ملی مسائل

ڈاکٹر ہادیہ کا قبول اسلام اور لوجہاد کی حقیقت

اس اعلان پر غور کیجئے تو پتہ چلے گا کہ اصل لو جہاد یہ ہے جس کی مہم ہندوفرقہ پرست تنظیمیں پوری قوت کے ساتھ چلا رہی ہیں، کیا ہندو جاگرن منچ کا یہ اعلان قابل گرفت نہیں ہے؟ کیا این آئی اے جیسی تحقیقاتی ایجنسیوں کو اس پر ایکشن نہیں لینا چاہیے؟ ملک کی موجودہ صورت حال مسلمانوں کے لیے لمحۂ فکریہ ہے، آر ایس ایس اور دیگر فرقہ پرست تنظیموں کی جانب سے مسلم لڑکیوں کو گمراہ کرنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگایا جارہا ہے، مسلمانوں کو چاہیے کہ عصری تعلیم حاصل کرنے والی اپنی بیٹیوں کے تحفظ کے لیے فکر مند ہوں، اس کے لیے گھریلو تربیت نہایت ضروری ہے، نیز مخلوط کالجوں سے احتراز بھی ضروری ہے، والدین کو چاہیے کہ بچپن ہی سے اپنی اولاد کے دلوں میں دین وایمان کی عظمت راسخ کریں۔

مزید پڑھیں >>

خامشی کو میری دنیا نے بھلا سمجھا ہے کیا !

کل بھیڑ جمع کر کے حکومت، عدالت اور فوج کی نگرانی میں جنہوں نے مسجد شہید کر کے عارضی مندر بنا ڈالا تھا  وہ کل  اُس کی جگہ مستقل مندر بھی بنا سکتے ہیں لیکن،اور یہ لیکن محض ایک لفظ نہیں ایک تاریخی حقیقت کا آئینہ ہے کہ ’ تبدیلی‘ تاریخ کا مزاج ہے!  حکومت، قوت اور اختیار  ہمیشہ ایک جگہ اور ایک جیسی حالت میں  نہیں رہتے۔ یہ بھی تاریخ کی روایت ہے !تو۔۔ کل جب اَہل ِمسجد پھر سے صاحب قوت و اختیار ہوں گے تو وہ بابری مسجد کو  اُسی جگہ پہلے سے زیادہ شاندار طریقے سے قائم کر کے پہلے ہی کی  طرح  وہاں کائنات کے مالک و پالن ہار کے سامنے سر بسجود  ہو کر اس کا شکر ادا کریں گے، انشا اللہ !

مزید پڑھیں >>

بابری مسجد کے مجرموں کو سزا کب ملے گی؟

 بابری مسجد کے انہدام کے بعد ایل کے ایڈوانی نے جو سب سے بڑے مجرم تھے کہاکہ 6دسمبر ان کی زندگی کا سب سے غمزدہ دن ہے۔ اٹل بہاری واجپئی نے جو اس وقت سنگھ پریوار کے سب سے بڑا چہرہ سمجھے جاتے تھے کہاکہ بابری مسجد کا انہدام افسوسناک اور غمناک ہے اور یہ کام بہت غلط ہوا۔ ایسا نہیں ہونا چاہئے تھا۔ 25سال گزر جانے کے بعد جو لوگ مجرم تھے وہ اپنے مجرمانہ فعل کی سزا سے بچے ہوئے ہیں۔

مزید پڑھیں >>

رام مندر ایشو: کچھ توہے جس کی پردہ داری ہے!

حقیقت پر مبنی ترقی سے عوام خوش ہوسکتی ہے، ورنہ یہ ملک کی عوام کو بے وقوف بنانے کے وطیرے یہ زیادہ دن تک کام نہیں آسکتے، جس کا مشاہدہ بی جے پی حکومت گجرات میں ہونے والے انتخابات سے کر لے گی لیکن بی جے پی کی یہ کمزوری ہے کہ وہ مذہبی جذبات کو ہوا دے کر ہی اقتدار کے مزے لوٹ سکتی ہے، وہ نہ چاہ کر بھی مذہبی ایشوز کو اچھالنے پر مجبور ہے۔

مزید پڑھیں >>

بابری مسجد: شہادت کے پچیس سال

 مبصرین کے مطابق بابری مسجد کی شہادت میں BJP اور سنگھ پریوار کے سیاہ کرتوت عالم آشکارا ہیں ؛مگر یہ بھی ایک کھلاراز ہے کہ کانگریس سمیت کم و بیش ملک کی تقریباً جماعتیں اعلانیہ یا غیر اعلانیہ طور پر اس جرم میں ملوث ہیں ؛ کیونکہ جب یہ جرم سر زد ہوا تو اس وقت ملک میں کانگریس کی حکومت تھی اور وزیر اعظم نرسیما راؤ چاہتے تو اس قضیے کو وقوع پذیر ہونے سے بچاسکتے تھے یا کم ازکم اس گھناؤنے جرم میں ملوث افراد کو کیفرِ کردار تک پہنچایا جا سکتا تھا اس لیے کہ 1996 تک کانگریس کی حکومت قائم رہی۔

