نقطہ نظر

ذرا نم ہو تو یہ مٹی بہت زر خیز ہے ساقی

اگر انسانیت مری ہوئی ہو اور حکمراں انسانیت نواز نہ ہوں اور قوانین بھی وحشیانہ اور ظالمانہ ہوں تو ایسے ماحول میں انسان جرم و گناہ کی طرف مائل ہوتا رہتا ہے پھر ایسا عادی مجرم بن جاتا ہے کہ انسانیت کی طرف اس کی واپسی ممکن نہیں ہوتی۔ لیکن اللہ کی عنایت اور رحمت کی بارش کسی وقت کسی بھی برے سے برے انسان پر ہوسکتی ہے اور اس کی سوئی ہوئی انسانیت جاگ سکتی ہے۔

مزید پڑھیں >>

انصاف کی حکمرانی ضروری! 

اب انصاف کی حکمرانی قائم ہوئے بغیر دنیا کو درپیش مسائل کا حل ممکن نہیں۔ بات وہی درست ہے جو جسٹس مارکنڈے کاٹجو نے چند ماہ قبل اپنے  دو ٹی وی انٹر ویوز میں کہی تھی کہ’ انقلاب کے بغیر اب کچھ نہیں بدلنے والا۔ رائج نظام سڑ چکا ہے اس کی جگہ ایک نئے اور صحت مند انقلابی نظام کے آئے بغیر اب کچھ بھی ٹھیک نہیں ہونے والا۔

مزید پڑھیں >>

مجھ سے کچھ پنہاں نہیں اسلامیوں کا سوزوساز

اسلام اور مسلمانوں کو دنیا بھر میں بدنام کیا جارہا ہے۔ ہمارے اتحاد کو سرے سے ٹکنے نہیں دیا جاتا ہے، ہم کسی پلیٹ فارم پر جمع بھی ہوجائیں تو اس اتحاد کو چلنے نہیں دیا جا تاہے۔ یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ملت کے مسائیل کا حل ہم از خود نکالیں اور مزید تباہی سے اس ملت کو بچانے کی کوشش کریں ۔ اس ملت کی شیرازہ بندی ایک مشترک ذمہ داری ہے جس سے عہدہ برآ ہونا ہی وقت کا سب سے بڑا کام ہے اورجس کو انجام دینا لازمی ہے۔

مزید پڑھیں >>

آ تجھ کو بتاؤں میں تقدیر امم کیا ہے!

 آج اکیسویں صدی کی اس دوسری دہائی کے آخری برسوں میں مسلمانوں کے جملہ مسائل کا بنیادی سبب یہ ہے کہ حکمراں، اُمرا، اَعیان ِمعاشرہ، علمائے سو، نام نہاد اور بر خود غلط دانشور حصول نعمت و اقتدار کے بعد اللہ کے شاکر بندے بننے کے بجائے’ کافرِ نعمت‘ ہو چکے ہیں۔ ایسا نہ ہوتا تو آج غزہ، یمن، عراق، سیریا، میانمار، بنگلہ دیش، بھارت اور پاکستان کے حالات مختلف ہوتے۔

مزید پڑھیں >>

حکومت ملنا آسان ہے کرنا بہت مشکل ہے

نریندر مودی نے 2014 ء کا الیکشن لڑا تب بھی جاہلوں کی ہی یہ بھیڑ ہر جگہ ان کے ساتھ رہتی تھی جن کا کام صرف مودی مودی مودی کے نعرے لگانا ان کے ہر جملہ پر ہو ہو کرنا ارو گائوں کے تھیڑوں میں بیٹھ کر جیسے سیٹی بجائی جاتی ہے ایسی سیٹی بجانا اور ثابت کرنا کہ ہم صرف اسی کام کے لئے آئے ہیں ۔ مودی نے پہلا الیکشن جن نعروں پر لڑا تھا کیا ان کی ہر بات کی وضاحت کرنے والے مختار عباس نقوی بھی یہ بتاسکتے ہیں کہ انہوں نے ان میں سے ایک نعرہ اور ایک وعدہ بھی پورا کیا؟

