نقطہ نظر

ظالم ہی نہیں احمق اور جاہل بھی!

یہ حکمراں صرف فاشی اور ظالم ہی نہیں احمق اور جاہل بھی ہیں ! لوک سبھا  میں پاس ہونے والے تین طلاق  مخالف قانون نے یہ ثابت کر دیا ہے۔  اگر چہ ابھی راجیہ سبھا کا مرحلہ باقی ہے لیکن وہاں بھی اس کے پاس ہوجانے کے وافر امکانات موجود ہیں۔ لیکن دنیا میں دوام، ظلم و جہالت کو نہیں عدل و علم و یقین کو ہے، یقین اس رب کائنات کی ذات میں جس کے سامنے حاضر ہوکر سب کو ایک دن اپنے کیے کا حساب دینا ہے اور وہ دن بہت سخت ہوگا اور اس دن کسی پر ظلم نہیں ہوگا۔

مزید پڑھیں >>

کیا واقعی بدترین جمہوریت، آمریت سے بہتر ہے؟

نہ جانے کیوں ہمارے سادہ لوح افراد یہ سوچنا شروع ہو گئے ہیں کہ جو برائیاں آمریت سے منسوب کی جاتی ہیں وہ تو ہماری اکثر سیاسی جماعتوں میں بھی ہیں۔ اکثر سیاسی جماعتوں میں موروثی سیاستدان بھی تو بادشاہوں کی طرح ہی باپ کے بعد بیٹے والے فارمولے کے تحت تخت نشین ہوتے چلے آ رہے ہیں۔ پھر سیاسی رہنما بھی تو آمروں کی طرح ہی حرف آخر قسم کے ذاتی فیصلے مسلط کرتے رہتے ہیں۔ مزیدبرآں مختلف آمریتوں کے دست و بازو بھی تو یہی ہمارے عظیم سیاستدان رہے ہیں جو جمہوری رہنما ہونے کا بھی دعوٰی کرتے ہیں۔ تو پھر یہ ہماری کس قسم کی جمہوریت ہے جسے ہمارے سیاستدان ثابت کرنے پر تلے ہوئے ہیں کہ یہ جمہوریت آمریت سے بہتر ہے۔

مزید پڑھیں >>

آر ایس ایس: احساس کمتری کا بہترین نمونہ

یہ کیسی دوغلی پالیسی ہے کہ ایک طرف آرایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت، اڑیسہ میں کہتے ہیں کہ آرایس ایس ہندتواکی علم بردارہے، ہندتواانسانیت اور رواداری سے عبارت ہےاورہندومذہب تشدد اورعدم رواداری پریقین نہیں رکھتامگردوسری طرف ا ن کے چیلے پورےملک میں دہشت گردی پھیلاتے پھرتے ہیں ۔ واہ بھاگوت صاحب واہ۔ ’’اُلوبنانا‘‘کوئی آپ سے سیکھے۔ ایسالگتاہے کہ ’اُلوبنانے ‘‘ میں آپ نے تھیسس کر رکھی ہے۔ یہ بیان ایساہی ہے جیسے کوئی دن کی روشنی میں کہے ’ ذرا، دیکھو تو سہی، چاندنی کس طرح اپنی چادرپھیلائے ہوئےہے۔ ‘کون نہیں جانتاکہ آرایس ایس کس قدرشدت پسند،  دہشت گرداور امن وامان مخالف تنظیم ہے۔

مزید پڑھیں >>

مسیحا ہڑتال پر

 عالم آب و گل میں سینکڑوں ایسے واقعات ہیں جہاں دلتوں کے حقوق پامال ہوئے، انہیں چتا کے لئے دو گز زمین میسر نہ ہوسکی، لیکن آپ کو ایسا کوئی طبیب نظر نہیں آئے گا جس نے علاج کرنے سے یہ کہہ کر انکار کر دیا ہو کہ مریض اچھوت ہے میں علاج نہیں کروںگا۔ ہر شخص کا علاج کیا، ان خوبیوں کے حامل پیشے اور پیشہ وروں کی عزت ہونا یقینی ہے، لیکن وقت کے بدلاؤ نے اس عظیم پیشہ سے وابستہ افراد کے طرز زندگی کو بھی متاثر کردیا ہے، ان کے اعمال میں بھی تبدیلی ہوچکی ہے، واقعات اس کی شہادت دیتے ہیں، زندہ بچے کو کچرے کے ڈبہ میں پھینک دینا، حاملہ عورتوں کے پیٹ چاک کرنا، بلا ضرورت جانچ کرانا، گراں قیمت پر دوائیں بیچنا، لیباریٹری سے اپنا حصہ مانگنا،دواؤں پر کمیشن وصول کرنا، یہ سارے اعمال اطباء میں آئی تبدیلی اور بگاڑ کا مظہر ہیں۔

مزید پڑھیں >>

اگر ہندو دھرم میں بھی پردہ ہوتا تو یہ نہ ہوتا

حیرت اس پر ہے کہ برس گذر جاتے ہیں کہ ایک بابا ایک کمرہ سے اپنی دُکان شروع کرتا ہے اور دیکھتے دیکھتے وہ آس پاس کی زمین خرید کر اسے بڑھاتا ہے پھر ایسا بناتا ہے کہ اندر سیکڑوں مرد اور عورتیں بالغ اور نابالغ لڑکیاں آجاتی ہیں اور چاروں طرف لوہے کی دیوار کھڑی ہوجاتی ہے۔ اور وہ پولیس جو دن رات سب کچھ دیکھ کر رپورٹ کرتی ہے وہ اس عمارت کی طرف سے اس لئے آنکھ بند کرلیتی ہے کہ کیا خبر بھگوان واقعی بھگوان ہو اور اسے نقصان پہونچادے۔ اور ہوسکتا ہے کہ یہ بھی سوچتا ہو کہ وہ بھگوان خوش ہوکر اسے انسپکٹر بنا دے؟

