براؤزنگ زمرہ

افسانہ

جہنم

پھر سوچتا کہ وہ اکیلا اس جہنم میں رہ سکتا ہےلیکن کوئی شریف بال بچےاور فیملی والےشخص کو اس جہنم میں ڈالنا کیا مناسب ہوگا ؟ اس کا ضمیر اس بات کےلئےراضی نہیں ہوپاتا تھا اور اسےاس جہنم میں رہنےکےلئےخود سےسمجھوتہ کرنا پڑا۔

دعوت یا میت

یہ میت میں یعنی غمی میں نہیں بلکہ دعوت خوشی کے وقتوں میں ہوتی ہے۔ پھر بھی میری زبان و دل سے یہ دعا نکلتی ہے اللہ تو ان نیک و مخلص لوگوں پر رحم کر انہیں علم دے انہیں فکر دے کہ دعوت اور میت میں فرق کریں۔

دریا زادہ

جس طرح دریا ایک مچھیرے کے لیے کچھ اور چیز ہے۔ اور کسی شہری خاتون کے لیے ایک اور چیز۔ اس پر مستزاد مرور زمانی ہے۔ جو لفظوں کے معانی پر اثر انداز ہو کر ان کی شکلیں بدلتا رہتا ہے۔ بعض الفاظ کے معانی بدلنے میں شعوری کو ششیں بھی شامل ہوتی ہیں۔…

میں اسے طلاق دے دوں گا

ان کی آنکھوں میں آنسو بھرے ہوئے تھے اور کہ رہے تھے ایک ساتھ رہنے پر اچھا برا دور آتا ہی ہے،رشتے نفسیاتی سوجھ بوجھ سے اچھی طرح نبھائے جاسکتے ہیں، تھوڑا ہلکا ہو کر تھوڑا برداشت کرکے اس طرح سے ہماری خوشی کا خون تو نہیں ہوگا اور باقی کے ایام…

سیاست

واہ رے سیاست ! تو نے نہ دھن چھوڑا، عزت چھوڑی، آبرو رہنے دیا اور نہ ہی کہیں چین سے بسنے دیا۔ سیاست تیرے بوجھ تلے میری دنیا دب گئی اور میرا آشیانہ منہدم ہوگیا۔

دفتر

جوں ہی درواز کھلا اوروہ لیڈی بنا اس کی طرف دیکھے لِفٹ میں داخل ہوگئی جو اس کی عدم موجودگی میں اسے پکارتی تھی اور جس کا وہ رشتہ دار مشہور تھا۔۔۔۔۔۔ یہ کیساپراسرار دفتر تھا۔۔۔۔اس کے لئے یہ ایک پریشان کن سوال تھا جس کا جواب کسی کومعلوم نہ…

عدالت

مستان کے سامنے اب صرف ایک ہی راستہ بچا تھا  اور و ہ یہ کہ گھر کی زمین جس پر مکھیا کا دعوی تھا کہ اس کے پُروجوں کی ہے اسے لوٹا دے اور عدالت سے انصاف کی امید ترک دے ورنہ اس کی ہستی عدالت کے گِرد گھوم کر بہت جلد خاک ہوجائے گی،  اس کا نام ونشان…

سیکنڈ ہینڈ ٹیلی ویژن

میڈیا چینلزکے اوقات کی پابندی کی گئی، خبروں اور اشتہاروں کی یاد دانی ہوئی، فلموں کے نغمے گنگائے گئے، غزلوں کے سُرلگائے گئے، سیاسی خبروں پرجم کر بحثیں ہوئیں اور اس طرح سے ایک ہفتے میں ٹی وی جوانی کا پورا لطف دے گئی۔

واشنگ مشین (آخری قسط)

وہ گہری نیند سو گیا اور شام سے کچھ دیر پہلے اچانک اس کی آنکھ کھل گئی، گھر سے گھرر گھرر کی آوازیں آرہی تھیں، ہر طرف شور تھا، چیخ و پکار اور برتن گرنے کی آواز… ان آوازوں میں جھاڑوں کی شپ شپ بھی شامل ہوگئی۔ وہ ابھی بستر پر ہی لیٹا تھا کہ…

باپ سولی چڑھ گیا

ہائے رے انصاف!  الٹے مستان کو پیٹ پیٹ کر  قانون کے رکھوالوں اور انصاف کے محافظوں  نے اُس کی جان جسم سے جدا کردی اور اپنی بیٹی کی عزت کے لٹنے پر قانون اور انصاف کا دروازہ کھٹکھٹانے والا باپ خود سولی چڑھ گیا۔

