معاشرہ اور ثقافت

سب کو معیشت کی پڑی ہے معاشرہ بگڑگیا!

انسان اپنی ترجیحات طے کرتا ہے پھر ان پر عمل کرنے کیلئے کمر بستہ ہوتا ہے۔ بھوک افلاس دنیا کا سب سے بڑا مسلۂ ہے اور نا معلوم کب سے ہے، شائد یہ مسلۂ تاریخ کی تاریکی سے جڑا ہوا ہے اور وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتا ہی چلا جا رہا ہے،انسان کی بھوک بھی بڑھتی ہی جا رہی ہے۔ دنیا اکیسویں صدی سے گزر رہی ہے جسے جدید ترین ایجادات کی صدی کہا جاسکتا ہے۔ اتنی جدت کے بعد بھی دنیا میں بھوک اور افلاس کا خاتمہ نہیں ہوسکا۔

مزید پڑھیں >>

وی آئی پیز سیکورٹی: عوام کا محافظ کون؟

سرکاری وسائل کا ناجائز اپنے مقاصد کیلئے استعمال اور امانت میں خیانت کرنے والا انسان سکون نہیں پا سکتا، لوگوں کی معصومیت و اعتماد سے کھیلنے والے فرد کوکبھی خوشیاں حاصل نہیں ہو سکتیں۔ بظاہر نظر آنے والی خوشیاں نظر کا فریب ہیں ضمیر کی آواز پر کان دھریں تو اندازہ ہوتا ہے کہ ہمارے اندر کی تنہائیاں چیخ چیخ کر ہمیں اپنے غلط ہونے کا احساس دلاتی ہیں۔ ہم سب اپنی ذات اور مفادات کے پجاری بن چکے ہیں، ہم بس اپنی خواہشات ہی کی پرستش کر رہے ہیں، خود ستائی و خود فریبی کا شکار ہو کر ایسے ایسے کام کر بیٹھتے ہیں جن سے صرف ہم نہیں ہم سے وابستہ کئی زندگیاں تباہ ہو جاتی ہیں۔

مزید پڑھیں >>

 تاکہ جوانی رہے تیری بے داغ۔۔۔!

اگر جنسی اس بے راہ روی کے سیلاب پر بند لگانا ہے تو مسلم معاشرہ کوبھی آگے آنا ہوگا جونوجوان معاشی کمزوری کی وجہ سے نکاح کی استطاعت نہ رکھتے ہوں ان کی امدادواعانت کرنی ہوگی، زکاۃ اور دیگر اسلام کے مالی واجبات کے ذریعہ ان نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کرناہوگا، ان کوآمادۂ نکاح کرنا ہوگا، اسطرح معاشرہ عفیف اور پاکیزہ ہوگا، جس کے اچھے اثرات نہ صرف اس فردِواحد سے وابستہ ہونگے، بلکہ سارامعاشرہ ان اچھے اثرات سے مستفید ہوگا، خودمسلمانوں کی فلاحی اور رفاہی تنظیموں کوبھی اجتماعی شادیوں کے نظم کے ذریعے سماج اور معاشرہ کی ایک بڑی ضرورت کو پوراکرناہوگا۔

مزید پڑھیں >>

شراب و منشیات: سماجی ناسور!(دوسری قسط)

واقعہ یہ بھی ہے کہ شراب و منشیات کے اس کھلے بازار میں عصمتیں نیلام ہوتی ہیں،اخلاقی زوال کی بدترین مثالیں قائم کی جاتی ہیں ،نتیجہ میں نہ صرف ملک کا مستقبل ،نوجوان طبقہ ہلاکت کا شکار ہے بلکہ خاندان اور معاشرہ بھی بتاہیوں کے دہانے پر پہنچ رہے ہیں۔ دوسری جانب منشیات اور اس کو استعمال کرنے والے افراد کے ذریعہ نہ صرف معاشی مسائل پیدا ہوتے ہیں بلکہ صحت عامہ کے بھی بے شمار مسائل یہیں سے فروغ پاتی ہیں۔

مزید پڑھیں >>

جہیز کی آڑ میں جائداد پر قبضہ

 آیئے ہم سب عہد کریں کہ جو بھی شادی دھوم دھام سے ہوگی اور جس شادی میں جہیز کا لین دین اور بارات آئے گی یا جائے گی، اس میں ہم شامل نہیں ہونگے بلکہ اس طرح کی شادیوں کا ہم بائیکاٹ کریں گے اور بیٹیوں کو وراثت سے ان کا جائز حق دیں گے۔ اس معاملے میں خاکسار طفلِ مکتب ہے، اسلئے ہو سکتا ہیکہ تحریڑ میں کہیں غلطی ہو ئی ہو۔ اگر ایسا ہوا ہو تو برائے مہربانی میری اصلاح کیجئے گا۔

مزید پڑھیں >>

اخلاقیات کا جنازہ!

