سیاست

بھرشٹ نیتا بی جے پی میں آئیں اور بھرشٹاچار مکت ہو جائیں

یہ بات  کسی سے بھی پوشیدہ نہیں کہ کرونا ندھی کے خاندان کے بیشتر افراد ٹو جی اسپیکٹرم گھوٹالے میں بری طرح پھنسے ہوئے ہیں او رکئی تو  اس سلسلے میں جیل یاترا بھی کر چکے ہیں ۔ ابھی چند روز قبل نریندر مودی مدراس دورے پر گئے، تو وہ خاص طور پر ڈی ایم کے پارٹی کے سربراہ کرونا ندھی سے ملنے ان کی رہائش گاہ پر پہنچے ۔ باتیں کیا ہوئیں ، یہ ابھی طشت از بام نہیں ہوئی ہے، لیکن کچھ نہ کچھ جلد سامنے آنے کی توقع ہے۔

مزید پڑھیں >>

حکومت اور عدالتوں کا دوستانہ میچ

الہ آباد ہائی کورٹ اور اس کی لکھنؤ بینچ حکومت کو آٹھ مہینے میں کئی بار ہدایت دے چکی ہے کہ غیرقانونی مذبح کے نام پر جو حکومت نے پورے اُترپردیش میں ہر مذبح کو تاراج کردیا وہ اس کی تلافی میں بھی اپنا فرض ادا کرے اور وہ کروڑوں شہری جو گوشت کھانا چاہتے ہیں یا جو گوشت، کھال اور جانوروں کا کاروبار کرتے ہیں ان کا روزگار واپس کرے۔

مزید پڑھیں >>

ختم نبوت

ہر نبی اور ہر آسمانی کتاب نے اپنی امت کو اپنے بعد پیش آنے والے حالات کے بارے میں اطلاعات دی ہیں ۔ کتب آسمانی میں یہ اطلاعات بہت تفصیل سے بیان کی گئی ہیں ۔ گزشتہ مقدس کتب میں اگرچہ انسانوں نے اپنی طرف سے بہت سی تبدیلیاں کر دیں ، اپنی مرضی کی بہت سی نئی باتیں ڈال کر تو اپنی مرضی کے خلاف کی بہت سی باتیں نکال دیں لیکن اس کے باوجود بھی جہاں عقائد کی جلتی بجھتی حقیقتوں سے آج بھی گزشتہ صحائف کسی حد تک منور ہیں وہاں آخری نبی ﷺ اور قیامت کی پیشین گوئیاں بھی ان تمام کتب میں موجود ہے۔

مزید پڑھیں >>

اب بے قراری کی وجہ سمجھ سے باہر ہے

وشو ہندو پریشد نے بھی رام مندر کی تعمیر پر مصالحت کو بے معنیٰ قرار دیا ہے وی ایچ پی کے میڈیا انچارج نے وضاحت کے ساتھ کہا ہے کہ عدالت کو ثبوت چاہئے جو مندر کے حق میں اسے مل گئے ہیں ۔ جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا ارشد میاں نے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ مصالحت کی بنیاد پر ہم بابری مسجد کسی کو نہیں دے سکتے۔ مولانا نے فرمایا کہ ہمارا آئین پر پورا یقین ہے لہٰذا وہ جو بھی فیصلہ کرے گا ہم سرجھکاکر اسے تسلیم کرلیں گے۔

مزید پڑھیں >>

پولس فورس کی تفتیش پر سوالیہ نشان

آج کی پولس برطانیہ کے راج سے بھی زیادہ خراب اور ظالم ہے۔ بہت سے ججوں نے پولس فورس پر سخت ریمارک دیا ہے کہ ان کا کردار مجرمانہ ہوتا ہے۔ ظاہر ہے ایسے لوگ جو جرائم میں ملوث ہوں وہ کیسے غیر جانبدارانہ تفتیش یا چھان بین کا کام انجام دے سکتے ہیں ۔ ان کے ہاتھ تو خون سے رنگے ہوتے ہیں۔

مزید پڑھیں >>

​سچائی کہاں ملتی ہے؟

آج ملک میں سچ اور جھوٹ کا ایک بہت بڑا معرکہ چل رہا ہے۔ حاکم وقت کو عدل نے کٹہرے میں لا تو کھڑا کیا ہے مگر حاکم وقت اپنی حاکمیت کے زعم میں عدل کی دھجیاں اڑانے میں مصروف ہیں۔ حاکم وقت یہ بھولے بیٹھے ہیں کہ ایک حاکمیت اعلی بھی ہے جہاں صرف سچ ہی چلتا ہے۔ شائد ہم پاکستانیوں کی تنزلی اور روز بروز گرتی ہوئی حالت کی ذمہ داری بھی اسی سچ سے دوری ہے اور ہم چھوٹی چھوٹی باتوں کیلئے جھوٹ پر جھوٹ بولے جا رہے ہیں۔

