آئینۂ عالم

کون جانے کون سمجھے شام کے لوگوں کا غم!

بشار الاسد ظالم نے شام کے لوگوں کو مختلف انداز میں تباہ کیا ہے، وہ جب چاہے بمباریوں کے ذریعہ ان کی عمارتوں، گھروں اور محلے کو ڈھادے، شہروں کو تہس نہس کردے، کوئی اسے روکنے والا نہیں، اب جب چاہے زہریلی گیس اور کیمیائی ہتھیاروں کے ذریعہ نسل کشی اور انسانیت سوزی کا وحشت ناک کام انجام دے،چناں چہ ابھی بھی تحقیقاتی اداروں نے دعوی کیا ہے کہ شام میں بشار کی حکومت نے مبینہ طور پر کیمیائی ہتھیاروں کی بڑی تعداد چھپارکھی ہے، جسے وقفے وقفے سے استعمال کیا جارہا ہے اور لوگوں میں خوف ودہشت پیدا کی جارہی ہے اور انسانی جانوں کو ضائع کیا جارہا ہے۔

مزید پڑھیں >>

احتساب اور قانون سب کے لئے برابر

پاکستان دنیا کا شاید وہ واحد ملک ہے, جہاں امیر کے لئے اورقانون اور غریب کے لئے اور ہے یہاں امیر اپنی دولت کے بل بوتے پر جرم کر کے بھی بچ جاتا ہے۔ جبکہ غریب آدمی ناکرداہ گناہوں میں پھنس جاتا ہے۔ اس کی کئی مثالیں ہمارے سامنے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے ہاں اپر کلاس قانون کو گھر کی لونڈی سمجھنے لگے ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ ہمارے قانون میں وہ سقم ہیں، جو جرائم پیشہ افراد کو تحفظ فراہم کرتے ہیں۔ گو کہ ہم نے یہ سقم کھبی دور کرنے کی مخلص کوشش ہی نہیں کی۔ کیونکہ اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھنے والوں کو پتا ہے کہ اگر انھوں نے یہ سقم دور کر دیے تو وقت ان کو کھبی بھی انصاف کے کٹہرے میں لا سکتا ہے اور وہی یہ لوگ ہیں جو اپر کلاس طبقہ کہلاتاہے۔

مزید پڑھیں >>

شام: کیمیائی ہتھیار اور معصوم بچے!

گھٹن ذدہ آب و ہوا میں دم توڑتی سانسیں تو ان ہی معصوم بچوں نے لینی ہیں جو شام نامی ملک میں پیدا ہوئے ہیں انکا قصور کچھ بھی نہیں ہے سوائے اسکے کہ قدرت نے انہیں شام کی سرزمین پر پیدا کیا ہے۔ ملک شام اور اسکے باشندے معلوم نہیں کس کی انا کی بھینٹ چڑھ رہے ہیں ۔ جو کوئی بھی ہے انتہائی درجے کی بے حسی میں مبتلا ہے اور ہلاکو اور چنگیز خان کی بدترین تاریخ کو دھرانے کہ درپے ہے۔

مزید پڑھیں >>

انٹر پول: بین الاقوامی پولیس

انٹرپول پوری دنیا کی پولیس ہونے کا دعوی کرتا ہے لیکن اس کی دفتری زبانوں میں صرف عربی ایک ایسی زبان ہے جو غیریورپی علاقے سے تعلق رکھتی ہے اور اسکی وجہ بھی بآسانی سمجھ آ سکتی ہے کہ عرب حکمرانوں سے رقم اینٹھنے کے لیے اورامت مسلمہ کے خلاف انہیں اپنے سیاسی مقاصد کی تکمیل کے لیے خوش کرنا مقصود ہے۔اپنی اقوام کے لیے یہ ادارہ کل وسائل واختیارات بروئے عمل لاتا ہے. لیکن افریقہ اور ایشیا سمیت یورپ کے علاوہ پوری دنیامیں دو ٹانگوں پر چلنے والے انہیں انسان نظر نہیں آتے بلکہ وہ انہیں ایسا جانور گردانتے ہیں جن کے حقوق ان کے کتوں اور بلیوں سے بھی کہیں کم ہیں ۔کل انسانیت کے لیے انٹرپول کاکیاکردارہے؟؟یہ سوالیہ نشان یورپ کے ماتھے پر ہمیشہ کلنک کاداغ بنارہے گا۔

مزید پڑھیں >>

ہنگری!