مزید پڑھیں >>

اسرائیل کا تیل کہاں سے آتا ہے؟

ترکی کے متعلق ہم میں سے کسی کو یہ خیال نہیں کہ اس کا حکمران ’’خلیفۃ المسلمین‘‘ جیسا کوئی شخص ہے یا یہ ریاست خلافت راشدہ جیسی کوئی ریاست ہے۔ اردگان کو دنیا بھر کے مسلمان اچھائی کی طرف سفر جاری رکھنے والا حکمران اور ہم جیسے لوگ اسے بہتری کی کوشش کرنے والا ایک نظریاتی کارکن سمجھتے ہیں۔ ترکی اسلامی ممالک میں سے وہ ملک ہے جو بدعنوانی او رپسماندگی سے جان چھڑاکر اصلاح و ترقی کی طرف تیزی سے سفر کررہا ہے۔

مزید پڑھیں >>

سن رہے ہیں نا؟

مسلمانوں کوایک بات یاد رکھنی چاہیے کہ کانگریس اگرآبھی گئی توبھی مسلمانو ں کوایک ذرہ برابربھی فائدہ ہونے والانہیں ہے۔ بی جے پی جب اپوزیشن میں ہوگی توملک میں جہاں تہا ں بم دھماکوں کی باڑھ آجائے گی اورجب اقتدارمیں ہوگی توان بم دھماکوں کوروک دے گی، یہی اس کی پالیسی ہے۔ شکرہے جب سے بی جے پی آئی ہے تب سے کوئی بھی بم دھماکہ ملک میں نہیں ہواہے البتہ لنچنگ کے واقعات نے اس کی جگہ لے لی ہے۔ بی جے پی سے ڈرنے والے مسلمان یہ کیوں نہیں سوچتے کہ اگربی جےپی ہی اقتدارمیں رہے توبھی اس سے کوئی فرق نہیں پڑنے والا۔ اس کی پالیسیوں سے جہاں برادران وطن متاثرہوں گے وہیں مسلمان بھی ہوں گے۔

مزید پڑھیں >>

قائد اعظمؒ کے افکار اور موجودہ پاکستان کے حالات

’’قرآن مسلمانوں کا ضابطہ حیات ہے۔ اس میں مذہبی اور مجلسی، دیوانی اور فوجداری، عسکری اور تعزیری، معاشی اور معاشرتی سب شعبوں کے احکام موجود ہیں ۔ یہ مذہبی رسوم سے لے کر جسم کی صحت تک، جماعت کے حقوق سے لے کر فرد کے حقوق تک، اخلاق سے لے کر انسدادِ جرائم تک، زندگی میں سزا و جزا سے لے کر آخرت کی جزا و سزا تک غرض کہ ہر قول و فعل اور ہر حرکت پر مکمل احکام کا مجموعہ ہے۔ لہذا جب میں کہتا ہوں کہ مسلمان ایک قوم ہیں تو حیات اور مابعد حیات کے ہر معیار اور پیمانے کے مطابق کہتا ہوں ‘‘۔

مزید پڑھیں >>

فیس بک: خود نمائی اور توازن

فیس بک کا صحیح استعمال وہی لوگ کرتے ہیں جو ان دنوں انتہاؤں کے بیچ کے فرق کو سمجھتے ہیں۔ یہ سچ ہے کہ خود نمائی ایک ایسا نشہ ہے جو شراب سے بھی زیادہ اثر انداز ہوتا ہے۔ خود نمائی کے مرض میں مبتلا ہونے والا شخص ہر گھڑی اپنی تعریف و توصیف سننا پسند کرتا ہے۔ اگر ہم فیس بک پر اپنی تصویر یا کوئی پوسٹ ڈالنے کے ہر تھوڑی دیر بعد یہ چیک کر رہے ہیں کہ کتنے لائکس اور کمنٹس ملے ہیں تو سمجھ لینا چاہیے کہ ہمارے اندر اس مہلک مرض کا وائرس داخل ہو چکا ہے۔ خود نمائی کا مرض کتنا ہلاکت خیز ہے اس کا اندازہ اس حدیث پاک سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے:

مزید پڑھیں >>

مذہب اور سائنس کا تعلق

خدارا خدارا امت کے لئے ایک مؤثر نظام تعلیم اور نصاب تعلیم ازسر نو ترتیب دیں۔ تاکہ ہمارے اداروں سے جدید دور کی سائنس سے واقف علماء شریعت اور قرآن و حدیث کے علوم کے واقف جدید دور کے سائنسدان پیدا ہوں۔ ورنہ آپ لاکھ دعائیں کر لیں، اسلام اور مسلمان دعا سے پھیلے تھے نہ ہی فقط دعا سے اسلام اور مسلمانوں کی حفاظت ہو سکتی ہے۔ مسلمان، اسلام، امت کی حفاظت فقط تبلیغ سے نہیں بلکہ تعلیم سے ممکن ہے۔

مزید پڑھیں >>