افسانہ

روشن آنکھیں

ہم کیسے مسلمان ہیں جو خدا کے گھر میں بیٹھ کر دوسر ے مسلمانوں کو کا فر قراردیتے ہیں حالات کی ستم ظریفی دیکھیں کہ پو لیس کی نگرانی کے بغیر ہم نماز اور جنا زے ادا نہیں کر سکتے جہاں سے ایمان کے نور پھوٹتے تھے وہیں سے دہشت گردوں کی قطا ریں برآمد ہو تی ہیں زندگی کی بنیاد دودھ ‘دو ا اور پانی یہاں خالص نہیں ملتا یہاں لو گ مزارات اور مساجدمیں چوریاں کر تے فائرنگ کر تے ہیں یہاں لو گ عمرے اور حج کے نا م پر فراڈ کر تے ہیں حرام جانوروں کی اون سے جا ئے نماز بناتے ہیں کاروبار کو پروان چڑھانے کے لیے لو گ دودو روپے پر جھو ٹی قسمیں کھا لیتے ہیں عدالتوں میں قرآن کی جھو ٹی قسمیں کھا نے والے جتھے کے جتھے موجود ہیں مسیحا ڈاکٹر مریضوں کے گر دے چوری کر تے ہیں جان بو جھ کر غلط آپریشن کر دیتے ہیں ۔

مزید پڑھیں >>

  آخری داؤ

راجو ایک شریف اور نیک انسان تھا اس نے کبھی بھی ناجائز آمدنی پر یقین نہیں کیا تھا بس اس کے لیے تنخواہ ہی کافی تھی وہ خوش تھا کہ اس نے بہت سارے لوگوں کی بھلائی کی ہے حالانکہ اس کے دفتر میں ایسا بھی نہ تھا کہ ناجائز کمائی کا چلن نہ ہو۔ شاید اسی وجہ کر دفتر میں ایمانداری کی حیثیت سے وہ جانا جاتا تھا لیکن ایسا بھی نہ تھا کہ دفتر کے سارے لوگ اس سے خوش ہوں بہت سارے تو ایسے تھے جو اسے دیکھتے ہی کٹنے کی کوشش کرتے تھے۔

مزید پڑھیں >>

بادشاہ اور درویش

عزت شہرت اور اقتدار کا سورج جب بھی کسی مٹی کے بنے انسان پر طلوع ہو تا ہے، تو مشتِ غبار حضرت انسان یہ سمجھنے لگتا ہے کہ کر ہ ارض پر اس سے زیا دہ خو ش قسمت طاقتور اور عقل و شعور کا اور کوئی مالک نہیں ہے اور پھر اِس نشے میں غرق وہ ناکامی کمزوری یا شکست بھو ل جاتاہے۔ لیکن جب قدرت ایسے انسان کو ٹھو کر لگا تی ہے اوقات یا د دلاتی ہے، تو پھر یہ اقتدار سے نیچے بھی اُترتا ہے اور دائیں بائیں بھی دیکھتا ہے۔

مزید پڑھیں >>

معافی کی تلاش

میرے سامنے ایک نیم پا گل شخص بیٹھا تھا۔ اُ سکی عمر ساٹھ سا ل کے اوپر نیچے تھی۔ اُ سکے چہرے اور آنکھوں کے تاثرات واضح طو رپر بتا رہے تھے کے وہ اپنے حواس میں نہیں ہے۔ کو ئی بہت بڑا دکھ کر ب آکا س بیل بن کر اُس کی ہڈیوں تک سرائیت کر چکا تھا۔ وہ ہو ش اور دیوانگی کے درمیان پنڈولم کی طرح جھول رہا تھا۔ اُ سکی نیم پتھرائی آنکھوں میں تلا ش تھی۔ کھو ج تھی جب اُس پر پا گل پن کا دورہ پڑتا تو وہ نیم جان ہو جا تا اور جب اُس کے اعصاب وحواس نا رمل ہو تے تو وہ بار بار ایک ہی سوال کر تا ہر آنے جانے والے کے پیچھے دوڑتا ہر ایک سے ایک ہی با ت کر تا لیکن اُ سکی دیوانگی اُس کے سوال کا جواب کسی کے پا س بھی نہیں تھا ۔

مزید پڑھیں >>

طاقت (غرور) کا انجام!