پھوس کا گھر

بیس سال کے بعد اس کے گھر کا ماحول بدل گیا تھا، اس کے باپ بہت خوش تھے اور  اپنے پوتے کو ڈاکٹر  صاحب، ڈاکٹر صاحب  اس کی کلینک میں کرسی پر بیٹھے اطمینان سے پکار رہے تھے اور من ہی من پھوس کے گھر کا تصور لئے مسکرا رہے تھے۔

واشنگ مشین (قسط 2)

مظہر حیرت سے آنکھیں پٹپٹاتا اس کے چہرے کی جانب دیکھ رہا تھا، وہ ایک سکول میں ٹیچر تھا۔ اس کی تنخواہ میں مشکل سے گھر چلتا تھا۔ لیکن اس کی بیوی مشین چلانا چاہتی تھی۔ اسے معلوم تھا کہ وہ واشنگ مشین لے آیا تو اس کی بیوی پانی کی ٹینکی بنوانے…

واشنگ مشین (قسط 1)

ایک دھیان کرنا پڑتا ہے کہ کپڑا مشین کی چکی میں پھنسنے نہ پائے۔ ایک بار کپڑا پھنس گیا تو سمجھو کپڑا گیا۔ سکینہ کادوپٹہ چور چور ہوگیا تھا۔ اچھا!…تو پھر اوپر سے ڈھکن بند کرکے بٹن دبا دیتے ہیں۔ لیکن پتہ ہے مشین پھر بھی نہیں چلتی جب تک وہ چھوٹا…

معصوم شہیدہ

جو ابھی پوری طرح سے آنکھ بھی نہیں کھول پائی تھی، جس کے دودھ کے دانت بھی نہیں ٹوٹے تھے، اسے ناپاکی اور غلاظت کا ایسا شکار بنایا گیا تھا جسے دیکھ کر انسانیت دہاڑیں مار رہی تھی اور پورا عالم سوگ منا رہا تھا، آج وہ ایک معصوم شہیدہ بن کر ہمارے…

غریب کی روٹی

کھانے پینے کا انتظام تو انسان کے خود اپنے اختیار میں ہوتا ہے لیکن سماج ہر انسان کو وہ رتبہ نہیں دیتا جو ہر انسان کو درکار ہے، ان کے معاشی حالات اور سالہا سال کی کمائی سماج کی ہیرا پھیری میں الجھ کر اس کے گندے پانی میں بہ جاتے ہیں، جسے زور و…

انصاف

ریل اپنی رفتار بڑھارہی تھی، چندا کی روشنی میں اسے صحرا اور درختوں کے علاوہ کچھ نظر نہیں آ رہا تھا، اس کے قریب کی سیٹوں والے رات کا آدھا سفر طے کر چکے تھے، رات اپنے شباب پر تھی لیکن نیند اس سےکوسوں دور، جب گھڑی پر نظر پڑی وہ حیران رہ گیا،…

تنخواہ

وہ بہت تھکا ہوا محسوس کر رہا تھا، اس نے سر پیچھے کی جانب گھما کر اپنے پاس ہی دیوار میں لگی ڈیجیٹل گھڑی کی طرف دیکھا، پانچ بجنے ہی والے تھے، آفس بند ہونے کا وہ بہت تھکا ہوا محسوس کر رہا تھا، اس نے سر پیچھے کی جانب گھما کر اپنے پاس ہی دیوار…

دل کا رشتہ

آفتاب کی سنہری کرنیں روشن دان سے ہوتے ہوئے گالوں کو چھو رہی تھی۔ باہر سے پرندوں کے چہچہانے کی آوازوں سے ایسے لگ رہا تھا جیسے پنچھی پیڑوں پر بیٹھے اللہ کی تسبیح پڑھ رہے ہوں۔

اچھے دن

 اچھے دن کی آس میں ایک عرصہ بیت گیاپر بھولا کے لئے کچھ اچھا نہ ہوا۔ دال، شکر، پیاز تیل، گیس وغیرکے دام دن بدن بڑھتے گئے۔ اب تو اس کی ٹیکسی بھی زیادہ تیل پینے لگی تھی۔ وہ کرایہ بڑھانا چاہتا تھا پر وہ ایسا نہیں کر سکتا تھا۔ گراہک کم کرایہ…

اپنے ہوئے پرائے

ہمارا پورا بدن جیسے مفلوج ہوچکا تھا۔ صرف کانوں میں ندا جی کی آواز گونج رہی تھی۔ کیا ایسا بھی ہوتا ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ؟ اپنوں کو بھی اتنا کٹھور ہونا چاہئے؟ ہم انہیں روتا دیکھتے رہیں۔ انہوں نے خود پر قابو پا لیا اور چپ ہوئیں۔ اب جب وہ بولیں تو ان…

