دعوت

کیا تصورِ خدا فقط انسانی ذہن کا کرشمہ ہے؟(آخری پارٹ)

اسی طرح ایک تھری ڈی کے آبجیکٹ پر ایک تھری ڈی کاآبجیکٹ ایسی تہہ نہیں بنا سکتا کہ اگلی ڈائمینشن کا اظہار ہو۔اگر کوئی ڈائمینشن اپنے اوپر آئے گی تو وہ، بعینہ وہی ڈائمینشن رہیگی نہ کہ کوئی اور ڈائمینشن بن جائے گی۔اس اصول کی روشنی میں ہرڈائمینشن پر دوسری کوئی اور ڈائمینشن تعمیر ہوتی ہے۔ اگر بہت ساری کائناتیں ہیں تو بہت ساری ڈائمینشنز بھی ہوں گی۔

مزید پڑھیں >>

کیا تصورِ خدا فقط انسانی ذہن کا کرشمہ ہے؟(پارٹ-3)

چنانچہ مذہب کے راستے سےکسی معاشرے میں داخل ہونے والی بُری رسموں کا مقابلہ صرف کوئی ایسا شخص ہی کرسکتاہے جو خود نئی نسل کا نمائندہ ہو۔ اس کے پاس اجتہاد کی طاقت ہو۔ وہ بری اور اچھی رسموں کا فرق پہنچانتاہو اور وہ پرانی نسل کی رسوم بالخصوص مذہبی رسوم (اور خداؤں) کا انکار کرسکے۔ایسا کوئی شخص اگر کامیاب ہوجائے تو ایک بار پوری سوسائٹی بدل جاتی ہے۔بہت سارے بُت ٹوٹ جاتے ہیں۔ فضول چیزوں میں سے سے تقدس کا عنصر ختم ہوجاتاہے۔

مزید پڑھیں >>

کیا تصورِ خدا فقط انسانی ذہن کا کرشمہ ہے؟ (پارٹ:2)

چونکہ توھّمات انسانی جبلّت کا حصہ ہیں اور ان کے بغیر انسانی وجود کا تصور ممکن نہیں اس لیے انسانوں کو ہمیشہ مذہب کی ضرورت رہتی ہے۔ کیونکہ اعصاب کی کمزوری کے ساتھ ساتھ توھّمات میں اضافہ ہوتاہے ۔ بچے ، عورتیں اور بوڑھے لوگ زیادہ توھّم پرست ہوتےہیں ۔ وجہ یہی ہے کہ اُنکے اعصاب زیادہ کمزور ہوتے ہیں اور اُن کے لیے واقعہ میں زیادہ تکرار کی ضرورت نہیں ہوتی۔ بہت زیادہ کمزور اعصاب کا مالک شخص ایک بار کی ’’ہونی‘‘ کو بھی فطرت کی طرف سے پیغام سمجھ سکتاہے۔

مزید پڑھیں >>

کیا تصورِ خدا فقط انسانی ذہن کا کرشمہ ہے؟ (پارٹ-1)

اِس موضوع کو لے کر صدیوں پر محیط سوالات اور ان کے جوابات کے سلاسل سے کتابوں کی الماریاں بھری پڑی ہیں۔ لیکن عموماً دیکھا گیاہے کہ خدا کو ماننے اور نہ ماننے کا تعلق کتابوں اور عقلی دلائل سے نہیں ہے بلکہ جذبات سے ہے۔ ہم اگر ایک ’’کوانٹی ٹیٹِو‘‘ (Quantitative) ریسرچ کریں اور چھ ارب انسانوں میں زیادہ سے زیادہ لوگوں کے تصورِ خدا کا مطالعہ کرنے کی کوشش کریں تو ایک بات پورے ثبوت کے ساتھ سامنے آسکتی ہے کہ اِس تصور کا تعلق انسانی کی عقلی زندگی کے ساتھ نہیں بلکہ جذباتی زندگی کے ساتھ ہے۔

مزید پڑھیں >>

برادران وطن میں دعوت کا فریضہ اب امت مسلمہ کے ذمہ ہے!

اب اس دعوت اور تبلیغ کو ان لوگوں تک پہنچانا امت مسلمہ کے ذمہ ہے۔ اس ملک میں بڑے بڑے دینی مدارس موجود ہیں، فلاحی ادارے موجود ہیں، دینی تنظیمیں اور جماعتیں بھی موجود ہیں جو مسلمانوں کی فلاح و بہبود کے لیے ہمہ تن سرگرم عمل ہیں لیکن جہاں تک فریضہ دعوت دین کا تعلق اس سے ان کی طرف سے مسلسل غفلت برتی جارہی ہے جس کا نتیجہ ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں کہ مسلمان بری طرح ابتلا و آزمائش کے لامتناہی دور سے گذر رہے ہیں اور ابتلا و آزمائش کے یہ بادل اسی وقت چھٹینگے جب ہم فریضہ دعوت دین کو اولیت دینگے۔

