ماحولیات

ٹھٹھرتی رات میں کیوں سسک رہی ہے انسانیت؟

اگر ہم آج عالمی سطح پر نظر ڈالیں تو ہر جگہ غریب، امیر کے درمیان ایک ناانصافی اور نا برابری کی خلیج حائل ہے۔ اس معاملے میں ایسے ممالک سر فہرست ہیں جو جمہوری نظام کو تقویت پہنچانے اور مساوات پر عمل پیرا ہونے کا دعوی کرتے ہیں ۔ایسے ممالک کے بارے میں یہی کہا جا سکتا ہیکہ جمہوری نظام کے نفاذ کی بات کرنے والے افراد کہیں نہ کہیں جمہوری نظام کی آڑ میں سرمایادارنہ نظام کو تقویت پہنچا رہے ہیں ۔بیشک جمہوری نظام مساوات، انصاف، سب کے ساتھ یکساں سلوک اور تمام وسائل کی لوگوں کے درمیان منصفانہ تقسیم کی نظریے کی بات کرتاہے۔

مزید پڑھیں >>

ہوائی آلودگی سے کیسے بچا جائے

اجسام کی پوشیدہ روح ہوا کو اپنی طرف ہمارے جسم میں جذب کرتی ہے۔ حقیقت میں ہوا جسم کی حالت کو بدلتی رہتی ہے۔ ہوا کبھی جسم کو سردی سے گرمی کی طرف۔ کبھی خشکی سے تری کی جانب، سرورو مسرت سے غم و اضمحلال کی جانب منتقل کرتی ہے۔ ہوا رکھی ہوئی اشیاء جیسے سینگ، گوشت، شراب، چربی وغیرہ میں تبدیلی کرتی رہتی ہے۔ کبھی گرم، کبھی ٹھنڈا، کبھی سخت، نرم کبھی خشک کرتی ہے۔ وجہ یہ ہے سورج، چاند، ستارے اپنی حرکت ورفتار سے ہوا میں تغیر جب پیدا کرتے ہیں تو اس سے تمام اشیاء عالم میں تغیر پیدا ہو تا ہے۔

مزید پڑھیں >>

جموں میں بھی سانس لینا دشوار!

شہر جموں میں فضائی آلودگی کی سب سے بڑی وجہ سڑکوں پر دوڑنے والی لاکھوں کی تعداد میں روزانہ گاڑیاں ہیں۔ اس کے بعد جگہ جگہ پر کوڑا کرکٹ، فضلہ وغیرہ کو جلانے سے نکلنے والا دھواں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ زیادہ دیر تک بارش نہ ہونے کی وجہ سے شہر جموں پردھند سی بکھر جاتی ہے، وہ زمین سے اٹھنے والا گرد وغبارہوتا ہے جوکہ ہوا کو آلودہ کرتاہے۔

مزید پڑھیں >>

ہر سانس کے ساتھ زندگی میں گھلتا زہر

عوام کو خود آگے آکر ماحول کو بہتر بنانے کی کوشش کرنی ہوگی۔ ساتھ ہی سرکاروں پر بھی دباؤ بنانا ہوگا کہ وہ ماحول کے معاملہ میں کسی طرح لاپرواہی کو برداشت نہ کرے، شہر میں جگہ جگہ ہوا کو صاف کرنے کے لئے ائر کلینر لگائے جائیں ۔ دھول کو اڑنے سے روکا جائے اور بغیر روکاوٹ والا ٹریفک نظام تیار ہو، تاکہ ہم سب کو صاف ستھرا ماحول  مل سکے۔ کیونکہ اسی میں ہمیں سانس لینا  اور زندہ رہنا ہے۔

مزید پڑھیں >>

بڑھتی ہوئی شہرکاری کے چیلنجز اور ہماری ذمہ داریاں

میٹروپالیٹن شہرو میں آلودگی کی بنیادی وجہ گاڑیوں اور صنعتی مشینوں سے نکلنے والے زہریلے کیمیکل ہیں۔ عالمی ادارۂ صحت نے اس کا مفصل سروے کرکے عوام کو صحتمند رہنے کیلئے مذکورہ بالا سبھی قسم کی آلودگیوں سے بچنے کا مشورہ دیا ہے۔ شہری ماحول میں جو خطرناگیسیں اور کیمیکلز تباہی پھیلا رہے ہیں ان میں سلفر ڈائی آکسائید، کاربن مونوآکسائڈ جیسے زہریلے مادے کلیدی رول ادا کررہے ہیں۔

مزید پڑھیں >>

ماحول کو کثافت سے بھرنے والے بھی دہشت گرد ہیں !

