سیاست

کیا سپریم کورٹ کے چار جج جمہوریت کی حفاظت کر سکیں گے؟

سوال ہے، کیا ملک کے حالات، دلت اور مسلمانوں کے حالات سے ہمارے جج آگاہ نہیں ؟ کیا صرف چارجج ہی ضمیر کی عدالت میں پیش ہوئے ہیں ؟ جیسا میڈیا ہنگامہ کر رہی ہے ...یہ حقیقت ہے کہ انصاف بھی تقسیم ہوا لیکن مکمل انصاف کبھی تقسیم نہی ہو سکتا ..مسلمانوں اور دلتوں کے لئے اب انصاف ہی واحد سہارا ہے .ممکن ہے .لوہیا کیس سے امیت شاہ کو کوئی فرق نہیں پڑے لیکن یہ حقیقت ہے کہ انصاف کی چیخ سننے کے لئے ہمارے کان ترس گئے تھے۔

مزید پڑھیں >>

اجڑتا اتراکھنڈ

یہ واضح ہے کہ اتراکھنڈ اجڑ رہا ہے، اور بی جے پی سوئی ہے، ہندوؤں سے اس کی محبت کے دعویٰ محض دعوے ہیں ، لہٰذا ملک کے ہر ہندو اور ہر شہری کو سوچنے کی ضرورت ہے، بی جے پی ان سے محبت کرتی ہے، یا اپنے مقاصد سے؟ اور اسی پس منظر میں زندگی کو مرتب کرنے کی ضرورت ہے، ووٹ کہیں بھی کیجئے پر انسانیت کی اقدار کو کبھی پامال مت کیجئے

مزید پڑھیں >>

آر ایس ایس اور ہند-اسرائیل تعلقات: چند سربستہ حقائق!

 دیورس ہندوستان میں ممبئی، کیرلا اور ملک کے دوسرے حصوں میں موجود یہودیوں سے رابطے میں رہتے اور انھیں آر ایس ایس-اسرائیل تعلقات کو صحت مند رخ دینے کے لیے پل کے طورپر استعمال کرتے رہے۔ انہی کی تحریک پر1991ء کے اخیر میں کئی اپوزیشن لیڈروں کے ساتھ لال کرشن آڈوانی نے وزیر اعظم نرسمہا راؤ سے ملاقات کی اور زور دیا کہ ہندوستان کو اسرائیل سے سفارتی تعلقات قائم کرنا چاہیے؛بلکہ یہ حقیقت ہے کہ مودی اور سابق صدر پرنب مکھرجی سے پہلے آڈوانی ہی ہندوستان کی پہلی اعلیٰ سیاسی شخصیت تھے، جس نے بحیثیت نائب وزیر اعظم2000ء میں اسرائیل کا دورہ کیاتھا۔

مزید پڑھیں >>

ڈکٹیٹر پرویز مشرف کی واپسی

کل کیا ہو کس نے جانا مگر ملکی منظر نامہ اس وقت تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے۔ ڈاکٹر طاہرالقادری کو رانا ثنا اللہ کا استعفی مل جائیگا، سینٹ الیکشن کو سبوتاژ نہیں کیا جا سکے گا بروقت ہو جائینگے، صوبائی اسمبلیاں بھی تحلیل نہیں کی جائینگی، غیر جمہوری طاقتیں جوڑ توڑ کرینگی مگر خاطرخواہ نتائج نہیں مل پائینگے اور سب سے بڑی خبر یہی ہوگی کہ ڈکٹیٹر پرویز مشرف کی مارچ تک واپسی ہوجائیگی۔

مزید پڑھیں >>

نفرت کے مبلغین اپنے ہی پھیلائے جال میں پھنستے ہیں!