گانجا

انس کو گانجا لینے کی لت تھی۔ ہفتے میں تین بار شام کے وقت وہ اور اس کے دوست روزہل کی ایک خستہ مکان کی پہلی عمارت میں دیر رات تک گانجا لیتے تھے۔ گانجہ لینے سے انس کو سکون ملتا تھا۔ وہ مستری تھا۔ دن بھر کی تکان دور کرنے کے لئے انس کے حساب سے…

زیست کی منڈیر پر کھڑی محرومیاں

دکھ کی بات تو یہ تھی کہ عبدلراحمن نے ان نعمتوں کو خریدنے کی  کبھی جرات نہ کی تھی۔۔۔۔ہر وقت ریال کو روپیوں میں گنتا اور ماتھے کا پسینہ صاف کر کے  وہاں سے لوٹ جاتا۔۔۔۔۔۔اس طرح  وہ ایک ایک ریال جوڑ کر اپنے کنبے  کی خوشیاں خرید لیا۔۔

قصّہ گو

 تارے کی دُم کو دیکھ کر قصّہ گو نے آسمان کی فصیلوں کی اور نگاہ دوڑائی ۔تاروں کی ڈگمگ سے آسماں رات کے شامیانے کی مانند سج رہا تھا۔دور دور تک ستاروں نے الگ الگ قسم کی ٹولیا ں بنائی ہوئیں تھیں اور ہرٹولی اپنی صدیوں کی تاریخ لئے ہوئے تاریک…

پرچھائیں

ہم نے آپ کو ہمارے شہر کے اخبار میں کئی مرتبہ پڑھا ہے۔ کئی بار سوچا آپ کو کال کریں پر ہمت ہی نہیں جٹا پا رہے۔ہم جاننا چاہتے تھے جن کی سوچ اتنی اچھی ہیں وہ کیسی ہوں گی.... جو اتنا اچھا لکھتیں ہیں وہ کیسی ہونگیں ۔ہم آپ سےبات کرنا چاہتے…

پینشن

وہ دیر تک سڑک پر کھڑا آتے جاتے لوگوں کو دیکھتا رہا۔ اسے لگا کہ یہ لوگ پہلے ایسے نہیں تھے۔ اب ان میں کچھ مختلف تھا۔ لیکن کیا مختلف تھا اس کا اندازہ لگانے کے لئے اسے کچھ انتظار کرنا پڑا۔ اس انتظار میں اس کا ذہن ماضی کی بھول بھلیوں میں کھو…

دو پیمانے

فریدہ بانوکی جوان پیشانی پردوبیٹوں کی پیدائش کے بعدہی بیوگی کاایسازخم لگا، جس نے دن میں ہی اُسے تارے دکھادئے، فریدہ بانوکی شادی کے ابھی صرف چار سال ہی ہوئے تھے کہ اُن کے شوہراس دارِفانی سے کوچ کرگئے اورشادی کے موقع سے سجائے ہوئے حسین خوابوں…

گھٹن

آج پھر حسنہ کی آنکھوں سے آنسو نکلے۔ رات بھر رونے کی وجہ سے اس کی آنکھیں سوجھی ہوئی تھیں ۔ اس کا شوہر اس کی بغل میں خوابِ خرگوش کی نیند میں پڑاتھا جبکہ وہ تارے گن رہی تھی۔ حسنہ لاکھ سمجھنے کی کوشش کر رہی تھی کہ آخر اتنی اداسی اور مایوسی…

توہم

پروییز کے دھوکے اور اس کے فریب کوشمع کس کے سامنے بیان کرتی اور کن الفاظ میں بیان کرتی۔  ایسی کون سی عدالت تھی جو اس کے ساتھ انصاف کر پاتا۔شمع کو ڈر تھا کہ جو ایک بار ہوا کہیں بار بار نہ ہو اور جب  اپنے ہی بھیڑیہ کی کھال پہن لیتے ہیں تو کون…

نسخۂ صحت

 ابتداہی سے حامدصاحب کادماغ تعلیم سے زیادہ تجارت میں چلتاتھا، لہٰذا تعلیم سے فارغ ہوتے ہی وہ تجارت میں لگ گئے، شروع شروع میں اُنھیں پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا؛ لیکن اُن کی محنت، لگن، شوق اورذہانت نے اُن ابتدائی پریشانیوں کوگاؤوں کی اُن…

مجبوری

کسی نے نوکری نہیں دی دربدر کی خاک چھانی  دو سال تک دھکے کھائے ہر جگہ اسی دوران اچانک بیوی مر گئی شاید وہ کسی  موذی مرض میں مبتلا تھی  جس کا اس نیک بخت نے کبھی ذکر تک نہیں کیا .. بیٹی بھی  اسی  مرض میں مبتلا ہوئی کہ سرکاری ہسپتال میں داخل…