سیاست

مسلمان: حاشیے سے زیرو پر!

تین چار برسوں میں یہ ملک ایک تبدیل شدہ ملک نظر آتا ہے جہاں مسلمانوں کا نام صرف مذاق اڑانے کے لیے رہ گیا ہے۔ انتخابات کے نام پر مسلمانوں کا مذاق بنایا جاسکتا ہے۔ مسلم سیاسی پارٹیوں کے نام پر مسلمانوں کی مذمت کی جاسکتی ہے۔ ذاکر نائک، شبنم ہاشمی کے ٹرسٹ کے نام پر بھی میڈیا ہنسنے کے لیے تیار بیٹھی ہے۔ اس سے آگے بڑھیے تو علماء کی مختلف جماعتیں ہیں ، الگ الگ فرقے ہیں — ایسا نہیں کہ یہ جماعتیں ، یہ فرقے صرف مسلمانوں میں ہی ہیں ، مگر کسی کو ہنسنا ہے تو ہسننے کے لیے کسی دلیل کی ضرورت نہیں ہوتی۔ ذرا غور کیجئے اتنے بڑے انتخاب میں کیا صرف مسلمان تھے، جن کے دائوں غلط ثابت ہوئے—؟ ایک سو تیس کروڑ کی آبادی میں کیا کانگریس، سماج وادی، بی ایس پی، آر ایل ڈی پارٹیوں کی شکست کے ذمہ دار اکیلے مسلمان کیسے ہوگئے—؟ میں اسے سانحہ سمجھتی ہوں ۔

مزید پڑھیں >>

ناچ اور گانے بجانے کو عام کرنا ایک گہری سازش!

فی زمانہ ناچ اور گانے باجے کو ریلٹی شوز کے ذریعے اتنے بڑے پیمانے پر فروغ دیا جا رہا ہے کہ خدا کی پناہ! تقریباً ہر بڑے شو میں ہزاروں لاکھوں بچّے و بچیاں اور مرد و خواتین آڈیشن کے لیے آتے ہیں ، جس کے تشہیر ہر سڑک اور گلی کوچے میں کی جاتی ہے، پھر سفر کی صعوبتیں برداشت کر، رات رات بھر قطاروں میں کھڑے ہوکر، دن و رات ریاض کرکے معتد بہ تعداد شو میں آگے بڑھتی ہے، پھر ان میں سے تین چار لوگ فائنل میں آکر رخصت کر دیے جاتے ہیں اور بعض مقامات پر انھیں بھی کسی قدر انعامات سے نوازا جاتا ہے ، جب کہ اول مقام حاصل کرنے والوں کو پچاس پچاس لاکھ تک کے نہ صرف انعامات دیے جاتے ہیں بلکہ انڈسٹری میں ان کی اینٹری بھی تقریباً طے ہو جاتی ہے ۔

مزید پڑھیں >>

سیکولر بھی فرقہ پرستی کا شکار کیوں؟

فرقہ پرستی اس وقت ہندوستان میں تیزی کے ساتھ پھیل رہی ہے۔ہندوستانی سیاست پر فرقہ پرست طاقتوں کا تسلط ہے ۔ہر طرف افراتفری کا ماحول ہے ۔لبرل اور سیکولر فکر کے حامل افراد اور جماعتیں اپنے نظریات و افکار کا بھونپو بجا رہی ہیں مگر سماعتوں پر بہرے پن کا عذاب مسلط ہے ۔فرقہ پرستی کا عفریت سیکولر ہندوستانی سماج کو زندہ نگل لینے پر آمادہ ہے اور ہم تما شا دیکھ رہے ہیں ۔ہماری سیکولر جماعتیں جانتی ہیں کہ فرقہ پرستی سیکولر ریاست کے لئے ناسور ہے اور یہ ناسور ہندوستانی تہذیب و ثقافت کے جسم پر اس قدر پھیل گیاہے کہ اب اسکا علاج مشکل نظر آتاہے

مزید پڑھیں >>

اب ہمارے خون سے نہ ہو سودا گری!

