سیاست

نہ مے، نہ میکدہ صرف ایک سیاست!

یوپی الیکشن کے ایام قریب تر ہوتے جارہے ہیں ، سیاسی پارٹیاں توڑ جوڑ، منافرت کے فروغ اور ووٹ بینک حاصل کرنے کے تگ و دو میں مصروف ہیں اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یوپی الیکشن ’’مہا بھارت‘‘ کا نقشہ سامنے لائے گا ـ مجلس جو صرف آندھراپردیش کی علاقائی پارٹی تھی مہاراشٹر عبور کرتے ہوئے بہار ہوکر یوپی میں مسیحائی اختیار کرنے کی طرف گامزن ہے۔ ـ گو تجزیہ کاروں کے لیے یوپی الیکشن تجزیوں اور قیاس آرائیوں سے کہیں مختلف ہونے کا امکان رکھتا ہے ـ تاہم عوام کذب بیانی، جملے بازی اور عوامی اختیارات کے بیجا استحصال سے بخوبی واقف ہیں، مذہبی نعروں اور اس ضمن کے تمام جملہ بازیوں کے اثرات بھی بے معنی ہوچکے ہیں

مزید پڑھیں >>

اترپردیش کا اسمبلی انتخاب اور مسلم قیادت!

اگر ایک نگاہ 2012 کے اسمبلی انتخاب کے نتائج پر ڈالی جائے تو67 مسلم اسمبلی میں آسکے جبکہ دوسرے نمبر پر آنے والوں کی تعداد63تھی سب سے زیادہ حیرت کی بات یہ ہے کہ ان میں 5 2مسلمان سماجوا دی سے 19بھاجپاسے، 8بہوجن سے اورایک مسلمان کانگریس سے ہار کر اسمبلی سے باہر رہنے پر مجبور ہوئے تھے اس سے ایک بات یہ اور بھی اخذ کیا جا سکتا ہے کہ جب کسی مسلمان کے مقابلہ میں کوئی آزاد امیدوار مضبوط نظر آتا ہے تو وہ انہیں اسمبلی میں بھیجنا بہترسمجھتے ہیں اوروہ کسی مسلم کے بدلے اپنی پارٹی سے بھی بغاوت کراسکتے ہیں۔

مزید پڑھیں >>

یوپی الیکشن اور مسلمان : میں مشورے کیوں دوں ؟

کئی دوستوں کا اصرار رہا کہ ہم بھی یوپی کی سیاست پرکچھ لکھیں، خاص طور سے اس تناظر میں کہ وہاں الیکشن ہونے والا ہے، اسدالدین اویسی میدان میں ہیں، کئی اور مسلم پارٹیاں ہیں اور پھر مختلف سیکولر پارٹیوں …

مزید پڑھیں >>

شناخت کی تبدیلی کا مسئلہ

کھادی ویلیج انڈسٹریز کمیشن کی ڈائری اور کلینڈر میں مودی کی تصویر شناخت تبدیل کرنے کی ایک کوشش ہے ۔لیکن کیا شناخت بدلنا اور کسی عالمی شخصیت کی جگہ لینا وہ بھی چند تخیلاتی اور مصنوعی طریقہ کار ذریعہ اتنا …

مزید پڑھیں >>

26جنوری یوم جمہوریہ قومی یادگار کے اظہار کا دن

حافظ محمد ہاشم قادری صدیقی مصباحی 26جنوری یوم جمہوریہ کے طورپر ہر سال منایاجاتاہے،کیونکہ اسی روز مرتب کردہ آئین اسمبلی کے ذریعہ نافذالعمل کیاگیاتھا۔ اس دن کا یہ بھی پس منظرہے کہ 1930میں لاہور کے مقام پر دریائے راوی کے …

مزید پڑھیں >>

تجھے ہم ولی سمجھتے جو نہ بادہ خوار ہوتا

مشہور زمانہ سچر کمیٹی کی رپورٹ ۲۰۰۵میں یہ ظاہر کر چکی ہے کہ ہندوستانی مسلمان اپنی معاشی، اقتصادی ،تعلیمی اور سیاسی زوال کے انتہائی نچلے زمرے میں پہنچ چکے ہیں اور اب ان کی حالت دلتوں جیسے ہوچکی ہے یہ …

مزید پڑھیں >>