ہنگری کی سب سے پہلی تاریخ عربی میں لکھی گئی اور مسلمانوں نے لکھی،یہ نویں صدی عیسوی کی بات ہے۔اصل ہنگری کے باشندے’’فینو‘‘نسل کے قبائل کی اولاد سے ہیں ،جن پر سب سے پہلے ترکوں کی زبان نے اپنے اثرات ڈالے۔ترکوں اور ہنگریوں کی تعلقات کی ایک طویل داستان ہے جو کہ قبل از اسلام کے دور سے تعلق رکھتی ہے۔ابو حامد الغرناطی (متوفی 1170ء)نے جو ایک فقیہ ہونے کے ساتھ ساتھ ایک سیاح بھی تھے انہوں نے اس وقت کے ہنگری میں تین سال گزارے اوریہاں کے حالات پر بہت عمدہ اورمفصل تحریریں لکھیں ۔چوہدویں اور پندرویں صدی کے دوران ترکوں اور ہنگری کے بادشاہوں میں طویل مخاصمت رہی اور میدان جنگ آئے روز گرم کیے جاتے رہے۔ہنگری کے بادشاہ آہستہ آہستہ کمزور ہوتے گئے اور قدرت عثمانیوں پر مہربان ہوتی گئی تاآنکہ سلطان سلیمان اول(1520-1566)نے ہنگری میں اپنی افواج داخل کر دیں اور1541ء میں مسلمان سپاہ نے ہنگری کے دارالحکومت پر قبضہ کرلیا۔کم و بیش ساڑھے تین سو سالوں کے طویل اقتدار کے بعد بیسویں صدی کے آغاز میں یہاں اسلامی اقتدار کا سورج غروب ہوا اور کیمونسٹ اقتدار غالب آ گیا۔

مزید پڑھیں >>

یورپ اور امریکہ میں دہشت گردی کی حالیہ لہر!

امریکہ اور اور یورپ کی حکومتیں ،فوجیں اور خفیہ ادارے ہی نہیں بلکہ وہاں کے عوامی اور تفریحی ادارے بھی دہشت گردی کی کھل کر سرپرستی کرتے ہیں ۔دوسری جنگ عظیم کے بعد سے فلموں کے ذریعے تفریح کے نام پر دہشت گردی کاایک نہ تھمتاہوا طوفان ہے جو امریکہ ویورپ سے پوری دنیاکو برآمد کیاگیا۔ان انگریزی فلموں نے پوری دنیاکو گویاایک مکمل تربیت دی ہے کہ دہشت گردی اور قتل و غارت گری کس طرح کرتے ہیں ۔فلموں میں کھل کر دکھایاجاتارہاکہ قانون اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو کیسے شکست دی جاسکتی ہے یا ان اداروں کے اہل کاروں کو کیسے بے وقوف بناکر اپنی دہشت گردی کواپنی مرضی کے انجام تک پہنچایاجاسکتاہے۔ہر ہر فلم کا ہیرو جب تک بہت سی خونریزلڑائیاں اور ان لڑائیوں میں بیسیوں افرادکوقتل نہ کرلے اور کتنی ہی عمارتوں اور گاڑیوں کونذرآتش نہ کر لے اس کا منصوبہ مکمل ہی نہیں ہوتا۔

مزید پڑھیں >>

پانی ہے تو کل ہے!

