دعوت

شیخ مبارک بودلے جائسی اور اودھ میں دعوت اسلام (دوسری قسط)

 شیخ مبارک بودلے ؒ کے انتقال کے بعد آنے والی نسل اخلاق واعمال کے زوال سے دوچار ہوئی۔ ایک طرف ان کے عقائد نے ہندوستانی رنگ اختیار کیا، تو دوسری طرف ہندوستانی روایات نے اسلامی اقدار کی جگہ لینی شروع کردی، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ وہ تعلیم وتبلیغ اور ارشاد وہدایت میں مشغول ہونے کے بجائے عرس وفاتحہ اور محرم وعزاداری کے مراسم میں الجھ کر رہ گئی۔

مزید پڑھیں >>

ملک کے موجودہ حالات میں دعوت دین کی اہمیت

  ہمارے اندر یہ بات تو بہت ہوتی ہے لیکن عمل نہیں ہے کہ ہم ملک کے 130 کروڑ افراد کو اپنی قوم نہیں مانتے، ہم ان کو اپنے سے دور سمجھتے ہیں . لیکن "یا قومی" (ائے میری قوم) یہ داعی کا کام ہے، قرآن ہماری رہنمائی کرتا ہے. ہر فرد کی ہم دنیا و آخرت کی کامیابی چاہتے ہیں سورہ نوح میں فرمایا گیا اگر تم اللہ کا تقوی اختیار کروگے تو ہم آسمان سے بارش نازل کریں گے،اولاد دیں گے.

مزید پڑھیں >>

بہار ہو کہ خزاں لا الہ الا اللہ

بہار ہو کہ خزاں لاالہ الا اللہ کا نغمہ ایسے ہی بے لوث بندگان خدا سے ممکن ہے کہ حالات چاہے سازگار ہوں کہ ناسازگار، ہر طرح کے شکوے اور اندیشے سے بے نیاز ہوکر راہ خدا میں اس قدرمصروف رہتے ہیں کہ ان کے حرکت و عمل سے اسی نغمہ توحید کی صدائیں ہرسوسنائی دینےلگتی ہیں ۔ ایسے ہی جیالوں کے سلسلہ میں رسول اکرمﷺ کے یہ فرمان صادق آتے ہیں کہ پر فتن دور میں بھی وہ انسانی معاشروں کیلئے سراپا خیر ورحمت بن جاتے ہیں

مزید پڑھیں >>

ایک لداخی لڑکی کا قبولِ اسلام

میں نے اسلام قبول کرنے کا فیصلہ آج نہیں کیا بلکہ پانچ سال پہلے کیا ہے۔ یہ اس لئے نہیں کہ میں اس مذہب کو ناپسند کرتی ہوں جس میں میری پیدائش ہوئی ہے۔ اصل میں یہ میری ذاتی تلاش روحانیت تھی اور میں مختلف مذاہب کے مختلف فلسفہ سے دلچسپی رکھتی تھی۔ میری اس جستجو نے مجھے اسلام تک پہنچا دیا۔ اور اس طرح میں نے اسلام مذہب کو اپنایا۔ یہ مرتضیٰ کی ملاقات سے بہت پہلے کی بات ہے۔ اس میں مرتضیٰ کا کوئی عمل دخل نہیں ہے۔

مزید پڑھیں >>

دعوتِ دین کے اصول و آداب

اللہ تعالی کوایک ماننا، ایک حقیقت ہے۔ اس کا تعلق انسان کی ذاتی زندگی سے بھی ہے اور سیادت، قیادت، اخلاقی و معاملاتی زندگی اور راست بازی سے بھی ہے۔ جواس کو نہیں مانے گا،وہ بالکل ایسے ہی نقصان میں رہے گا جیسے بجلی کے کھلے تار پڑے ہوں، بارش کا موسم ہواور کوئی شخص بتاتا ہوکہ آگے بڑھوگے تو کرنٹ لگ جائے گا۔ اب جو مانے گا وہ بچ جائے گا اور جو نہیں مانے گا وہ تباہ ہوجائے گا، چاہے وہ امیر ہویا غریب، اونچی ذات کا ہو یا نچلی ذات کا۔ اس لیے کہ کسی واقعہ کے بعداس کے ممکنہ نتائج سے نہیں بچاسکتا۔ اس لیے جس شخص سے بھی آپ بات کریں، اسے بتائیں کہ اس دین کو اختیار کرنے ہی میں تمہاری دنیا و آخرت کی فلاح ہے۔ دنیا کی فلاح کا مطلب یہ ہے کہ اسے اختیار کرنے سے آدمی صاف ستھری زندگی گزار ے گا، جھوٹ کی جگہ سچ بولے گا، امانت و دیانت داری اختیار کرے گا اوراس کی وجہ سے اسے جو بھی نقصان ہوگااس کااجر اسے آخرت میں ملے گا۔

