تصوف

تصوف، مذہب اور دین اسلام (ساتویں قسط)

ایک صوفی  اگر فلک الافلاک تک پہنچ جاۓ تو،وہ اپنے انفرادی تجربہ کی تجرد گاہ سے،واپس ہی نہیں آنا چاہتا، اور جب واپس آتا ہے( اسلیئے کہ اس کو واپس آنا پڑتا ہے) تو اسکی یہ واپسی بنی نوع انسان کیلیئے، کچھ معنی نہیں رکھتی، لیکن اسکے برعکس، ایک نبی کی مراجعت،تخلیقی ہوتی ہے، وہ (نبی)آتا ہے کہ زمانے کے طوفان ہر تسلط پاکر تاریح کی تمام قوتوں کو، اپنے قابو میں لے آۓ،اور اس طرح ،مقاصد ومطامح کی ایک نئی دنیا تعمیر کردے،جبکہ اسکے برعکس ۔۔۔۔۔۔ ایک صوفی کیلئے اسکے انفرادی  تجربہ گاہ کی تجرد گاہ،آخری مقام ہوتی ہے۔

مزید پڑھیں >>

تصوف، مذہب اور دین اسلام (چھٹی قسط)

کوئی شخص اس وقت تک، نئی دنیا دریافت نہیں کر سکتا، جب تک وہ، پرانی دنیا نہ چھوڑ دے۔ ۔۔۔ اور نہ ہی کوئی ایسا شخص، دنیاۓ جدید دریافت کرسکتا ہے جو پہلے اس امر کی ضمانت مانگے کہ وہ نئی دنیا، اس قسم کی ہونی چاہئے۔ یا وہ اس قسم کا مطالبہ کرے کہ جب نئی دنیا وجود میں آۓ گی، تو مجھے کیا ملے گا؟

مزید پڑھیں >>

تصوف، مذہب اور دین اسلام (چوتھی قسط)

تہذیب کا مشہورامریکی  مؤرخ، DORSEY اپنی کتاب CIVILISATION  میں رقمطراز ہے کہ آج لاکھوں انسانوں کے نزدیک عیسایئت، شکست خوردوں کا مذہب ہے، وہ اس مذہب کی قبولیت سے، اعترافِ شکیست کرتے ہیں کہ  یہاں کوئی شے قابلِ اطمینان نہیں۔

مزید پڑھیں >>

تصوف، مذہب اور دین اسلام (تیسری قسط)

تصوف میں اس قسم کا تصورِ زندگی، لا ینفک ہے۔اس تصور کی رو سے انکے نزدیک یہ سند بن جاتی ہے کہ ۔۔۔۔۔۔ جب ہم نے تہیہ کر لیا کہ ۔۔۔ مادہ اپنا وجود ہی نہیں رکھتا تو، "روح اور مادہ" کا تضاد خود بخود ہی ختم ہو گیا ۔۔۔۔ یہ ان تصوف پرستوں  کی بہت بڑی خود فریبی ہے۔

مزید پڑھیں >>

تصوف، مذہب اور دین اسلام (دوسری قسط)

اگر آپ بغور دیکھیں گے تو یہ حقیقت نکھر کر سامنے آۓ گی کہ، جن مفکرین نے مادی مشکلات کا حل مذہب قرار دیا ہے  ان میں سے اکثر، اپنی عمر کے آخری حصہ میں باطنیت(تصوف) کے دلدادہ ہوگۓ، اور مادی تضادات اور کشمکشِ زندگی کا حل۔ ۔۔ تصوف، کی منفیانہ زندگی کے پُر فریب سکون، اور مرگ آمیز سکوت میں، جا تلاش کیا۔ 

مزید پڑھیں >>

تصوف، مذہب اور دین اسلام (پہلی قسط)

تصوف کو ڈسکس سے پہلے مفکرین کے نظریات کو ڈسکس کرنے کی ٖضرورت اسلیئے پڑی کہ، ان کہ ان کے مطابقِ ، کائنات اور انسانی زندگی کے تضادات کا حل ،صرف مذہب میں ہے اور تصوف اسکیلیئے مشعلِ راہ ہے۔ لہٰذ،ا یہ دیکھنا ضروری تھا کہ ان مفکرین کے نزدیک، مذہب سے کیا مفہوم ہے اور اور متصوفین، مذہب کو کس رنگ میں پیش کرتے ہیںاور انکے عقائد، کس طرح ان تضادات کا حل اور انسانی مشکلات کا کیا علاج، تجویز کرتے ہیں؟

مزید پڑھیں >>

تصوف وسلوک کی حقیقت !

”تصوف“ اصل میں اخلاق کی پاکیزگی، باطن کی صفائی، آخرت کی فکر، قلب کی طہارت اور دنیاسے بےرغبتی کا نام ہے؛ انہی پاکیزہ صفات سےاپنے آپ کو متصف کر نا احادیث کی اصطلاح میں احسان کہلاتاہے، جومذہب سے الگ کوئی نئی چیز نہیں ؛بلکہ مذہب ہی کی اصل روح ہے اور جس طرح جسم وجسد، روح کے بغیر بےجان، مردہ لاش تصور کئےجاتےہیں، اسی طرح تمام نیک اعمال وعبادات بھی اخلاص نیت اورباطنی طہارت کے بغیربے قدروقیمت تصور کی جاتی ہیں۔

مزید پڑھیں >>

تصوف 

جس طرح ایک انقلابی فلسفی نے یہ کہہ کرکہ فلسفے کاکام صرف دنیا کی تشریح کرنا ہی نہیں اسے بدلنا بھی ہے، انسانی اذہان کو اور انسانی معاشرے کو ایک انقلابی سوچ اور انقلابی عمل کی راہ سمجھائی۔ اس طرح ضروری تھا کہ کوئی انقلابی صوفی عالم انسانیت کو یہ بتاتا کہ تصوف کا مقصد محض ترک دنیا اور دنیا سے کنارہ کشی اختیار کرنا ہی نہیں دنیا کو بدلنا بھی ہے۔

مزید پڑھیں >>

ہمارا روحانی نظام بگڑ گیا

یہ حقیقت ہے کہ ہمارا روحانی نظام بگڑ جانے سے ہمارا سب کچھ بگڑ گیا۔ مساجد تربیت کے مرکز ہوا کرتی تھیں، ان کی بنیاد محض نماز کی گنتی پوری کرنے کیلئے تو نہیں رکھی گئی تھی، یہ تو معاشرہ کے تمام مسائل کے حل کا واحد مرکز ہوا کرتی تھیں، تعلیم و تربیت، علم و ہنر، ملک و ملت کی سلامتی و بقاء کے تمام فیصلے مساجد میں طے پایا کرتے تھے آ ج ہم نے ان کی اس حیثیت کو ہر مسلمان سے دور کر دیا ہے، ہم نے اللہ عزوجل کے گھروں سے یہ عظیم مقام چھین کر فرسودہ عدالتوں کو دے دیا۔

مزید پڑھیں >>