آج کئی سالوں بعد یہ میرے سامنے بیماری کے عالم میں بے بسی کی تصویر بنا بیٹھا تھا۔ اب جب یہ بیمار ہوا تو جن کے ساتھ ظلم کئے تھے، ان سے معافیاں مانگتا پھر رہا تھا۔ قاری صاحب آج اِس کو مریض کے طو رپر میرے پاس لائے تھے۔ اِس کی بے بسی دیکھ کر مجھے اِس کا غرور اور نو کر پر ظلم یا د آگیا۔ آج اِس کے چہرے پر سرخی کی جگہ زردی اور جسم میں طا قت کی جگہ کمزوری تھی۔ انسان کتنا پا گل بے عقل سے جوانی اورطا قت میں یہ بھو ل جا تا ہے کہ یہ طا قت اورجوانی عارضی ہے۔ ایک دن دونوں نے چلے جانا ہے۔ خدا ایسے لوگوں کی رسی دراز کر دیتا ہے اور پھر جب ان کی سزا کا عمل شروع ہو تا ہے، تو یہ زمین پر کیڑے مکو ڑوں کی طرح رینگتے نظر آتے ہیں ۔

مزید پڑھیں >>

گھر گھر کی نانی

قاضیین نانی تھیں تو غریب عورت لیکن وہ بہت صاف گو تھیں جب کبھی انہیں کسی سے تکلیف ہوتی تو وہ اسکے منہ پر ہی دے مارتی کبھی بھی وہ کسی سے ڈرتی اور نہ ہی کسی سے متاثر ہوتی تھیں لیکن کسی کے پیٹھ پیچھے شکایت اورغیبت کرنا انہیں بالکل پسند نہ تھاوہ اس مجلس میں کبھی نہ بیٹھی جہاں شکایت و غیبت کا بازار گرم ہوتا اسی بنا پر بہت سارے لوگ ان کی عزت کرتے تھے اور کچھ نفرت بھی۔

مزید پڑھیں >>

  کش مکش 

میں اسکے بارے میں کچھ بھی نہیں جانتا کہ وہ کون ہے؟ اور کہاں رہتی ہے اور نہ ہی کبھی جاننے کی کوشش کی۔ بہر حال میں اتنا ضرور جانتا ہوں کہ وہ ایک شریف لڑکی ہے اور کشور کو دل و جان سے پیار کرتی ہے۔

مزید پڑھیں >>

شہر قبرستان

دولت کے ڈھیر لگا نے سے تھو ڑا وقت نکال کر کبھی کبھی قبرستان جا کر دیکھ لیا کر یں اِن بو سیدہ قبروں میں جو ہڈیوں میں تبدیل ہو چکے ہیں یہ بھی اپنے زما نے کے بہت اہم اور ضروری لو گ تھے اپنے زما نے میں ان کو بھی ضر وری اور اہم کے مر ض نے حقیقی بصیرت سے محروم رکھا تھاورنہ آج کا انسان ما دیت پرستی میں غرق جا نور کا روپ نہ دھا ر چکا ہو تا بلکہ اپنی حقیقت سے آشنا ہو چکا ہو تا ۔

مزید پڑھیں >>

 یہ عشق نہیں آساں!

ویلینٹائن ڈے جو لوگ منا رہے ہیں وہ اس کی حقیقت سے واقف ہیں اور نہ ہی اس کی اہمیت کو سمجھتے ہیں۔ رومن راجہ کلاڈیس کی یہ سمجھ تھی کہ چونکہ شادی کر نے سے مر دوں کی طاقت، جسم‘ عقل اور قوت فیصلہ میں کمی آجا تی ہے، اس لئے اس کا حکم تھا کہ شادی کسی کو نہیں کر نا ہے۔ لیکن سینٹ ویلنٹائن نے اس حکم کے بر خلاف ہزاروں فوجیوں کی شادی کرادی‘ اس حکم عدولی کی پاداش میں14؍ فروری کو راجہ نے اسے پھانسی کی سزا دے دی۔ اس لئے اس کو یاد گار کے طور پر منا یا جا نے لگا

مزید پڑھیں >>