قوموں کے سیاسی ومذہبی راہنمائوں اور لیڈروں کا قدم اگر صحیح نہج پر گامزن ہے تو قوم کا فرض بنتا ہے کہ وہ ظاہر کو دیکھ کر ہی اس کے پیچھے چلے لیکن ’’ظاہریت‘‘ پر ہی انحصار کر کے پوری طرح آنکھوں پر پٹی لگائے رکھنا عقل مندی نہیں بلکہ ہمیشہ راہنمائوں اور لیڈروں پر باریک بینی سے نظر رکھنا بھی ضروری ہے، کیوں کہ بہت سارے ایسے مراہل آتے ہیں کہ جب ایک عام انسان کے بھٹکنے کی نوبت آجاتی ہے کجا کہ راہنمائوں اور لیڈروں کی، وہ ہمیشہ باطل پرستوں کی سوچ میں رہتے ہیں ، انہیں ہمیشہ اس خیال میں رہنا پڑتا ہے کہ کس طرح ان راہنمائوں اور لیڈروں کو اپنے چنگل میں لایا جا سکے تاکہ ہمیں حقیر مفادات حاصل ہو جائیں ۔

مزید پڑھیں >>

یوپی: ہندو توا کی ایک اور لیب

ہمیں جمہوریت بچانے کی خاطر، اپنے حقوق کی خاطر، آگے آنا ہوگا، خاموشی ہمارے لیے زیب نہیں دیتی۔ ابھی تو رام مندر کی تعمیر، طلاق ثلاثہ پر پابندی باقی ہے، اور وہ عنقریب اس ضمن میں پیش قدمی کریں گے، رام مندر بنانے سے انہیں کوئی نہیں روک سکتا کیوں کہ عدلیہ نے بھی اپنا دامن جھاڑ لیا ہے۔ (بھلے سے رام مندر کی تعمیر اور مسلمانوں کی بابری مسجد سے سبکدوشی کے بعد ملک کے حالات بگڑیں، اللہ نہ کرے ایسا ہو لیکن اگر ایسا ہوا تو نقصان صرف مسلمانوں کا ہی ہوگا اور بی جے پی ہمیشہ فائدہ میں رہے گی کیوں کہ ان کی فطرت میں ہے فساد کرو ہندو متحد ہوں گے، یہ لوگ انگریزوں کی چال پر چل رہے ہیں نفرت کے بیج بوؤ، اور حکومت کرو) اور طلاق ثلاثہ پرپورے ملک میں نہ سہی لیکن یوپی میں ضرور پابندی عائد کردی جائے گی اور ہم خاموش تماشائی بنے بیٹھے رہیں گے۔

مزید پڑھیں >>

تمہی بتائو یہ اندازِ گفتگو کیا ہے؟

بابری مسجد کو رام مندر بنانے کی تحریک کو 70برس ہوگئے۔ شری سوامی اس کی کسی بھی تحریک میں نظر نہیں آئے۔ جس کا ثبوت یہ ہے کہ مسجد کو شہید کرنے کی سازش اور اس کے لیے غنڈوں کو ورغلانے کی تحریک جب بوڑھے لیڈر ایڈوانی نے رتھ یاترا کے ذریعہ شروع کی تب بھی اس میں سبرامنیم سوامی کہیں نظر نہیں آئے اور اسی لیے وہ ان مجرموں میں نہیں ہیں جن کا مقدمہ رائے بریلی میں چل رہا ہے اور اب ہائی کورٹ سے یہ منظور کرانے کے بعد کہ ان بوڑھے بیلوں پر مقدمہ نہ چلایا جائے۔ مقدمہ سپریم کورٹ پہنچ گیا ہے۔ لیکن ہر وقت پٹر پٹر بولنے کے شوقین سوامی کی زبان نہیں رُک رہی۔ اور اب وہ یہ جتانے کی کوشش کررہے ہیں کہ مسجد ا ور مندر کے معاملہ میں سو کروڑ ہندوئوں کے ترجمان صرف وہ ہیں ۔

