے گا۔

مزید پڑھیں >>

آر ایس ایس اور ہند-اسرائیل تعلقات: چند سربستہ حقائق!

 دیورس ہندوستان میں ممبئی، کیرلا اور ملک کے دوسرے حصوں میں موجود یہودیوں سے رابطے میں رہتے اور انھیں آر ایس ایس-اسرائیل تعلقات کو صحت مند رخ دینے کے لیے پل کے طورپر استعمال کرتے رہے۔ انہی کی تحریک پر1991ء کے اخیر میں کئی اپوزیشن لیڈروں کے ساتھ لال کرشن آڈوانی نے وزیر اعظم نرسمہا راؤ سے ملاقات کی اور زور دیا کہ ہندوستان کو اسرائیل سے سفارتی تعلقات قائم کرنا چاہیے؛بلکہ یہ حقیقت ہے کہ مودی اور سابق صدر پرنب مکھرجی سے پہلے آڈوانی ہی ہندوستان کی پہلی اعلیٰ سیاسی شخصیت تھے، جس نے بحیثیت نائب وزیر اعظم2000ء میں اسرائیل کا دورہ کیاتھا۔

مزید پڑھیں >>

قانون سازیہ کے تئیں حکومت کی غیرسنجیدگی !

حکمراں جماعتوں کو اپنے ذاتی مفادات کی تکمیل کے لئے ’افسران‘کی چالبازیوں کا شکار نہ ہوکر اس ادارہ کو مضبو ومستحکم بنانا ہوگانہیں توجمہوری نظامِ حکومت کے اس مقدس ادارہ کی کمزوری کا مطلب عوام کو کمزور بناناہے جوکہ پہلے ہی ظلم وستم، نا انصافیوں کی چکی میں پس رہے ہیں، جو تھوڑی بہت آس بچی ہے وہ کھوجائے گی۔ساتھ ہی ساتھ ایک ایم ایل اے /ایم ایل سی کو بھی انفرادی طور محاسبہ کرنے کی ضرورت ہے کہ کیا وہ اپنے عہدہ سے انصاف کرپارہے ہیں ....؟

مزید پڑھیں >>

آصفہ کے قتل کا فرضی خاکہ اور پولیس کی کارکردگی

پولیس سربراہ سے یہ گزارش ہے کہ وہ سیاسی بیانات سے زیادہ فرائض منصبی کا ثبوت پیش کریں اور محکمہ پولیس کے دامن کو  الزامات کی گندگی سے پاک رکھنے میں اپنی توجہ دیں تاکہ مستقبل انھیں ایک ایماندر، انسان دوست آفیسر کے طور یاد رکھا جائے اور پولیس محکمہ کے ان ذمہ دار پولیس افسروں کو بھی یاد رکھا جائے جنھوں نے قومی حفاظت کیلئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا ہے۔

مزید پڑھیں >>

نازی تحریک اور آر ایس ایس

جس طرح جرمن نازی یہ کہتے تھے کہ یہودی جرمنی ہی نہیں پوری انسانیت کیلئے تمام خرابیوں اور برائیوں کی جڑ ہیں اس لئے ان کو جینے اور زندہ رہنے کاکوئی حق نہیں ان کا قتل و خون ملک کیلئے مفید اور کارآمد ہے۔ بالکل یہی فلسفہ آر ایس ایس اور بی جے پی کا مسلمانوں کیلئے ہے۔وہ اپنے مشن پر پوری طرح کاربند ہے اس کے برعکس سیکولر پارٹیاں مکمل طور پر باہمی انتشار اور سر پھٹول میں مصروف ہیں۔ کیا اس صورتحال میں حق اور اصول کی لڑائی جیتی جاسکتی ہے۔

مزید پڑھیں >>

اسرائیل سے نفرت کیوں؟

اسرائیل نے اس دوران مسلسل کوشش کی ہے کہ بیت المقدس پر اس کے قبضے کو جائز تسلیم کیا جائے اور یروشلم کو غیر متنازعہ شہر قرار دے کر اسرائیل میں شامل قرار دیا جائے؛ لیکن عالمی رائے عامہ اس کے اس موقف کو قبول نہیں کر رہی۔ 1995ء میں جب اسرائیل نے یروشلم کو اپنا دارالحکومت قرار دیا تو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 5دسمبر 1995ء کو بھاری اکثریت کے ساتھ قرار داد منظور کر کے اسرائیل کے اس اقدام کو غیر قانونی قرار دے دیا اور واضح طور پر کہا کہ یروشلم کی حیثیت ایک متنازعہ شہر کی ہے اور باقاعدہ فیصلہ ہونے تک یہ متنازعہ شہر ہی رہے گا۔

مزید پڑھیں >>

الفاظ جو دلخراش ہوسکتے ہیں!

