خصوصی

دعوتِ دین کے اصول و آداب

اللہ تعالی کوایک ماننا، ایک حقیقت ہے۔ اس کا تعلق انسان کی ذاتی زندگی سے بھی ہے اور سیادت، قیادت، اخلاقی و معاملاتی زندگی اور راست بازی سے بھی ہے۔ جواس کو نہیں مانے گا،وہ بالکل ایسے ہی نقصان میں رہے گا جیسے بجلی کے کھلے تار پڑے ہوں، بارش کا موسم ہواور کوئی شخص بتاتا ہوکہ آگے بڑھوگے تو کرنٹ لگ جائے گا۔ اب جو مانے گا وہ بچ جائے گا اور جو نہیں مانے گا وہ تباہ ہوجائے گا، چاہے وہ امیر ہویا غریب، اونچی ذات کا ہو یا نچلی ذات کا۔ اس لیے کہ کسی واقعہ کے بعداس کے ممکنہ نتائج سے نہیں بچاسکتا۔ اس لیے جس شخص سے بھی آپ بات کریں، اسے بتائیں کہ اس دین کو اختیار کرنے ہی میں تمہاری دنیا و آخرت کی فلاح ہے۔ دنیا کی فلاح کا مطلب یہ ہے کہ اسے اختیار کرنے سے آدمی صاف ستھری زندگی گزار ے گا، جھوٹ کی جگہ سچ بولے گا، امانت و دیانت داری اختیار کرے گا اوراس کی وجہ سے اسے جو بھی نقصان ہوگااس کااجر اسے آخرت میں ملے گا۔

مزید پڑھیں >>

صلاحیتوں کو پہچاننے اور ترقی دینے کی ضرورت

موجودہ دور نے علم کے میدان میں بڑی ترقی کی ہے اور اس کے نئے نئے شعبے کھلے ہیں ۔ لیکن آج کے طرز ِتعلیم کا نقص یہ ہے کہ اس میں طالب علم کے ذہن و مزاج ، رجحانِ طبع اور صلاحیت کو نہیں، بلکہ مارکیٹ کی ضرورت اور تقاضوں کو سامنے رکھا جاتا ہے۔ پوری دنیا میں یہی رجحان غالب ہے کہ مارکیٹ کی جو ضرورت ہے، تعلیم و تربیت کے ذریعہ اس ضرورت کو پورا کرنا چاہیے۔ مثال کے طور پر بہت سے بچوں کا فطری رجحان سوشل سائنس کی طرف ہو سکتا ہے، لیکن آج ڈیمانڈ ہے فزیکل سائنس کی، تو بچے کو اس میں لگا دیا جاتا ہے۔اس طرح ایک بچہ، جو بڑا ادیب بن سکتا تھا، معاشیات کا ماہر ہو سکتا تھا، میدانِ سیاست کا رہ نما بن کر ابھر سکتا تھا، وہ ڈاکٹر اور انجینیربن گیا ۔ اس لیے کہ ہم نے یہ نہیں دیکھا کہ اس کے اندر کیا صلاحیت ہے؟ لیکن جن لوگوں کو اپنی فطری صلاحیتوں کو پروان چڑھانے اور اپنے مزاج کے لحاظ سے کام کرنے کے مواقع مل جاتے ہیں وہ بہت تیزی سے آگے بڑھتے ہیں اور خوب ترقی کرتے ہیں۔

مزید پڑھیں >>

مسئلہ قومیت: حقیقت اور فسانہ

ضرورت اس بات کی ہے کہ ہندوستان کے ان مقامات پر جہاں ہم قابل لحاظ تعداد میں ہیں وہاں عدل و انصاف کی لڑائی  جو زمینی سطح پر جاری ہے اس میں حصہ لیتے ہوئے  دعوت کی گفتگو کریں، اگر ظلم کے خلاف جدوجہد) (struggle ہم نہیں کریں گے، تواس کا مطلب یہ ہوگا کہ ہماری یہ دعوت صرف قولی سطح تک محدود ہوکر رہ جائیگی۔