عام آدمی پارٹی نے اپنی حکومت کے دوران فلاحی کاموں کو عام آدمی کی رسائی تک پہنچانے اور ان سے مستفید ہونے میں اہم کردار ادا کیا ہے اور یہ سلسلہ دیگر اسکیموں کے تحت آگے بھی جاری رہنے کے امکانات ہیں ۔ اس کے باوجود الیکشن کے دوران وہ اپنی کامیابیوں کو عوام تک کیسے باور کراتے ہیں اور کس قدر عوام ان کے کاموں سے خوش ہیں ؟ یہ فیصلہ کسی حدتک ضمنی انتخابات کے نتیجہ میں سامنے آئے گا!

مزید پڑھیں >>

منصف ہو تو اب حشر اٹھا کیوں نہیں دیتے؟

امید کہ ہماری حکومت، صدر محترم، وزارت قانون نیز بیدار مغز بھارتی شہری کی اس حساسیت پر متوجہ ہوں گے، کیونکہ کسی بھی ملک کا چیف جسٹس ہی اصلاً ملک کے نظام و آئین اور اس کے باشندوں کا رکھوالا ہوتا ہے، اسی خاطر ہمارا اپنی حکومت سے مطالبہ ہیکہ وہ اپنے فیصلے پر یا تو پھر سے غور فرمائیں یا توضیح فرمائیں اور ہماری عدالتوں کے چاروں ججز کے خدشات کو دور کریں ۔

مزید پڑھیں >>

ہندوتوا سیاست کی ایک اور جیت!

بھیما کورے گاؤں میں اسی لئے فساد برپا کیا گیا اور پھر اس کے بعد جو کچھ ہوا وہ ہندوتوا سیاست کے علمبرداروں کی منشا کے عین مطابق ہوا۔ اور مسلمانوں کو سماجی اور سیاسی طور پر بے اثر کر دینے کے بعد یہ ہندوتوا سیاست کی دوسرے پڑاؤ کی طرف کامیاب پیش قدمی ہے۔ دلتوں نے اس کے خلاف کوئی موثر حکمت عملی بنا کر جدوجہدکر نی چاہئے تاکہ ہندوتوا سیاست کے علمبردار انہیں اپنے لئے نہ استعمال کر سکیں ۔ ہم مسلمانوں کے لئے ضروری ہے کہ اس معاملہ میں دلتوں کی حمایت کریں لیکن اس بات کا بھی خیال رکھیں کہ یہ حمایت اتنی پرشور بھی نہ ہو کہ سازشی اس معاملہ کو تیسرا رخ دے کر مزید فائدہ اٹھا لیں۔

مزید پڑھیں >>

قدم قدم پہ ہے بستی میں وحشیوں کا ہجوم

عصر حاضر کی یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ وطن عزیز میں  ہندو بہنوں کو خود اپنے سماج سے خطرہ لاحق ہے اس لیے وہ باہر پناہ ڈھونڈتی ہیں۔ شمبھو کی نام نہاد بہن کو مثال سامنے ہے۔ شمبھو تو اس کو بنک منیجر کے پاس چھوڑ آیا لیکن اس نے بنک منیجر کو خوش کرنے کے بجائے ناراض کردیا۔ وہ گھر کی چابی دینے کا بہانہ بناکر بھاگ بھاگ کھڑی ہوئی۔ چارج شیٹ میں یہ بھی درج ہے کہ اس حرکت پر شمبھو آگ بگولہ ہوگیا اور اس نے برا بھلا کہا یا مارا پیٹا۔ اس سے ظاہر ہے کہ اگر اس عورت کو قرض درکار ہوتا یا قرض کو وہ  اپنی عصمت سے قیمتی سمجھتی تو وہاں سے فرار نہ ہوتی۔

مزید پڑھیں >>

جمہوریت خطرے میں ہے

ہمیں برسوں پرانی  گنگا جمنی تہذیب کی حفاظت کرنی ہوگی، ججوں کے خدشات کو سمجھنا ہوگا، جمہوریت کی بقا کے لیے فرقہ پرستوں سے لوہا لینا ہوگا،تبھی ہم اپنے ملک میں جمہوریت کوبچاسکیں گے اوراس ملک کی صدیوں پرانی گنگاجمنی تہذیب کی حفاظت کرسکیں گے۔

مزید پڑھیں >>