سیاست

ہوا،پانی، اللہ کی نعمت ہیں ۔ بر باد ہم کر یں توجھیلے گا کون؟

گھر گھر جا کر پا نی بچا ئو زند گی بچا ئو کی مہم چلا ئیں ،صفائی کی طرف بھی توجہ دلا ئیں علماء حضرات اپنے بیا نوں میں پا نی کی بے قدری پر لو گوں کو سمجھائیں حکو متیں بھی خاص کر آبی وسا ئل کے وزرا اسکیمیں بنائیں سختی سے لا گو کرا ئیں ہمیں اپنے بچوں کو اگر خوش دیکھنا ہے تو IPL CRICKET بھولنا ہو گا جہاں کر کٹ کے میدانوں میں لا کھو گیلن پانی ڈالکر میدا نوں کو بنا یا سنوارا جاتا ہے اور پانی بے در دی سے بہا یا جا تا ہے گذ شتہ سال کورٹنے کئی میچوں کو مہا راشٹرسے ہٹا کر دوسری جگہ کر وایا تھا۔منریگا اسکیم کے تتحت اور صوبائی حکو متیں کی جانب سے بڑے بڑے تا لاب بنوائیں جا ئیں صرف کا غذوں پر نہیں بر ساتی پا نی جو قد رت کا انمول تحفہ ہے اسے محفوظ کریں تاکہ کھیتی بھی سیراب ہو جانور پا نی پئیں اورانسانوں کے لیے بھی راحت ہو۔

مزید پڑھیں >>

قرآنی وعیدوں کے ذریعہ سماجی برائیوں کی روک تھام

موجودہ دور میں جاہلیت پھر لوٹ آئی ہے۔ سماجی برائیاں عام ہیں اور فتنہ و فساد عروج پر ہے۔ ان کی روک تھام کے لیے ضروری ہے کہ قرآن کی مذکورہ تعلیمات کو عام کیا جائے اور اس کی وعیدوں کو لوگوں کے دلوں میں بٹھایا جائے۔ تبھی ان پر قابو پایا جا سکتا ہے اور معاشرہ کو پاکیزگی اور امن و امان حاصل ہو سکتا ہے۔

مزید پڑھیں >>

ہندستانی مسلمان کیا کریں؟ (دوسری قسط)

مادی اور اقتصادی اعتبار سے مضبوط ہونا کتنا ضروری ہے اس کا اندازہ آپ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ جہاں اقتصادی طور پر کمزور ہونے کے بعد حکومتوں کے لئے اپنا توازن برقرار رکھنا نا ممکن ہو جاتا ہے وہیں افراد اور خاندانوں کے لئے اپنا وقار محفوظ رکھنا بھی مشکل ہو جاتا ہے۔ اسی حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ریزرو بینک آف انڈیا کے سابق گورنر نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ سماجی نابرابری کو دور کرنے میں پیسوں کا اہم رول ہوتا ہے۔ وہ ہندوستانی سماج میں موجود مختلف قسم کی نابرابریوں کے خاتمہ کےلئے موثر حل پیش کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔

مزید پڑھیں >>

رہ گئی رسمِ اذان روح بلالی رنہ رہی!

اذان ایک اسلامی شعار ہے، یہ نماز کی دعوت او ر بلاوے کا ذریعہ اور ایک اہم عبادت کا دیباچہ ہے ، اس لئے شریعت میں اس کی اہمیت وافادیت اور اس کے فضائل بہت زیادہ ہیں ، لیکن موجودہ دور میں جہاں دیگر عبادات اور اسلامی شعار کا جنازہ نکلا ہوا ہے ، اذا ن جیسے اہم شعار اسلام کی اہمیت وافادیت اور اس کے فضائل ومناقب بھی نگاہِ مسلم سے اوجھل ہوگئے ، آج کل مسجد میں بطور مؤذن کے انتخاب ان لوگوں کا کیا جاتا ہے ، جو نہ اذان کے کلمات کاتلفظ صحیح کرسکتے ہیں ، اور نہ اذان کا مکمل حق ادا کرسکتے ہیں ؟

مزید پڑھیں >>

کسی کو تو قربان ہونا پڑیگا

کوئی بھی اس بات یا الزام سے اختلاف نہیں کررہا کہ ہمارے ملک میں اعلی عہدہ پر فائز افراد میں سے اکثریت ایسے لوگوں کی ہے جو کسی نا کسی طرح سے کرپشن میں بلواسطہ یا بلاواسطہ ملوث ہیں ۔ کرپشن کرپشن ہے بے ایمانی کو بے ایمانی ہی کہا جائے گا اور اگر یہ کرپشن یا بے ایمانی ملک کے رہبر و رہنما کریں تو ملک کا عام آدمی کیا کریگا اور پھر ایسے افراد کی پکڑ بھی سخت ہونی چاہئے۔ کرکٹ کہ کھیل میں شک کا فائدہ بلے باز کو دے دیا جاتا تھا مگر جب سے تکنیکی سہولیات کو بروئے کار لایا گیا ہے تو تمام شکوک و شبہات کو یکسر مسترد کردیا گیا ہے اور امپائر اپنا حتمی فیصلہ سناتے ہیں

مزید پڑھیں >>

لاؤڈا سپیکر سے ہونے والی تکلیف اورعلماے اسلام کے فتوے!

