نقطہ نظر

لبرل ازم اور اسلام

لبرل ازم اور اسلام دو الگ الگ نظریات ہیں۔ دنیا میں اسلام واحد مذہب ہے جو مکمل ریاستی نظام رکھتا ہے۔ باقی کوئی بھی مذہب مکمل ریاستی نظام نہیں دیتا۔ یعنی اسلام سیاسی، عدالتی، معاشی، اقتصادی، تعلیمی غرض ہر فیلڈ میں قوانین رکھتا ہے۔ یہ قوانین چودہ سو سال پہلے واضح کیے جا چکے ہیں۔ اور عملاً ان قوانین کا نفاذ کر کے ایک اسلامی ریاست کی تشکیل کی جا چکی ہے۔ جو ایک مکمل فلاحی ریاست تھی۔

مزید پڑھیں >>

محرم امن و آشتی کا پیغام

ہر چیز کا الزام بھار ت اور امریکہ پہ لگا نا عقلمندانہ روش نہیں ہے بلکہ غیر دانشمندانہ سوچ کی عکاس ہے ۔ عشروں سے ہم یہ رونا رو رہے ہیں کہ بھار تی ایجنسی "را " بلوچستان اور کراچی کی صورتحال کی ذمہ دار ہے اور پنجابی طالبان وغیرہ کو اسلحہ فراہم کرتی ہے۔ اگر ایسا ہے توبھارت سے اپنی دوستی کی پینگیں کم کر کے اپنا دوٹوک موقف پیش کرنا چاہیے!!خداراہ ان جعلی دواساز کمپنیوں اور انکے بروکرز کے ہتھکنڈوں سے باہر آئیں اور اپنی کوتاہیوں پر نظر ڈال کر اپنی صفوں سے کال بھیڑوں کو نکال باہرپھینکیں ۔اوربیچارے معصوم عوام پر ظلم وبربریت کا باب ہمیشہ کے لیے بند کریں ۔

مزید پڑھیں >>

آواز دو! اپوزیشن کہاں ہے؟

سمجھ میں نہیں آتا کہ موجودہ حکمراں جماعت نے ایک بعد دیگرے لاتعدادغلطیاں کیں اور اپوزیشن کو اس بات کا موقع دیا کی وہ ان غلطیوں کو عوام کی عدالت میں لے جائیں اور اپنے گناہوں کی تلافی کریں لیکن ان کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی ،اچھی طرح سے جمی بی۔ جے، پی کو سیاسی طور سے کئی کمزور کڑیوں کا سامنا کرنا پڑا ہے وہ تو بھلا ہو  سوشل میڈیا کا جو ہر معاملے کو لپک لیتا ہے جس کے ذریعہ عوام کچھ حقیقت سے آشکارا ہو جاتے ہی

مزید پڑھیں >>

ایک سیمینار، جس نے عورتوں کی مکمل آزادی پر مہر لگایی 

وومن امپاور منٹ کے اس عھد میں اس سیمینار کی سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ عورت جبر اور آنسووں سے آزاد نظر آیی .یہ نیے تیور کی عورت ہے، جو ادب میں بھی پوری دیانتداری اور مضبوطی کے ساتھ وقت سے دو دو ہاتھ کرنے کو تیار کھڑی ہے. نیی منزلوں کے حصول کے لئے اب اس نے مردوں کو نشانہ بنانا بھی بند کر دیا ہے .وہ اسی طرح اس مکمل کائنات کو دیکھ رہی ہے، جیسے کویی مرد دیکھتا ہے .اسے اپنی خود احتسابی کی کیفیت بھی پسند ہے اور آزادی کا وہ ماحول بھی جہاں کھلے دل سے وہ اپنی بات کر سکے-