مزید پڑھیں >>

شیخ مبارک بودلے جائسی اور اودھ میں دعوت اسلام (دوسری قسط)

 شیخ مبارک بودلے ؒ کے انتقال کے بعد آنے والی نسل اخلاق واعمال کے زوال سے دوچار ہوئی۔ ایک طرف ان کے عقائد نے ہندوستانی رنگ اختیار کیا، تو دوسری طرف ہندوستانی روایات نے اسلامی اقدار کی جگہ لینی شروع کردی، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ وہ تعلیم وتبلیغ اور ارشاد وہدایت میں مشغول ہونے کے بجائے عرس وفاتحہ اور محرم وعزاداری کے مراسم میں الجھ کر رہ گئی۔

مزید پڑھیں >>

ملک کے موجودہ حالات میں دعوت دین کی اہمیت

  ہمارے اندر یہ بات تو بہت ہوتی ہے لیکن عمل نہیں ہے کہ ہم ملک کے 130 کروڑ افراد کو اپنی قوم نہیں مانتے، ہم ان کو اپنے سے دور سمجھتے ہیں . لیکن "یا قومی" (ائے میری قوم) یہ داعی کا کام ہے، قرآن ہماری رہنمائی کرتا ہے. ہر فرد کی ہم دنیا و آخرت کی کامیابی چاہتے ہیں سورہ نوح میں فرمایا گیا اگر تم اللہ کا تقوی اختیار کروگے تو ہم آسمان سے بارش نازل کریں گے،اولاد دیں گے.

مزید پڑھیں >>

بہار ہو کہ خزاں لا الہ الا اللہ

بہار ہو کہ خزاں لاالہ الا اللہ کا نغمہ ایسے ہی بے لوث بندگان خدا سے ممکن ہے کہ حالات چاہے سازگار ہوں کہ ناسازگار، ہر طرح کے شکوے اور اندیشے سے بے نیاز ہوکر راہ خدا میں اس قدرمصروف رہتے ہیں کہ ان کے حرکت و عمل سے اسی نغمہ توحید کی صدائیں ہرسوسنائی دینےلگتی ہیں ۔ ایسے ہی جیالوں کے سلسلہ میں رسول اکرمﷺ کے یہ فرمان صادق آتے ہیں کہ پر فتن دور میں بھی وہ انسانی معاشروں کیلئے سراپا خیر ورحمت بن جاتے ہیں

مزید پڑھیں >>

ایک لداخی لڑکی کا قبولِ اسلام

میں نے اسلام قبول کرنے کا فیصلہ آج نہیں کیا بلکہ پانچ سال پہلے کیا ہے۔ یہ اس لئے نہیں کہ میں اس مذہب کو ناپسند کرتی ہوں جس میں میری پیدائش ہوئی ہے۔ اصل میں یہ میری ذاتی تلاش روحانیت تھی اور میں مختلف مذاہب کے مختلف فلسفہ سے دلچسپی رکھتی تھی۔ میری اس جستجو نے مجھے اسلام تک پہنچا دیا۔ اور اس طرح میں نے اسلام مذہب کو اپنایا۔ یہ مرتضیٰ کی ملاقات سے بہت پہلے کی بات ہے۔ اس میں مرتضیٰ کا کوئی عمل دخل نہیں ہے۔

مزید پڑھیں >>

دعوتِ دین کے اصول و آداب

اللہ تعالی کوایک ماننا، ایک حقیقت ہے۔ اس کا تعلق انسان کی ذاتی زندگی سے بھی ہے اور سیادت، قیادت، اخلاقی و معاملاتی زندگی اور راست بازی سے بھی ہے۔ جواس کو نہیں مانے گا،وہ بالکل ایسے ہی نقصان میں رہے گا جیسے بجلی کے کھلے تار پڑے ہوں، بارش کا موسم ہواور کوئی شخص بتاتا ہوکہ آگے بڑھوگے تو کرنٹ لگ جائے گا۔ اب جو مانے گا وہ بچ جائے گا اور جو نہیں مانے گا وہ تباہ ہوجائے گا، چاہے وہ امیر ہویا غریب، اونچی ذات کا ہو یا نچلی ذات کا۔ اس لیے کہ کسی واقعہ کے بعداس کے ممکنہ نتائج سے نہیں بچاسکتا۔ اس لیے جس شخص سے بھی آپ بات کریں، اسے بتائیں کہ اس دین کو اختیار کرنے ہی میں تمہاری دنیا و آخرت کی فلاح ہے۔ دنیا کی فلاح کا مطلب یہ ہے کہ اسے اختیار کرنے سے آدمی صاف ستھری زندگی گزار ے گا، جھوٹ کی جگہ سچ بولے گا، امانت و دیانت داری اختیار کرے گا اوراس کی وجہ سے اسے جو بھی نقصان ہوگااس کااجر اسے آخرت میں ملے گا۔

مزید پڑھیں >>