نقطہ نظر

مسلم دانشوران کی نادانیاں

نہ کہیں جنازہ اٹھتا نہ کہیں مزار ہوتا  کی بات ہی اگر قوم کا ہیرو ہونے یا نہ ہونے کی دلیل ہوتی ہے تو بھگت سنگھ، ٹیپو سلطان، بہادر شاہ ظفر، سوریہ سین اور بھنڈران والے جیسے لوگوں آج اپنی قوم کے ہیرو نہیں ہوتے، کیونکہ ان میں سے بھی اکثر کا جنازہ نہیں اٹھاتھا۔ اب آخری بات جو ہمارے دانشوران کو یاد رکھنی چاہئے وہ یہ ہے کہ ’’ قومیں اپنے ہیرو کو اس کی آخری رسومات میں شامل بھیڑ سے نہیں یاد رکھتی ہیں ۔

مزید پڑھیں >>

نظریات کی جنگ خواہش سے پوری نہیں ہو سکتی!

ان حالات میں وقت کی آواز یہی ہے کہ جو لوگ مکھوٹا لگاکر جھوٹ کو سچ اور سچ کو جھوٹ ثابت کر رہے ہیں، ان کی اصل شکل واضح کی جائے لیکن شرط یہ ہے کہ وہ افرد اورگروہ جونظام عدل و انصاف کے قیام کا نعرہ بلند کر تے ہیں قبل از وقت خود انفرادی و اجتماعی ہردو سطح پر وہ نمونہ پیش کریں جس کے وہ خواہش مند نظر آتے ہیں !

مزید پڑھیں >>

جوش نہیں ہوش دکھایئے!

وقت کا پہیہ مسلسل رقص میں رہتا ہے حالات کبھی یکساں نہیں رہتے وہ کبھی موافق ہوتے ہیں تو کبھی ناموافق، لیکن الوالعزم اور بہادر انسانوں کیلئے حالات کی اس تبدیلی سے کوئی فرق نہیں پڑتا، نہ وہ گھبراتے ہیں نہ ہی احتجاج و شکایت کرتے ہیں بلکہ ہمت و شجاعت اور حکمت عملی کے ذریعے وہ سب کچھ حاصل کرلیتے ہیں جو ان کا اصل نشانہ اور مقصد ہوتا ہےان کے لئے حالات کو اپنے موافق بنانا کچھ مشکل نہیں ہوتا وہ  بہر صورت حالات کو اپنے زیرنگیں کرلیتے ہیں۔

مزید پڑھیں >>

عدلیہ اور ہماری خوش فہمیاں  

چند دنون سے عدالتی حلقوں میں چیف جسٹس دیپک مشرا اور مشہور و معروف وکیل پرشانت بھوشن کے تنازعہ کی گونج سنائی دے رہی ہے اس تنازعے کے تعلق سے ہمیں جتنی معلومات حاصل ہوئیں اس سے ایسا لگتاہے کہ اب تک ہندوستانی عوام کا آخری حصار ہونے والی عدالتیں جس نے اندرا گاندھی جیسی ڈکٹیٹر کے بھی ہوش ٹھکانے لادئے تھے،اب دھیرے دھیرے اس آخری حصار کو بھی ڈھایا جا رہا ہے۔

مزید پڑھیں >>

ومکروا ومکر اللہ واللہ خیر الماکرین!

ایک بزرگ عالم دین کا کہنا ہے کہ سنگھ پریوار کی موجودہ حکومت نے  ہندستانی مسلمانوں کے ساتھ ’رخائن ‘ میانمار کا تجربہ دہرانے کا فیصلہ ہی نہیں اس کی تیاریاں بھی کر لی ہیں۔ پولیس اور انتظامیہ کی اکثریت پہلے ہی  یرقانی حاکموں کے چشم و ابرو کے اشاروں پر قانون، دستور اور انصاف کی کھلی یا چھپی خلاف ورزی میں مصروف ہیں۔

