دعوت

حالات وظروف کا تنوع اور دعوت اسلامی

یہ واقعہ ہے کہ جب حالات و ظروف بدلتے ہیں  تو نئے چیلنجز سامنے آتے ہیں ۔ کسی ایک زمانے میں  بھی خطہ ارضی پر رہنے والے مختلف انسانی گروہوں  کے حالات یکساں  نہیں  ہوتے چنانچہ ان سے دعوتی مخاطبت میں  اس تنوع کا لحاظ ضروری ہے۔ اسی طرح زمانے کی تبدیلی کے ساتھ ٹکنالوجی، وسائل کے استعمال کے طریقوں  اور ابلاغ کے ذرائع میں  تبدیلی آتی ہے۔ انسانوں  سے خطاب کرنے کے اسلوب پر اس تبدیلی کا اثر پڑنا لازمی ہے۔ خارج کی ان تبدیلیوں  کے علاوہ انسانی گروہوں  کے مزاج اور نفسیات میں  پائے جانے والے تنوع اور اُن کے داخل کی دنیا میں  واقع ہونے والے تغیرات کو بھی نظر انداز نہیں  کیا جانا چاہیے۔

مزید پڑھیں >>

معاصر دنیا اور دعوت اسلامی

 کار دعوت سے متعلق ہر کارکن جانتا ہے کہ یہ کام بڑا وسیع ہے۔ اس کام کا بنیادی ذریعہ ہمیشہ ایک ہی رہا ہے۔ ہماری مجلسوں میں اس کی بار بار یاد دہانی بھی ہمیں کرائی جاتی رہی ہے یعنی انسانوں سے انفرادی ربط اور گفتگو ہے۔ ہندوستان کروڑوں کی آبادی کا ملک ہے۔ یہاں ہر سطح کے لوگ آباد ہیں ۔ ذہنی صلاحیت، فکری پس منظر اور رجحانات کے اعتبار سے بڑا تنوع پایا جاتا ہے۔یہ ساری آبادی جدید نظریات و فلسفوں سے واقفیت یا ان سے متأثر نہیں ہے۔ البتہ تعلیم یافتہ طبقے پر ان نظریات کا اثر پڑا ہے۔ ملک کے کار فرما عناصر، جن کا تعلق حکومت اور پالیسی سازی سے ہے اور جو ذرائع ابلاغ کی دنیا پر چھائے ہوئے ہیں، وقت کے غالب فکری رجحانات سے متأثر ہیں۔

مزید پڑھیں >>

اقامت دین ہندوستان میں: معنویت اور تقاضے!

رجحانات کی کش مکش کے اس ماحول میں امت مسلمہ کو دین کی اقامت کا فریضہ انجام دینا ہے۔ اس کے لیے مسلم مزاج کی تربیت ضروری ہے۔مسلمان اس وقت ہندتو کے بڑھتے ہوئے اثرات کو دیکھ کر تشویش میں مبتلا ہیں ۔ یہ تشویش بجا ہے۔ ہندتو کے مقابلے میں کمیونسٹ اور امبیدکر وادی حلقوں کے بارے میں مسلمان خوش گمان ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ان کے تشخص کی حفاظت اور ان کے مسائل کے حل کے لیے ان سیاسی طاقتوں سے اچھی امیدیں وابستہ کی جاسکتی ہیں ۔ چناں چہ مسلمانوں کے درمیان بحث اور گفتگو اس موضوع پر ہوتی ہے کہ ان رجحانات میں کس کا ساتھ دیا جائے؟ مسلمان عوام اور ان کی سیاسی قیادت نے اب تک اس انداز سے سوچنا شروع نہیں کیا ہے کہ ان مختلف قوتوں پر انحصار (Dependence) اور ان سے سودا چکانے (Bargaining) کے بجائے کوئی اور راستہ بھی ہوسکتا ہے، جو مسلمانوں کے شایانِ شان ہو اور جس پر چل کر وہ نہ صرف اپنے تشخص کی حفاطت کرسکیں ، نیز اپنے مسائل حل کرسکیں ، بلکہ اپنے فرضِ منصبی کو بھی انجام دے سکیں ۔

مزید پڑھیں >>

داعیانہ کردار کی اہمیت عصرِ حاضر کے تناظر میں

معاشر ہ کی اصلاح کے لئے داعیانہ سرگرمیوں کو جاری رکھنے کی سخت ضرورت ہے، اس سے ایک طرف معاشرہ اچھے اوصاف پر استوار ہوتاہے، معاشرہ سے جرائم بے حیائی اور بری باتوں کا خاتمہ ہوتا ہے، اور پورے معاشرہ میں امن وسکو ن اورمحبت ومودت کی خوشگوار فضاقائم ہوتی ہے،تودوسری طرف برادرانِ وطن کے سامنے اسلامی تعلیمات کے محاسن اور اس کی خوبیاں اجاگر ہوتی ہیں،