 آج بھی جو کچھ ہو رہا ہے جس قسم کے اقدامات کرنے کی کوشش کی جارہی ہے جتنی بھی بھاگ دوڑ کی جارہی ہے یہ سب کے سب واجبی ہیں اور صرف دیکھاوے کیلئے ہیں۔ سدِ باب شائد ہمارے بس میں ہوتے ہوئے بھی کرنے کیلئے تیار نہیں ہیں۔  تعلیمی اصلاحات اور دیگر اصلاحات سے کچھ فرق نہیں پڑنے والا، فرق صرف اور صرف اپنا قبلہ درست کرنے سے ہوسکتا ہے۔

مزید پڑھیں >>

بہار اردو اکادمی کی بے اصولی ہی اصول ہے

   بہار اردو اکادمی کی گزشتہ 16 جنوری 2018 ء کو منعقدہونے والی مجلس عاملہ کی میٹنگ میں لئے گئے فیصلوں پر میں حیران اور پشیمان  ہوں۔  حیران اس لئے ہوں کہ یہ تمام فیصلے اردو زبان و ادب کے حق میں نہیں ہیں ، بلکہ دوست نوازی کو ترجیح دینے اور اردو زبان کو نقصان پہنچانے کی کوشش ہے،اور  پشیمان اس لئے ہوں کہ میں اس اکادمی کی مجلس عاملہ کا رکن ہوں اور گزشتہ تقریباََ ڈھائی برسوں سے اپنی تمام تر کوششوں کے باوجود اکادمی کے اندر پھیلی بے ا صولی ا ور بے ضا بطگی، نیز، انصافیوں کو ختم کرنے میں ناکام رہا اور اس بات کا بھی اعتراف کرتا ہوں کہ میں چند ایسے لوگوں سے جو اردو زبان و ادب کے نام پرلوٹ مچائے ہوئے ہیں،

مزید پڑھیں >>

خدا کرے صوتی آلودگی کی سزا مسلما نوں کو نہ ملے

 بس اس کو ذہن میں رکھا جائے کہ صوتی آلودگی صرف مسجد کی اذان سے ہوتی ہے نہ ہر تہوار میں اور نہ ہندو گھرانے کی ہر تقریب میں کان پھاڑ دینے والے فلمی گانوں سے ہوتی ہے اور ان گانوں کا انتخاب کوئی نہیں کرتا جس کا لائوڈ اسپیکر ہوتا ہے اس کے پاس جو بھی گھسے پٹے ریکارڈ ہوتے ہیں وہ بجاتا رہتا ہے گھر والوں کا مقصد صرف یہ ہوتا ہے کہ اتنا شور ہو جو گھر میں ہر آدمی یا عورت چیخ کر بولے۔ ہمیں یقین ہے کہ قارئین کرام میں شاید ہی کوئی ایسا ہو جسے ان حالات سے سابقہ نہ پڑا ہو۔ آخر میں اتنا عرض کردیں کہ اطلاع کے مطابق لکھنؤ میں مسجدوں کو اجازت دینے میں ابھی کسی نے شکایت نہیں کی ہے۔

مزید پڑھیں >>

نیشنل ازم (NATIONALISM)

ایک مسلمان کیلئے سب سے پہلے اور سب سے قیمتی چیز ایمان ہے اور ایمان کااولین تقاضا ہے کہ اپنے دوسرے مسلمان بھائیوں کی جان، مال، عزت و آبرو، مفاد کے تحفظ کیلئے اپنا سب کچھ قربان کر دے اور کسی صورت ان سے پیچھے نہ ہٹے، ان کا سایہ ان دوسرے مسلمان بھائیوں پر بادل کے سائبان اور آسمان کی چھت کی طرح چھایا رہے، وہ کسی بھی میدان میں خود کو تنہا اور بے یارو مددگار تصور نہ کریں۔

مزید پڑھیں >>