مزید پڑھیں >>

دہشت گردی

یہ امیج تمام تر روشن خیالی اور سیکولرزم اور ہیومنزم (انسانیت پروری) کے ارتقاء کے باوجود آج مغربی ثقافت کی ذہنی تشکیل کا حصہ بن چکا ہے۔ بالیقین ایسی وجوہات موجود ہیں جنہوں نے اس امیج سے جدید زمانے میں نئے کارنامے انجام دلوائے ہیں۔ لیکن آئیے ہم انسانی زندگی کو نقصان نہ پہنچانے اور تمام بنی نوع انسان کے امن و سکون سے رہنے کے حقوق کا احترام کرنے کے بارے میں اسلامی تعلیمات پر ایک نگاہ ڈالیں۔

مزید پڑھیں >>

​سچائی کہاں ملتی ہے؟

آج ملک میں سچ اور جھوٹ کا ایک بہت بڑا معرکہ چل رہا ہے۔ حاکم وقت کو عدل نے کٹہرے میں لا تو کھڑا کیا ہے مگر حاکم وقت اپنی حاکمیت کے زعم میں عدل کی دھجیاں اڑانے میں مصروف ہیں۔ حاکم وقت یہ بھولے بیٹھے ہیں کہ ایک حاکمیت اعلی بھی ہے جہاں صرف سچ ہی چلتا ہے۔ شائد ہم پاکستانیوں کی تنزلی اور روز بروز گرتی ہوئی حالت کی ذمہ داری بھی اسی سچ سے دوری ہے اور ہم چھوٹی چھوٹی باتوں کیلئے جھوٹ پر جھوٹ بولے جا رہے ہیں۔

مزید پڑھیں >>

مدارس کا تعلیمی بحران: موروثی نظام اورہماری ذمہ داریاں

مدارس کو جدید نظام تعلیم اور عصری تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا بیحد ضروری ہے۔ جدید نظام تعلیم سے مراد مدارس میں انگریزی اور ماڈرن ہسٹری کی تعلیم مراد نہیں ہے بلکہ وہ طریقۂ تدریس مراد ہے جو آج دنیا بھر میں رائج ہے۔ کیا ہمارے مدارس میں ٹرینڈ ٹیچرز ہوتے ہیں۔ ڈنڈے کا خوف دلاکر طلباء کو اپنی جہالت کا قائل کرنا الگ ہے مگر انہیں اپنے علم و تجربہ کی بنیاد مطمئن کرنا آسان نہیں ہے۔ اگر طلباء دوران تعلیم ہی احساس کمتری کا شکار ہوجائیں گے تو پھر قوم ان سے کیا توقعات وابستہ رکھے گی۔

مزید پڑھیں >>

پتھر کا دور

 انسان کے قریبی رشتے دار مزید ''دور ''کے رشتے دار بنتے گئے,اور پڑوسی ازلی دشمن کا روپ دھار گئے۔ ایک ہی بستر پر دراز دو لوگ ہاتھوں میں فون تھامے اجنبیوں کی ماننداپنی اپنی دنیا میں کھوگئے۔انسانیت,محبت,خیر خواہی اور غمگساری جیسے الفاظ اب اس ڈیجیٹل دنیا سے عنقاء ہوچکے ہیں۔

مزید پڑھیں >>

عذاب صہیونیت کے بہترسال !

تہران کی سال گزشتہ والی ا لا قصیٰ کانفرنس میں سعودی عرب کویت، متحدہ عرب امارات جیسے ملکوں کی نمائندگی نہیں  تھی !اور آج یہ عرب ممالک اسرائل اور امریکہ کی کھلی ہوئی مدد سے یمن کے بعد ایران کے خلاف بھی ایک نیا محاذ کھولنے کا اشارہ دے رہے ہیں ! تو کیا تیسری جنگ عظیم کا مرکز شمالی کوریا نہیں ایران ہوگا ؟ ظاہر ہے کہ قریب سوا سال قبل قائم ہونے والے 34ملکوں کے عرب فوجی اتحاد میں ایران، عراق اورسیریا شامل نہیں ہیں جبکہ غازی محمد مرسی کی منتخبہ حکومت کے ظالمانہ  خاتمے اور غاصبانہ قبضے کی ذمہ دار فرعون السیسی کی غیر آئینی  حکومت اس میں شامل ہے !

مزید پڑھیں >>