مزید پڑھیں >>

کہاں ہیں خیر کی طرف بلانے والے؟

اس رمضان میں اگر یہ عہد کریں کہ ہم اسلام کے مطابق زندگی گزاریں گے، خود بھی برائیوں سے بچیں گے اوراپنے سماج کو بھی برائیوں سے بچائیں گے توآپ کا یہ عمل دیش میں عزت واحترام میں اضافہ کاسبب بنے گا اورآخرت میں نجات کا ذریعہ۔ دنیا میں ہمیشہ دینے والے کی قدر ہوتی ہے مانگنے والے کی نہیں تو کیوں نہ ہم ملک کو اچھائیوں کی سوغات دینے والے بنیں ۔

مزید پڑھیں >>

رمضان المبارک: فضائل، فوائد اور مسائل!

جوشخص روزہ رکھتاہے، وہ صابربن جاتاہے کہ روزہ نام ہی کھانے پینے اورشہوات سے رکنے کاہے، انسان بازارجاتاہے، وہاں بہت سارے لوگوں کوکھانے پینے میں مصروف دیکھتاہے، طبیعت اس کی بھی چاہتی ہے اوربھوک بھی محسوس ہوتی رہتی ہے؛ لیکن پھربھی صرف اس وجہ سے ان چیزوں کوترک کردیتاہے کہ وہ روزہ سے ہے، اسی طرح کوئی اسے بُرابھلا کہتاہے، لیکن وہ جواب صرف اس وجہ سے نہیں دیتاہے کہ وہ روزہ سے ہے، ان چیزوں سے رکنا’’کفِ نفس‘‘ کہلاتاہے اورصبرکف نفس ہی کانام ہے۔

مزید پڑھیں >>

غیر مسلموں میں  دعوت: چند تجربات!

سوال یہ ہے کہ کیا کبھی ہم نے اس حوالے سے غور کیا کہ عیسائی جو اہل کتاب ہیں ، ان تک ہمیں دعوتِ دین پہنچانا ہے؟ انھیں جہنم کی آگ سے بچانے کیلئے ہم تڑپیں اور ان تک موثر انداز میں اسلام کی دعوت پہنچانے کی بھرپور کوشش کریں ۔ پاکستان میں ایک بڑی تعداد میں عیسائی بلدیاتی سطح پر صفائی اور سیوریج کے شعبے سے وابستہ ہیں ۔ گھروں میں کام کرنے والے بہت سی خواتین کا تعلق بھی عیسائیت سے ہے، لیکن ہمارا ان کے ساتھ کیسا رویہ ہوتا ہے۔

مزید پڑھیں >>

موجودہ حالات میں سرگرمیوں کا دائرہ اسلام کی دعوت پر مرکوز ہونا چاہیے!

ان حالات میں اسلام سے مکمل طور پر وابستگی اختیار کی جائے۔ساتھ ہی دیگر سرگرمیوں کو ذرا کم کرتے ہوئے اسلام کے آفاقی نظریہ اور اس کے عقائد سے برادران وطن کو منظم و منصوبہ بند انداز میں واقف کرایا جائے۔نیز اپنی تمام تر سرگرمیوں کے دائروں میں ایک بڑا یا سب سے بڑا دائرہ اسلام کی دعوت پر مرکوز کیا جانا چاہیے ۔یہی وقت کی آواز ہے اور یہی وہ نسخہ کیمیا ہے جس کی روشنی میں ہم اورآپ کامیاب و سرخ رو ہوں گے!

مزید پڑھیں >>

استقبال رمضان، قرآن اور اقامت دین کی جدجہد

آج جو عذر ہمارے پاس اس چھوٹی سی حکمرانی میں ہیں یہ عذر بڑی حکمرانی ملنے کے بعد مزید بڑھ جائیں گے۔ ہمارے ملک کے حکمران کیوں اسلام نافذ نہیں کرتے ؟ ان کے پاس بھی اسی طرح کے عذر ہیں جو ہمارے پاس گھر میں اسلامی ماحول بنانے میں درپیش ہوتے ہیں ۔اس لئے اپنے جسم پر نافذ کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے گھر میں اسلام نافذ کریں تاکہ بڑی حکمرانی چلانے کا تجربہ حاصل ہو۔

مزید پڑھیں >>

رمضان المبارک کے فضائل

رمضان المبارک بندۂ مومن کے لئے اللہ تعالی کی طرف سے باعث سعادت ہے ۔ یوں تو اللہ کی طرف سے بندوں کے لئے بہتیرے مواقع ایسے ہیں جو باعث اجروثواب ہیں مگررمضان مقدس کی بات ہی کچھ اور ہے ۔ یہ رحمت وبرکت سے لبریز،بخشش وعنایت سے پر،مغفرت ورضوان کا مہینہ ہے ۔ اس کا ایک ایک دن اورایک ایک رات اور رات ودن کا ایک ایک لمحہ خیروبرکت سے معطر ہے ۔

مزید پڑھیں >>