ملک عزیزہندوستان کے علاوہ طب یونانی کو عالمی طور پر ازسر نو متعارف کرانے اور اس کے تابناک ماضی سے مربوط کرنے جیسے اہم عزم وارداہ کے ساتھ گزشتہ 12نومبر کو دوروزہ ’’عالمی یونانی کانگریس ‘‘ نام سے منعقد ہ عالمی سیمینار اختتام پذیر ہوگیا۔ اس موقع پر طب یونانی کی تاریخ اور مستقبل میں اس کی اہمیت و افادیت پر روشنی ڈالنے والے گراں قدر مقالے بھی پیش کئے گئے۔

مزید پڑھیں >>

عالمِ انسانی کو درپیش ایک سنگین خطرہ

اسلام ہر اس حرکت سے روکتا ہے جس سے صحت انسانی کو خطرات لاحق ہوتے ہوں۔ ایک مسلمان شہری کو آلودگی کے حوالہ سے حساس ہونا چاہئے۔ عالمی سطح پر آلودگی کے اثرات سے محفوظ رہنے کے لئے عالمی طاقتوں کو مضر گیسوں کے اخراج میں کمی لانا چاہئے، نیز جنگلات کے تحفظ کو یقینی بنانا چاہئے۔ شجرکاری اور نباتات کی افزائش پر خصوصی توجہ دی جائے، آبی ذخائر کو آلودہ کرنے سے گریز کیا جائے۔

مزید پڑھیں >>

ٹریفک کی دہشتگردی

ایک طرف تو طبی سہولیات نا ہونے کی وجہ سے بچے سڑکوں پر پیدا ہورہے ہیں اور لوگ انتظار کی قطاروں میں مر رہے ہیں تو دوسری طرف لوگ سڑکوں پر مرنا شروع نا ہوجائیں یہ بڑھتا ہوا ٹریفک مسلۂ نہیں ہے مسلۂ ہے بندر کے ہاتھ میں ادرک، یہ ادرک اگر بندر کے ہاتھ میں یونہی رہی تو ہم سب سڑکوں پر سے تو نا گزر پائیں مگر سڑک پر ضرور گزر جائینگے۔ ہم سے جو ممکن ہوسکے اس ٹریفک کے مسلئے کو حل کرنے کیلئے آگے بڑھیں اور انسانیت کو فوت ہونے سے بچانے میں حصہ ڈالیں۔

مزید پڑھیں >>

ہر ایک سمت موت ہے رقصاں بِہار میں

بہار میں ان دنوں نیپال سے آئے ہوئےسیلاب نے تباہی مچارکھی ہے۔۔۔ہر ندی خطرے کے نشان سے اوپر بہہ رہی ہے۔ ۔۔۔۳۸اضلاع میں سے 13 اضلاع بالکل غرق ہوچکے ہیں ۔۔۔ہاہا کار مچی ہوئی ہے۔۔۔ہر طرف پانی ہی پانی طوفان نوح کا منظر پیش کررہا ہے۔۔۔لاشیں تیر رہی ہیں ۔ بچے بلک رہے ہیں ۔۔۔گزشتہ تیس سالوں 1987 کے بعد سے یہ سب سے بڑا سیلاب ہے

مزید پڑھیں >>

عقل مندی کا مشورہ، لیکن ۔۔!

بی جے پی کی ایک  (ریاستی )حکومت  نے تاریخ میں پہلی بار عوام دوستی اور ماحول دوستی پر مبنی ایک عقل مندی کا مشورہ دیا ہے جس میں مدھیہ پردیش، گجرات مہاراشٹر اور اتر پردیش کی  حکومتوں کے لیے بھی ایک پیغام ہے لیکن کیا وہ اسے سنیں گی ؟ 

مزید پڑھیں >>