مزید پڑھیں >>

محبت اور سیاست کی جنگ بنام ’لوجہاد‘ یا ’لو فساد‘ ؟

لوجہاد  انگریزی اور عربی الفاظ کا منفرد مرکب ہے۔ ہندوستان کی فسطائی قوتوں کو  جب سنسکرت اور عربی کو ملاکر نیا استعارہ وضع  کرنے میں ناکامی  ہوئی توفرنگیوں  کا سہارا لینے پر مجبور ہوگئے۔ اسلام کے دشمنوں نے اپنے حواریوں  کو دین حنیف سے برگشتہ کرنے کے لیے یہ خیالی فتنہ  ایجاد تو  کردیا لیکن جب بھی اس کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کی تو انہیں منھ کی کھانی پڑی۔ خالص  لسانی سطح پر  جہاد کا ایک لغوی مطلب ہے  اور دوسرا شرعی مفہوم ہے۔ ویسےہر دو معنیٰ میں لو جہاد معقول اصطلاح  ہے۔ اللہ کی محبت کے بغیر جہاد فی سبیل اللہ ممکن نہیں ہے اور انسانوں کی محبت کا حق ادا کرنے کے لیے بھی اچھا خاصا جہاد بمعنیٰ جدوجہد کرنی ہی پڑتی ہے  گویا دونوں معنیٰ میں لو کا جہاد سے تعلق ہے۔ مثل مشہور ہے ’’جنگ اور محبت میں سب جائز ہے‘‘۔ اس طرح جنگ اور محبت ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم قرار پاتے ہیں۔ فی زمانہ منظر عام پر آنے والے لو جہاد کے واقعات اس امر کی شہادت  دیتے  ہیں۔ ان کا دلچسپ پہلو یہ بھی ہے کہ عدالت پلڑوں پر جلد یابہ دیر محبت جیت جاتی ہے سیاست ہار جاتی ہے۔

مزید پڑھیں >>

پاکستان انٹرنیشنل ائیرلائنز :  ایک عظیم قومی اثاثے کا عروج وزوال

اب اگرموجودہ حکومتی کردار کا تجزیہ کیا جائے تو اس میں قطبیت نمایاں ہے۔ حکومت یا تو بالکل ہی نجکاری کی کوشش کرتی دکھائی دیتی ہے یا پھر نجکاری کے خلاف پی آئی اے کے عملے کی بھرپور مزاحمت کی صورت میں عربوں روپے بیل آوٹ پیکج کی صورت میں بار بار فراہم کرتی نظر آتی ہے، جبکہ اصلاحات کا عنصر نہایت کم اور غیر موزوں نظر آتا ہے۔

مزید پڑھیں >>

مدارس کا تعلیمی بحران: موروثی نظام اورہماری ذمہ داریاں

مدارس کو جدید نظام تعلیم اور عصری تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا بیحد ضروری ہے۔ جدید نظام تعلیم سے مراد مدارس میں انگریزی اور ماڈرن ہسٹری کی تعلیم مراد نہیں ہے بلکہ وہ طریقۂ تدریس مراد ہے جو آج دنیا بھر میں رائج ہے۔ کیا ہمارے مدارس میں ٹرینڈ ٹیچرز ہوتے ہیں۔ ڈنڈے کا خوف دلاکر طلباء کو اپنی جہالت کا قائل کرنا الگ ہے مگر انہیں اپنے علم و تجربہ کی بنیاد مطمئن کرنا آسان نہیں ہے۔ اگر طلباء دوران تعلیم ہی احساس کمتری کا شکار ہوجائیں گے تو پھر قوم ان سے کیا توقعات وابستہ رکھے گی۔

مزید پڑھیں >>

کشمیر مذاکرات: وقت گزاری کا بہترین مشغلہ!

2016 ء میں برپا ہونے والی عوامی احتجاجی مہم کے بعد عوامی جذبات اور حریت پسندی کے جذبے کو طاقت کے ذریعے سے دبانے کی بھارتی پالیسی میں اب بظاہر تبدیلی محسوس ہورہی ہے۔ حال ہی میں بھارت کی مرکزی سرکار کی طرف سے آئی بی کے سابق سربراہ دنیشور شرما کو ریاست جموں و کشمیر کے لئے مذاکرات کار نامزد کیا گیا ہے۔ اس فیصلے سے متعلق مختلف حلقوں میں مختلف النّوع تجزیے اور اندازے لگائے جارہے ہیں ۔

مزید پڑھیں >>