اذان کا مقصود نماز کا اعلان اور زیادہ سے زیادہ لوگوں کو اس کی اطلاع دینا ہے ۔۔۔لاؤڈ اسپیکر چوں کہ اس مقصد کے لیے بہت مفید اور کار آمد ہے اور کسی شرعی ممانعت کے بغیر آسانی اور سہولت کے ساتھ دور دور تک اس کے ذریعے آواز پہنچائی جا سکتی ہے ، اس لیے اس کا استعمال بہتر اور مستحسن ہوگا۔

مزید پڑھیں >>

کیا ہماری بہنیں محفوظ ہیں؟

مسلم لڑکیوں کو ورغلانے کے لیے بہت ہی خطرناک منصوبے کے تحت کام ہو رہا ہے۔ اس کے لیے باضابطہ نوجوان لڑکوں کو ٹریننگ دی جاتی ہے۔ انہیں خاص طور سے اردو زبان سکھائی جاتی ہے۔ لڑکیوں کے اندر جلد متاثر ہونے کی صلاحیت ہوتی ہے۔ لہذا جب وہ غیر مسلم لڑکوں کی زبان سے اردو زبان کے الفاظ اور اشعار سنتی ہیں تو فطری طور پر متاثر ہوتی ہیں اور یہیں سے ان کی بربادی کی داستان شروع ہو جاتی ہے۔

مزید پڑھیں >>

جانتے ہو؟

کسی نے پوچھاجانتے ہو؟میں نے کہانہیں کچھ نہیں جانتا،اس نے کہا کاش تم جان پاتے کہ حرام کھانے والے اپنے پیٹ میں جہنم کی آگ بھررہے ہیں، اس نے پھرکہاجانتے ہو؟میں نے ایک بارپھروہی جواب دیانہیں میں کچھ نہیں جانتا،اُس نے کہاکاش تم جان پاتے کہ یہ جوحکمران ہیں یہ بھی ہم میں سے ہیں، اُس کایہ کہناتھاکہ میں شروع ہوگیا،حکمرانوں کے بلندوبالادعوئوں کے باوجود عوام جانتے تھے کہ سخت گرمی کے مہینوں میں لوڈ شیڈنگ کاسانپ ہمیں ضرورڈسے گا۔

مزید پڑھیں >>

ان اندھیروں کو مٹ ہی جانا ہے‎

اور رہی بات رام راجیہ کی، تو بہت زیادہ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ، اب بھی ہندوستان کا اکثریتی طبقہ سیکولر اور لادین ہے، اسے امن و امان اور ترقی سے مطلب ہے، بقیہ اسے کسی مذہب کی Hegemony قبول نہیں ، آر.ایس.ایس کا بھرم خود ہندو ہی توڑیں گے، ہندو مذہب کے دبے کچلے لوگ صدیوں کے برہمن وادی ظلم کو بھولے نہیں ہیں ، وہ پھر مخالفت میں اٹھ کھڑے ہوں گے، آر.ایس.ایس کا سورج پھر غریب ہوگا، کچھ پل کے لئے مذہب کا آگ لگا کر لوگوں کو ہمنوا تو بنایا جاسکتا ہے، مگر کبھی بھی لوگوں کو مذہب سے باندھ کے نہیں رکھا جاسکتا ہے، وہ بھی ایسے مذہب سے جس کی بنیاد Myth اور Stories پہ ہے.

مزید پڑھیں >>

یہ ہے مودی کے سپنوں کا پردیش

حال ہے کہ وزیر اعلیٰ نے کہا ہے کہ ان کی جان کو خطرہ ہے لہٰذا سیکورٹی اور بڑھائی جائے اور ونے کٹیار جو پارلیمنٹ کے ممبر ہیں ان سے آج تک کبھی کسی نے کچھ نہیں کہا۔لیکن خبر ہے کہ ان کی سیکورٹی بڑھادی گئی۔ ہم نہیں جانتے کہ ان کو کس ہندو سے خطرہ ہے۔ مسلمان سے تو ہونہیں سکتا کیوں کہ وہ تو خود صبح سے شام تک اپنی جان بچانے کی ترکیبیں کرتا رہتا ہے۔ اور اسے گائے بیل تو کیا اونٹ ا ور بھینس لے جانے کی بھی اجازت نہیں ہے .شاید بکری پر اس لیے پابندی نہیں ہے کہ وہ دودھ بھی کم دیتی ہے اور پتلا دیتی ہے۔

مزید پڑھیں >>