آخر یہ معاشرے کے میعار کہاں طے ہو رہے ہیں اور ان کو نافذ کون کر رہا ہے۔ کبھی کبھی ایسا ہوتا ہے کہ اپنے ارد گرد موجود اپنے ہی جیسے لوگوں کو دیکھ کر خوف سا آنے لگتا ہے جیسے یہ میرے جسے کی موجودگی سے بہت زیادہ نالاں ہیں اور یہ اسے ختم کرنا چاہتے ہیں ۔ گاڑی چلاتے ہوئے برابر والی گاڑی چلانے والے کو دیکھو تو بھی ایسا ہی لگتا ہے۔  معلوم نہیں ہمارے اندر اس خوف کی پرورش کون کر رہا ہے۔  مگر یہ تو طے ہے کہ ان ساری تخریبی کاروائیوں کے پیچھے کوئی نا کوئی تو ہے۔

مزید پڑھیں >>

آتش بازی اور ہمارا معاشرہ

چوں کہ برصغیر میں ہمارا ثقافتی اور معاشرتی پس منظر ہندو تہذیب سے وابستہ رہا  اور آج بھی عملی طور پر بڑی اکثریت اسی تہذیب سے جڑی ہوئی ہے،اس لیے بہت سے مسلمان کہلانے والے افراد کا دین کےساتھ تعلق نماز روزہ حج زكٰوة کی حد تک محدودہے ان فرائض کے علاوہ دین کے کیا احکام ان پر لاگو ہوتے ہیں اس سےان کو کم ہی سروکار ہے؛جب کہ اسلامی تہذیب و ثقافت میں غیروں کے ساتھ مشابہت پر سخت ترین وعیدیں وارد ہوئی ہیں۔  

مزید پڑھیں >>

ہم نے سوچا ہی نہیں تھا، ایسا بھی کچھ ہوگا!

ویسے بھی بیٹی کی سسرال والوں کی جانب سے ڈھیر سارے مطالبات کئے گئے تھے، لیکن ہم نے کہہ دیاکہ ہم صرف دو سو باراتی برداشت کر سکیں گے اور جہیز تو سمجھو کچھ بھی نہیں ، بس ایک فریج، ایک واشنگ مشین، ایک کلر ٹی وی، بیڈ، صوفہ، الماری، پانچ لاکھ کا زیور اور گاڑی تو بس ایک ادنیٰ سی ایک لاکھ کی بائک دے رہے ہیں ، اکلوتی بیٹی کے والدین کے درمیان جاری گفتگو کے دوران برابر والے کمرے سے لڑکی کی منمنانے کی آواز آتی ہے۔

مزید پڑھیں >>

بیڈ گورننس اور بد ترین کرپشن کی رپورٹس

ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی ایک رپورٹ دیکھی کہ کرپشن، ٹیکس چوری اور بیڈ گورننس کے ضمن میں 2008ء سے 2013ء تک 9.5ٹریلین روپے ( تقریباً 9.4 ارب امریکی ڈالر) ضائع کر چکی۔ 9.5ٹریلین یعنی 95کھرب روپے پاکستانی معیشت کیلئے کتنی بڑی رقم ہے جو صرف پانچ سال میں چوری ہوئی، اور تقریباً اتنی ہی رقم ملک کے بااثر اور وڈیرے حکومت سے قرض لے کراور پھر مظلوم و لاچار بن کے معاف کرو ا چکے۔

مزید پڑھیں >>

شراب و منشیات: سماجی ناسور!

موجودہ حالات میں ضروری ہے کہ حکومتی و غیر حکومتی سطح پر بھی اُسی طریقہ تدریج کو اختیار کیا جائے۔ امید ہے اس کے بہتر نتائج اخذ ہوں گے۔ ساتھ ہی اس بات کی بھی کوشش کی جانی چاہیے کہ ان کوششوں کے درمیان ربط ہو نیز ایک دوسرے کا تعاون لینے اور دینے کی پالیسی اختیار کی جائے۔ جو لوگ اس سماجی برائی کے خاتمہ کے لیے کوشاں ہوں انہیں اِسی پس منظر میں سعی و جہد کرنی چاہیے۔

مزید پڑھیں >>