مزید پڑھیں >>

لوجہاد کے نام پر فرقہ پرستی 

این آئی اے کو رپورٹ پیش کرنے کے احکامات جاری کیے جاتے ہیں ۔۔۔۔سلام اس مجاہدہ صفت بچی ہادیہ کو، خدا اسے استقامت دے اور دین پر قائم رکھے۔ اس نے اپنے ماں باپ، فرقہ پرست بھگوا اور یوگا تنظیمیوں کے ڈرانے دھمکانے کے باوجود بھی سپریم کورٹ میں ببانگ دہل اور علی الاعلان اسلام کی حقانیت کا اظہار کیا بھگوا طاقتوں کا اتحاد اس کے حوصلے کو توڑ نہیں سکا۔ وہ سینہ سپر ہوگئ حالات سے مقابلہ کرنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور صرف کردیا، جذبات و احساسات کے تلاطم خیز طوفان کے باوجود ہادیہ ثابت قدم ہے۔

مزید پڑھیں >>

ہادیہ  کی جرأت ایمانی نے عدلیہ کو آئینہ دکھا دیا

اکھیلا اشوکن اپنے والدین کی اکلوتی اولاد تھی اور  کیرالا کے کوٹایم ضلع میں وائکوم گاوں  کے اندر رہتی  تھی۔ اس نے سینٹ لٹل ٹیریسا گرلس اسکول سے میٹرک پاس کیا۔ اکھیلا اپنے بچپن سے طبیب بننا چاہتی تھی۔ اپنے خواب کو شرمندۂ تعبیر کرنے کی خاطر اسے 2011 میں  400 کلومیٹر دورتمل ناڈو کے  سیلم میڈیکل کالج  جانا  پڑا ۔ اکھیلا کی نقلِ مکانی ویسے تو تعلیم کی غرض سے تھی لیکن وہ نہیں جانتی تھی کہ ہدایت الٰہی اس کی منتظر ہے۔ کالج میں اکھیلا کا رابطہ مسلم طلباء سے ہوا جہاں وہ  مشرف بہ اسلام ہوگئی اور2015 میں  تبدیلیٔ مذہب کا سرٹیفکٹ بھی  حاصل کر لیا۔

مزید پڑھیں >>

ہادیہ کی آدھی آزادی، مکمل آزادی کب ملے گی؟

امید ہے سپریم کورٹ اپنی اگلی سماعت پر ان باتوں کو غور کرے گا اور ہادیہ کو مکمل آزادی کا حکم صادر کرکے اس کی ان مشقتوں اور تکلیفوں کو جو غیر قانونی اور تشدد پسند ہاتھوں کے ذریعہ پہنچائی گئی ہے اسے دور کرے گا اور کیرالہ ہائی کورٹ کے فیصلہ کی بھی خبر لے گا تاکہ نچلی عدالتیں آئندہ ایسا قدم نہ اٹھاسکیں یا ایسا فیصلہ صادر نہ کرسکیں ۔

مزید پڑھیں >>

بابری مسجد کا جھگڑا یا تنازعہ انگریزوں کا کیا دھرا

 ہندستان میں انگریزوں کی آمد سے پہلے بابری مسجد کا نہ کوئی قضیہ تھا اور نہ تنازعہ اور نہ ہی ہندو اجودھیا کو ہندوؤں کا پَوِتر استھان (مقدس مقامات) سمجھتے تھے۔ انگریزوں نے اپنی حکمرانی کی عمر دراز اور پائدار کرنے کیلئے ہندو اور مسلمانوں کو ’’لڑاؤ اور حکومت کرو کی پالیسی اختیار کی۔ انگریزوں نے مسلمانوں سے ہندستان میں ہندوؤں سے نہیں بلکہ مسلمانوں سے قتل و غارتگری کے ذریعہ حکومت چھینی تھی۔

مزید پڑھیں >>

ہادیہ، عدلیہ اور ہم !

اے پی این نیوز کے ویب پورٹل پر شایع 29 نومبر 2017 ہی کی ایک خبر کے مطابق ہادیہ کے کالج پرنسپل نے  جنہیں سپریم کورٹ نے اس کا  نیا ’گارجین ‘ مقرر کیا ہے، اُسے اپنے شوہر سے ملنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا ہے ۔ یہ کالج تمل ناڈو کے سلیم شہر میں ہے جہاں  منگل کے روز پولیس نے اُسے پہنچا دیا ہے۔ اپنے پرنسپل کے رخ کا مشاہدہ کرنے کے بعد ہادیہ نے  کہا ہے کہ’’ میں  اب بھی آزاد نہیں ہوں   مجھے  لگتا ہے کہ اب یہ کالج  ہیمیرا  دوسرا قید خانہ ہوگا جبکہ میں آزادی چاہتی ہوں ۔ اپنے شوہر سے ملنے کی آزادی جو میرا قانونی اور اخلاقی حق ہے !

مزید پڑھیں >>