تقابل ادیان

اہل کتاب سے بحث نہ کرو مگر عمدہ طریقہ سے

عام طور پر مسلمانوں کو اسلامی تعلیمات اور معلومات سے کم واقفیت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب وہ اہل کتاب یا کسی دیگر مذاہب کے ماننے والوں سے بحث و مباحثہ کرتے ہیں تو قرآنی تعلیمات کی روشنی میں کرنے کے بجائے اپنی منطق اور عقل و دانش کا ایسا استعمال کرتے ہیں کہ مقابل شخص اسلام یا قرآن سے قریب آنے کے بجائے دور ہوجاتا ہے۔ پھر اس کا تاثر یہ ہوتا ہے کہ مذہبی بحث لایعنی ہے۔ مذہبی بحث و مباحثہ سے دور رہنا چاہئے۔

مزید پڑھیں >>

مکالمہ بین المذاہب سے مرتب ہونے والے اثرات

موجودہ دور میں جہاں قیام امن ،بین المذاہب ہم آہنگی اور ملکی استحکام کے خواب کو شرمندہ تعبیر بنانے کیلئے تمام تر توانائیوں کو بروئے کار لایا جا رہاہے لیکن مذہبی رواداری کا فروغ اور بین المذاہب ہم آہنگی کا …

مزید پڑھیں >>

ہِندو دھرم کیا ہے؟  (تیسری قسط)

تحریر: مولانا انیس احمد فلاحی مدنی… ترتیب:عبدالعزیز ہندو دھرم کے مصادر:                  ہندومت کی مقدس کتابیں نو ہیں: (۱) وید، (۲)اپنشد، (۳) پُران، (۴)مہابھارت، (۵)شریمد بھگوت گیتا، (۶)رامائن، (۷)یوگ واششٹھ، (۸)ویدانت، (۹)دھرم شاستر۔                  (۱) وید: وید سنکسرت لفظ ہے …

مزید پڑھیں >>

ہِندو دھرم کیا ہے؟ (2)

انسانوں کی اصلاح کیلئے خدا کا انسانی شکل میں پیدا ہونا یا زمین پر اترنا اوتار کہلاتا ہے۔ شری دیا نند گوپال نے اوتار کی تعریف یوں کی ہے: ’’پردۂ غیب سے محسوس صورت میں خدا کا ظہور‘‘۔ اور یہی تعریف زیادہ صحیح ہے، اس لئے کہ خدا نے صرف انسانوں کا قالب ہی نہیں اختیار کیا بلکہ ہندو دھرم کی رو سے وہ مچھلی، سور وغیرہ کی شکل میں نمودار ہوا ہے۔ ہندوؤں کا یہ عقیدہ ہے کہ ایشور اگر چہ ہر وقت موجود ہے پھر بھی وہ ضرورت کے مطابق مختلف اوقات میں زمین پر مختلف شکلوں میں خود اپنی یوگا مایا سے پیدا ہوتا ہے۔

مزید پڑھیں >>

ہِندو دھرم کیا ہے؟

ہندو مذہب ایک مشرکانہ مذہب ہے جسے ہند کی اکثریت مانتی ہے اور جس کی تشکیل پندرہویں صدی قبل مسیح سے لے کر موجودہ دور تک ہوتی رہی۔ یہ ایک اخلاقی، روحانی اور ہمہ گیر جامع نظام حیات کا حامل مذہب ہے۔ مختلف خداؤں پر یقین رکھنے والا ہر عمل اور علاقہ کا جدا جدا خدا کا قائل مذہب ہے۔ ہندو دھرم کو قدیم زمانے میں برہمنی مت، آریہ دھرم اور سناتن دھرم بھی کہا جاتا تھا۔ اس مناسبت سے لفظ برہمن اور آریہ کی تحقیق نذر قارئین کی جارہی ہے۔

مزید پڑھیں >>

سکھ مت پر اسلام کے اثرات

اسلام کی طرح سکھ مت بھی خدائے واحد پر یقین رکھتا ہے اور ذات باری کو ان تمام صفات سے متصف قرار دیتا ہے جن سے اسلام اسے متصف مانتا ہے۔ ڈاکٹر گوپال چندر سنگھ گروگرنتھ صاحب کے ترجمہ کے مقدمہ میں لکھتے ہیں: ’’وہ ازلی خالق اور محیط ہے، حسد و نفرت سے دور اور علت العلل ہے، جملہ مخلوقات کا معبود، عادل، رحیم اور کریم ہے، اس نے انسانوں کو ان کے گناہوں پر سزا دینے کیلئے نہیں بلکہ اپنی عبادت کیلئے پیدا فرمایا ہے‘‘۔ اسلام نے بھی خدا کو ان جملہ صفات سے متصف قرار دیا ہے۔

مزید پڑھیں >>

پاکستان میں قادیانیوں کو کیسے غیر مسلم قرار دیا گیا؟

پروفیسر عبدالغفوراحمد (سابق نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان، سابق ممبر نیشنل اسمبلی)         7؍ ستمبر 1974ء کوپاکستان کی نیشنل اسمبلی (پارلیمنٹ ) نے ایک متفقہ قرار داد کے ذریعہ فادیانیت کے دونوں فرقوں کو غیر مسلم قرار دیا۔ پروفیسر عبدالغور …

مزید پڑھیں >>