مزید پڑھیں >>

پیغامِ حق کی ترسیل

اِنسانوں تک ہدایت اِلٰہی کی ترسیل کے اعتبار سے انسانی تاریخ کے دو دور قرار پاتے ہیں۔  پہلا دور حضرت آدم علیہ السلام سےشروع ہوکر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ختم ہوتا ہے۔  تاریخ کے اس مرحلے میں اِنسانوں تک اُن کے خالق ومالک کی ہدایت، اُس کے پیغمبروں کے ذریعے پہنچتی رہی ہے۔ اِنسانی تاریخ کا دوسرا دور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سے قیامت تک وسیع ہے۔  اس دور میں اِنسانوں تک پیغامِ ربانی کوپہنچانے کا کام اُمت مسلمہ کے سپرد کیا گیا ہے۔  تاریخ کے اِن دونوں ادوار میں دینِ حق کی اقامت اوراُس کے مکمل اظہار کا طریقہ ایک ہی رہا ہے جس کے بنیادی اجزاء ’’دعوت اور جہاد‘‘ ہیں۔  پہلے جُز— ’دعوت‘ —کے اصل ذرائع اِبلاغ اورترسیل ہیں جن کے لیے اِنسانوں سے ربط ضروری ہے۔

مزید پڑھیں >>

اذان اور دعوت میں تعلق (چوتھی قسط)

 جس نے پوری دنیا کو ظلم وستم سے بھر دیا ہے، جمہوری نظام کے ظلم وستم کو صرف اسلامی نظام ہی ختم کر سکتا ہے اسلئے میدان سیاست میں  شدومد کے ساتھ اسلامی نظام کو پیش کرنے کی ضرورت ہے، اور یہ امت مسلمہ کے فرض منصبی میں  شامل ہے۔

مزید پڑھیں >>

اذان اور دعوت میں  تعلق (دوسری قسط)

اس پوری کائنات میں  ایک بھی چیز بیکار اور بے فائدہ پیدا نہیں  ہوئی ہے، ساتھ ہی اس سے یہ بات بھی واضح ہوگئی کہ اللہ تعالیٰ نے پورے انسانوں  کے لیے ایک بھی حکم بیکار اور بے فائدہ نہیں  دیا، بلکہ اس نے تمام انسانوں  کے لیے تمام احکام ایک مقصد اور فائدہ کے تحت دیئے ہیں  اس لیے کسی شخص کو اگر اللہ کے کسی حکم میں  نقصان نظر آرہا ہے تو یہ اس کی عقل کا نقص ہے، لیکن یہ بھی افسوس کی بات ہے کہ دنیا میں  زیادہ تر وہی انسان عقلمند شمار ہوتے ہیں  جو ناقص العقل ہیں

مزید پڑھیں >>

دعوت و جہاد اور اسوۂ نبوی

یہ سوال اکثر کیا جاتا ہے کہ ’’جہاد، دفاعی ہے یا اقدامی؟‘‘ یہ سوال چونکہ نامکمل شکل میں کیا جاتا ہے اس لیے مغالطہ آمیز ہے۔ اصل صورتحال یہ ہے کہ ایمان لانے والوں کا کام حق پر خود عمل کرنا اور دنیا کے سامنے حق کا اظہار کرنا ہے تاکہ ہدایت کے طالبین، ہدایت سے محروم نہ رہیں ۔ اظہارِ دین کا یہ کام دعوت اور جہاد کے ذریعے انجام پاتا ہے۔ اپنی نوعیت کے اعتبار سے یہ دونوں کام لازم و ملزوم ہیں ۔ ذہنوں پر گمراہی کے غلبے کو مٹانے کا کام، دعوت کے ذریعے ہوتا ہے۔ اگر دعوت کے اس کام میں کوئی رکاوٹ نہ ڈالی جائے تو جہاد کی ضرورت پیش نہیں آتی۔ البتہ اگر حق کی طرف بلانے، حق کو اختیار کرنے یا احکامِ الٰہی پر عمل کرنے میں رکاوٹ ڈالی جائے تو ان رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے جہاد کی ضرورت پیش آتی ہے۔

مزید پڑھیں >>

نگا راج راؤ، محمد عمران راؤ کیسے ہوئے؟

آج کل ایک ویڈیو وائرل ہورہی ہے۔ اس ویڈیو میں آر ایس ایس کے ایک کٹر ممبر نگا راج نے قبول حق کی اپنی کہانی جس دانشورانہ انداز سے بیان کی ہے وہ سننے اور سمجھنے کے لائق ہے۔ اس میں غور و فکر کا عنصر شامل ہے۔ صداقت اور سچائی سے لبریز ہے۔ کسی ایک جملہ یا بات میں نہ تصنع ہے اور نہ بناوٹ۔

مزید پڑھیں >>