مزید پڑھیں >>

ہندوستانی صحافت کی آبرو: رویش کمار

ہندوستانی صحافت نے کبھی اتنے بُرے دن نہیں دیکھے تھے جیسے آج دیکھ رہی ہے، ایسا وقت تو کبھی انگریزوں کی غلامی کے دور میں بھی نہیں آیا کہ صحافت حکمرانوں ‘ جابروں اور ظالموں کی ہمنوا رہی ہو۔ ایسا دور تو اندرا گاندھی کی لگائی ہوئی ایمرجنسی میں بھی دیکھنے میں نہیں آیا کہ صحافت اپنا فریضۂ منصبی چھوڑ کر حکمراں کے گن گا رہی ہو، جب حکمرانوں یا اہل ِ اقتدار کی چاپلوسی اہلِ صحافت کا شعار بن جائے تو وہ صحافت کے لئے بد ترین دور ہوتا ہے اور فی الحال ہندوستان اِ سی دور سے گذر رہا ہے ۔

مزید پڑھیں >>

ایک معمہ ہے سمجھنے کا نہ سمجھانے کا

سکھوں اور ہندوئوں کا بابا گرمیت سنگھ جو رام رحیم کے نام سے جانا جاتا ہے وہ تو آبروریزی کے کیس میں 20  سال کی سزا کاٹنے جیل چلا گیا ہے لیکن ان کے ہی نقش قدم پر مسلمانوں کے بابا ڈاکٹر ایوب صاحب کئی مہینے جیل میں رہ کر ضمانت پر باہر آکر وہی کررہے ہیں جو کرتے ہوئے وہ جیل گئے تھے۔ یا تو ہم امت شاہ کو سیاست کا سب سے کم عقل لیڈر مانیں یا ڈاکٹر ایوب کو انتہائی بزدل کہ ضمانت پر باہر آکر انہوں نے 2019 ء کے پیش نظر بی جے پی کے لئے سیاسی میدان پھر ہموار کرنا شروع کردیا۔

مزید پڑھیں >>

امن و امان کا قیام ریاستی حکومت کی ذمہ داری ہے

کل ملا کر بی جے کی پریشانی یہ ہے کہ اس کی خراب پالیسی کے سبب ان کی حکومت والی ریاست دم کٹی بلی بن چکی ہے تو دیگر ریاستوں کا بھی یہی حال ہونا چاہئے۔ اس لئے ممتا کو جوش نہیں ہوش سے اور جلد بازی نہیں بلکہ حکمت سے کام لینا ہوگا۔ کیوں کہ اب پورے ملک کے انصاف پسندوں کی نظریں ان کی ہی طرف ہیں۔ ہر چند کے ان کی صف میں کچھ اور ریاستیں بھی شامل ہیں جیسے دہلی اور کیرالا لیکن انہیں مرکزیت حاصل ہے۔

مزید پڑھیں >>

لاٹھی چارج وہ بھی لڑکیوں پر؟

بہر حال، یہ انتہائی افسوس کا مقام ہے کہ صرف کسی ایک یا دو ریاست میں ہی نہیں بلکہ پورے ملک میں لڑکیوں کے خلاف غنڈوں اور مسٹنڈوں کی ہی نہیں ، پولیس اہلکاروں کی بےشرمی بھی کس قدر بڑھ گئی ہے جیسے وہ لوگ یہ فراموش کر بیٹھے ہیں کہ ان کے گھر میں بھی مائیں ، بہنیں ، بیویاں اور بیٹیاں موجود ہیں ۔

مزید پڑھیں >>

پاکستان فرنٹ فٹ پر!

غور طلب بات یہ ہے کہ پاکستان کا پورے کا پورا مزاج جارحانہ دیکھائی دے رہا ہے ۔ پاکستان اب فرنٹ فٹ (اگلے قدم) پر کھیل رہا ہے اور اس انداز سے کھیلتے ہوئے دنیا میں اپنی کھویا ہوا مقام پانے کی کوشش بھی کر رہا ہے امید کی جاسکتی ہے کہ مثبت حکمت عملی کے ساتھ جارحانہ مزاج لے کر آگے چلیں تو کسی کو گیدڑ بھپکی دینے سے پہلے سو دفع سوچنا پڑے گا اور انشاء اللہ پاکستان بہت جلد ناصرف اپنے پیروں پر کھڑا ہوتا دیکھائی دیگا بلکہ خطے میں اپنا اثر و رسوخ بھی منوا لے گا۔

مزید پڑھیں >>