مزید پڑھیں >>

مغربی سائنس اور فلسفہ الحاد

مغربی سائنس نے (سائنس کے موضوعات کے سیاق میں ) عالمِ غیب کو تسلیم نہیں کیا ہے۔ اسی طرح شعورِ حیات کے مستقل وجود کا (جو محض مادے کی کسی خاص کیفیت کا نام نہیں ہے) ادراک نہیں کیا گیا ہے۔ اس لیے حیات اور مظاہرِ حیات کی موزونیت اور ان کے اندر پائے جانے والے حسن و تناسب کی کوئی تشریح نہیں ہوپاتی۔ مغربی سائنس نے اس توجیہ کے لیے نظریہ ارتقاء کو پیش کیا ہے۔ انیسویں صدی کے وسط میں ڈارون نے اس نظریے کی ابتدائی شکل بیان کی۔ پھر بعد کے محققین نے اس میں اہم اضافے کیے۔ ہاکنگ جیسا ذہین ناقد بھی ارتقاء کا قائل ہے اور ارتقاء کا نظریہ، الحاد کے فلسفے کے لیے سہارے کا کام کرتا رہا ہے۔

مزید پڑھیں >>

گوری لنکیش..!

گوری لنکیش نے اپنے فیس بک  کی دیوار پرلکھا  ’’ بیشتر وقت غیرحاضر والد لیکن زندگی کے ایک بہترین  معلم ۰۰۰۰میرے اپاّ!! یوم اساتذہ مبارک‘‘۔ جری والد کے روایت کی پاسدار دلیرگوری نہیں جانتی تھی کہ وہ اپنے والد معروف شاعر و صحافی پی لنکیش  کو آخری خراج عقیدت پیش کررہی ہیں۔ گوری کو یہ تو نہیں پتہ تھا کہ اس منحوس شام ان کے ساتھ کیا ہونے والا ہے لیکن وہ  اس بالکل بے خبر بھی نہیں تھیں۔   انہوں نے 2008 میں بی جے پی کے رکن پارلیمان پرہلاد جوشی اور امیش دوشی کے خلاف ایک مضمون لکھا تو ان دونوں نے عدالت میں ہتک عزت کا دعویٰ کردیا۔ اس مقدمہ کا فیصلہ نومبر 2016 میں آیا اور گوری کو  جرمانہ کے ساتھ 6 ماہ قید کی سزا سنائی گئی۔  ویسے تو انہیں اسی روز ضمانت مل گئی مگر نیوز لانڈری نامی پورٹل سے بات کرتے گوری نے کہا ’’ میں جب  اپنے خلاف ہونے والے تبصروں اور ٹویٹ کو دیکھتی ہوں تو  چوکناّ ہوجاتی ہوں۔  وہ مجھےاپنی نجی نہیں بلکہ ملک کے چوتھے اسٹیٹ(صحافت) میں  اظہار رائے کی آزادی  سے خوفزدہ کرتے ہیں‘‘۔

مزید پڑھیں >>

مانک سرکار بمقابلہ ٹانک سرکار

آسمانِ گیتی کسی کو نہیں بخشتا۔ زمانے کی گردش میں ہر کوئی آجاتا ہے ۔ مودی حکومت کی اب تک کی  رسوائیوں کا نقطۂ عروج اگست 2017 ہے۔ اس مہینے ہر محاذ پر سرکار کی ناکامیاں کھل کر سامنے آگئیں۔ عدالت عالیہ  نے حق رازداری پر حکومت کو ایسی کھری کھوٹی سنائی کے بس چلو بھر پانی میں ڈوب مرنے  کی کسر رہ گئی۔ انتظامی سطح پر  ریلوے کے مسلسل حادثوں کے سبب وزیر ریلوے نے استعفیٰ کی پیشکش  کردی اور ہریانہ کا خلفشار نے اس میں چار چاند لگا دیئے۔ معاشی میدان میں ریزرو بنک کی رپورٹ نے نوٹ بندی کا غبارہ بھرے بازار میں پھوڑ دیا۔  سفارتی سطح پر ڈوکلام سے فوجیں واپس بلا کر چین کی برتری کو تسلیم کرلیا گیا۔ غرض کوئی ایک ایسا شعبہ نہیں ہے جس میں ان لوگوں کومنہ چھپانے کی جگہ ملے ۔