مزید پڑھیں >>

مایاوتی کا مجاہدانہ کردار

ہندستان ہی نہیں بلکہ دنیا نے دیکھا کہ ہندستان کے ایوان اعلیٰ (راجیہ سبھا) میں دَلت لیڈر اور بہوجن سماج پارٹی کی سربراہ مایا وتی کو دلتوں کے مسائل پر بات کرنے سے بار بار روکا گیا اور ان کی حکمراں جماعت کی طرف سے ہوٹنگ کی گئی۔ اس بیہودہ حرکت پر مایاوتی نے بار بار حکمراں جماعت بی جے پی کے ممبران سے کہاکہ انھیں دلتوں کے سنگین مسائل پر بولنے دیا جائے مگر بی جے پی کے راجیہ سبھا ممبران کی ہٹ دھرمی جاری رہی۔ مایا وتی نے بالآخر عاجز آکر یہ کہتے ہوئے راجیہ سبھا کے اجلاس سے اٹھ کر چلی گئیں کہ جب انھیں دلتوں کے مسائل پر زور زبردستی روکا جارہا ہے تو ایسے سدن یا ایوان میں ان کے رہنے کی قطعاً ضرورت نہیں ۔

مزید پڑھیں >>

کشمیر 2017: غموں کی گھٹائیں مصائب کی آندھی

حقیقت حال یہ ہے کہ جو کام پچھلے تیس سال کی خون آشامیوں سے نہیں ہو سکا، وہ اب دو ماہی قتل وانہدام سے کہاں پایۂ تکمیل تک پہنچ سکتا؟ اس کے لیے صرف ایک ہی راستہ ہے کہ دونوں بھارت اور پاکستان کو کشمیر حل کو پہلی ترجیح دینا ہوگی اور اس دیرینہ مسئلے کو حل کرنے کے لیے خلوص، سیاسی عزم واستقامت، امن پسندی، نیک ہمسائیگی کے جذبے سے آگے آنا ضروری ہے۔

مزید پڑھیں >>

کس نے پھر خادم الحجاج کا فیصلہ کردیا؟

پانچ سال اکھلیش کی سرکار رہی کسی نے شکایت نہیں کی کہ خادم کوئی نہیں تھا۔ شکایت کون کرتا جبکہ کوئی حاجی نہیں بتا سکتا کہ اس کی کسی خادم سے ملاقات ہوئی اور اس کی وجہ سے یہ آرام ملا۔ بی جے پی حکومت میں محسن رضا صاحب نے یہ سوچا ہوگا کہ انہیں 146  خادم بھیجنے کا یعنی 146  حج کا ثواب ملے گا۔ اللہ نیت کو جانتا ہے اور نیت پر ہی ثواب ہے۔

مزید پڑھیں >>

اہل ایمان ظالموں اور جباروں کیلئے نرم چارہ نہیں ہوتے

عام طور پر بزدلی کی کوکھ سے ظالم اور بدمعاش جنم لیتے ہیں ۔ جس معاشرہ میں بزدلی نہیں ہوتی۔ ظلم و جبر خواہ کسی پر ہو برداشت نہیں کیا جاتا۔ وہاں  ظالموں اور بدمعاشوں کی ہمت کسی پر جبر وظلم کرنے کی نہیں ہوتی، لہٰذا معاشرہ میں ایسے لوگ ہونے چاہئے جو ظلم و بدی کا ڈٹ کر مقابلہ کریں ۔

مزید پڑھیں >>

سیاسی گلیاروں کے کتّے

سیاسی گلیاروں میں بھونکنے والے کتوں کے لئے ہر صاحب اقتدار کے پاس ہڈیاں ہوتی ہیں۔ کتے بھی چچوڑی ہوئی ہڈیوں کو نوچنا ہی پسند کرتے ہیں۔مگر ان انسان نما کتوں کی خصلتیں حقیقی کتوں کی خصلتوں سے بھی بد ترہے۔ شاید آپ کو علم نہ ہو کہ سید حسن بصری نے کتے کی دس ایسی خصلتیں بیان کی تھیں جو انسانوں میں نہیں ہوتیں۔ یعنی ا س لحاظ سے کتے انسانوں سے افضل شمار ہوتے ہیں۔

مزید پڑھیں >>