مزید پڑھیں >>

'سپریم کورٹ' صاف چھپتے بھی نہیں سامنے آتے بھی نہیں۔

سپریم کورٹ کے ذریعے اس بار پھر اغیار نے ایک چال چلی ہے کہ جسے مسلمان پھر انکے دام فریب میں آگئے ہیں ۔اب اگر مسلمان بات چیت سے انکار کرتے ہیں تو انکا زرخرید میڈیا کہے گا دیکھا مسلمان اس مسئلہ کا حل چاہتے ہی نہیں ورنہ ضرور یہ لوگ بات چیت کے لیے راضی ہوجاتے۔اور اگر مسلمان بات چیت کے لیے راضی ہو بھی گئے تو یہ لوگ ایسی شرطیں مسلمانوں کے سامنے رکھیں گئے جو مسلمانوں کو کسی قیمت پر منظور نہ ہوگا ۔اس وقت بھی ان کا غلام میڈیا کہے گا دیکھو مسلمان تو کسی بات پر ہی راضی نہیں ہوتے۔

مزید پڑھیں >>

آدتیہ ناتھ کا وزیر اعلیٰ بننا مودی کیلئے خطرہ کی گھنٹی

ایک یوگی آدتیہ ناتھ ، دوسرے وزیر اعظم مودی اور تیسرا سنگھ پریوار۔ ان تینوں میں تعاون اگر ٹھیک رہا تب تو ایک طوفان آنا ہے اور اگر ان تینوں میں تعاون ٹھیک نہیں رہا تب بھی ایک طوفان آنا ہے ۔ یوپی کی سیاست اپنی آغوش میں ابھی بہت کچھ سمیٹے ہوئے ہے جو آہستہ آہستہ پردہ ہستی پر کھلیں گے۔ تب تک انتظار کیجئے۔ 2014ء کے بعدپہلی بار بی جےپی میں مودی کے علاوہ کسی اورطاقتور لیڈر کا عروج نظر آیا ہے ۔ اس عروج سے پارٹی کی سیاست نے ایک نئی انگڑائی لی ہے۔ آر ایس ایس نےمودی پر واضح کردیا کہ بی جےپی شخصیات پر منحصر جماعت نہیں ہے ۔

مزید پڑھیں >>

وقت وقت کی بات

آج کے مطالعہ میں ایک مختصر مضمون آیا جس کاعنوان تھا وقت وقت کی بات۔اس میں درج تھا کہ ایک درویش بازار میں بیٹھا تھا،وہاں سے بادشاہ کاگزر ہوا تو اس نے درویش سے پوچھا کہ بھائی تم کیاکرہے ہو؟تواس نے جواب دیا کہ بندوں کی اللہ سے صلح کروارہا ہوں۔اللہ تو مان رہاہے مگر بندے نہیں مان رہے ہیں۔کچھ دنوں کے بعد کی بات ہے کہ وہی درویش قبرستان میں بیٹھا ہواتھا ،اتفاق سے بادشاہ کاوہاں سے بھی گزر ہواتو اس نے پھر وہی سوال پوچھاکہ بھائی یہاں کیاکررہے ہو؟تودرویش نے جواب دیاکہ اللہ کی بندوں سے صلح کروا رہاہوں ، لیکن آج بندے تو مان رہے ہیں مگر اب اللہ نہیں مان رہاہے۔‘

مزید پڑھیں >>

مسلمانوں کے لیے گاندھی جی کی قربانی

بابائے قوم مہاتما گاندھی کو ایک ہندو انتہا پسند، ناتھو رام گوڈسے نے گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا۔ گوڈسے کا تعلق راشٹریہ سویم سیوک سنگھ سے ہے یا نہیں، اس بات کو لے کر آج تک تنازع برقرار ہے۔ تاہم، غور کرنے والی بات یہ ہے کہ جس شخص نے ہندوستان کو انگریزوں کی غلامی سے نجات دلائی، اسے اس کے ہی ایک ہم وطن نے موت کی نیند کیوں سلا دی؟ دراصل، وہ ایک ہندو انتہا پسند تھا جسے نہ جانے کیوں یہ بات بار بار پریشان کر رہی تھی کہ مہا تما گاندھی مسلمانوں کے زیادہ حمایتی ہیں۔ یہی ان کے قتل کی سب سے بڑی وجہ بنی۔ اسی میں سے ایک وجہ گاندھی جی کے ذریعہ میوات کے پانچ لاکھ مسلمانوں کو پاکستان جانے سے روکنا بھی ہے۔

مزید پڑھیں >>