مزید پڑھیں >>

کابینی توسیع: میں کاغذ کے سپاہی کاٹ کر لشکر بناتا ہوں

وزیراعظم نریندر مودی کیلئے حکومت ایک ایسی محبوبہ تھی جس نے ان  کو اپنی  دھرم پتنی کا  تیاگ کرنے کو مجبور کر دیا۔اس کو حاصل کرنے کے لیے انہوں کیا کیا نہیں کیا؟ فسادات کروائے، ملک بھر کی خاک چھانی  اوربھانت بھانت کےبہروپ اختیار کیے بالآخر 16 مئی  2014 کو ان کے سپنے ساکار ہوگئے اور سات پھیرے لے لیے گئے ۔ اس کے بعد وہ اپنی نئی نویلی دلہن کی خدمت میں لگ گئے۔ اس کو پالینے کے بعد انہیں  یہی ایک  فکر لاحق ہوگئی  کہ کہیں 2019 میں یہ بے وفا منہ موڑکر نہ چلی جائے۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے پچھلاانتخاب جیتنے کے ساتھ ہی اگلے انتخاب کی تیاری  کا آغاز فرما دیا۔ آج حالت یہ ہے کہ مودی جی  کے ہرا قدام و فیصلے کو سیاسی مبصرین اسی عینک سے دیکھتے ہیں ۔ کوئی یہ جاننے کوشش نہیں کرتا کہ اس سے عوام کا کیا فائدہ یا ملک کا کون سا نقصان ہوگا ؟  ہر کوئی اس حساب کتاب میں لگ جاتا ہے کہ  اس سے 2019 کے الیکشن پر کیا اثر پڑے گا؟

مزید پڑھیں >>

سرکاری اسکول کے اساتذہ کو درپیش چیلنجز

 مرکزی اور ریاستی حکومتیں اگر واقعی تعلیمی نظام کو بہتر بنانا چاہتی ہیں تو انہیں ان بنیادی مسائل کو حل کرنے کے لیے ٹھوس لائحہ عمل بنانا ہوگا لیکن افسوس کہ سرکاری اسکولوں کو اب تک تجربہ گاہ کے طور پر ہی استعمال کیا جاتا رہا ہے ، ایک ایسی تجربہ گاہ جہاں کے بیشتر تجربے ناکام ثابت ہوتے ہیں۔

مزید پڑھیں >>

نوٹ  بندی سے تو پر لگ گئے رسوائی کو!

نوٹ بندی کا فریب دے کر بی جے پی نے اترپردیش کا انتخاب تو جیت لیا لیکن ایک باصلاحیت وزیراعلیٰ دینے میں ناکام رہی  ۔ یوگی ادیتیہ ناتھ نے چند ماہ کے اندر اس قدر بدنامی بٹور لی ہے کہ انہیں  اب ایوگیہ (نااہل) ناتھ کے لقب سے یاد کیا جانے لگا ہے۔ اس وزیراعلیٰ کی حماقت کا یہ عالم  ہے کہ اس  نےتین طلاق کے فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہہ دیا اس سے 50 فیصد لوگوں کو راحت ملے گی۔ اس بیان سے تو ایسا لگتا ہے کہ ہندوستان کی سو فیصد آبادی مسلمان  ہے اور اس میں سے ہرعورت تین طلاق کے عذاب میں مبتلا ہے حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ سرکاری اعدادوشمار کے لحاظ سے  مسلمانوں کی آبادی 12 فیصد ہے اس میں طلاق کاتناسب عشاریہ پانچ فیصد اور تین طلاق کا شکار ہونے والی خواتین  ان طلاق دینے والوں میں عشاریہ 5 فیصد ہیں۔ اس  تعداد کا اگر ہندوستان کی کل آبادی سے موازنہ کیا جائے تو عشاریہ کے بعد اتنے صفر لگیں گے کہ یوگی جی  کو تارے نظر آنے لگیں گے۔

مزید پڑھیں >>

عید ِقرباں :جذبۂ اطاعت کوتازہ کرنے کا دن

 اسلام میں دو عید یں ہیں، اور دونوں ہی نرالی شان اور جداگانہ امتیاز رکھنے والی ہیں ۔عید یا تہوارکو دنیا صرف خوشی ومسرت یا وقتی لذت اور خواہش کی تکمیل کا موقع سمجھتی ہے، اسی لئے ان کے یہاں عید منائی بھی اسی انداز میں جاتی ہے، دل کھول کر مزے لئے جاتے ہیں، اچھائی اور برائی کے فرق کو مٹا دیا جاتا ہے اور جو نفس تقا ضا اور دل جس کی تمناکرے بے دریغ اس کو پورا کیا جاتا ہے، اور خود ان کے مذاہب کی تعلیم اور اخلاقی باتوں کو فراموش کیاجاتا ہے

مزید پڑھیں >>