بھارت کی بات کریں تو 7فیصد دیہی آبادی کو پینے کا صاف پانی میسر نہیں ، واٹر ایڈ کی رپورٹ کے مطابق ملک بھر میں 6.3 کروڑ آبادی کی پہنچ سے پینے کا صاف پانی دور ہے۔ یہ آنکڑا دنیا بھر میں سب سے زیادہ ہے۔ دیہی علاقوں کے لوگ آلودہ پانی پینے کو مجبور ہیں ۔سیویج اور صنعتی اکائیوں سے سالانہ330 کیوبک کلو میٹر آلودہ پانی نکلتا ہے۔ اس میں سے 167 کیوبک کلو میٹر آلودہ پانی میں سات ممالک (چین، بھارت،امریکہ، انڈونیشیا، برازیل، جاپان اور روس) کی حصہ داری ہے۔ دنیا میں 9087ارب کیوبک میٹر پانی سالانہ استعمال ہورہا ہے۔ پانی کی مانگ میں 2030 تک 50 فیصد تک اضافے کا اندازہ ہے۔

مزید پڑھیں >>

یمنی مہاجرین کی حالت زار!

یمنی مہاجرین کے مسئلے کوآج قابو میں نہ کیاگیاتویہ ایک بہت بڑاعالمی انسانی المیہ بن سکتاہے۔کیادنیااس انتظارمیں ہے شامی مہاجرین کی طرح یمنی مہاجرین کی بھی تصویریں شائع ہوں تب انسانیت حرکت میں آئے۔حقیقت یہ ہے یمنی ہجرت کابہت بڑاحصہ سمندر کے راستے ہی ہوتاہے لیکن یہ چونکہ ایک غریب اور پسماندہ ملک ہے اس لیے یہاں کی پوشیدہ اور نہایت گھمبیر صورتحال کامعاشرتی ذرائع ابلاغ کے ذریعے شورنہیں مچایاجاسکاجس کے باعث یہاں کی انسانیت پس کررہ گئی ہے اور دنیاگونگی بہری اور نابینا ہوکر آرام سے بیٹھی ہے۔اگرکچھ ادارے یہاں پہنچے بھی ہیں تووہ اغیارکے ادارے ہیں جبکہ امت مسلمہ کے حکومتی اور غیر حکومتی ادارے بالکل چپ سادھے بیٹھے ہیں ۔یہ بہت ہی غیرذمہ داری کا ثبوت ہے جو امت مسلمہ کی طرف سے سردمہری کی صورت میں دیاجارہاہے۔کیاضروری ہے کہ جن مسائل کو مغربی میڈیااٹھائے انہیں کو ہی ہمارا میڈیابھی اجاگر کرے اور جہاں مغربی میڈیاخاموشی اختیار کرے وہاں ہم بھی آنکھوں پر پٹی باندھے رہیں ،کچھ علاج اس کا بھی اے چارہ گراں ہے کہ نہیں ؟

مزید پڑھیں >>

موجوده حالات ميں همارى ذمه دارى

اس وقت صرف هندوستان ہی میں نہیں ، بلكه پورى دنیا میں هم مسلمان جن حالات سے گزر رهے ہیں ان كى سنگينى كا احساس هر خاص وعام كو هے_ همارى سياسى طاقت مدتوں سے ٹوٹ چكى هے_ اجتماعيت كا شيرازه منتشر هو چكا هے_ گروهى عصبيت همارى رگ جاں میں پيوست هو گئى هے_ همارا مزاج فرقه وارانه بن چكا هے_ہماری جان ومال اور عزت وآبرو كا عدم تحفظ همارى ذلت وبے كسى كا آئينه دار هے_ مختلف ملکوں ميں ملازمتوں كے شرائط اس طرح تبديل كئے جا رهے هيں كه مسلمانوں كے لئے ملازمتوں كا حصول مشكل هوتا جا رها هے_ مسلم ملازمين كى پریشانیوں میں اضافه هو رها هے_ مسلم خواتين كا پرده تنقيد اور امتيازى سلوک كى زد میں هے_ اسکولوں ، اسپتالوں اور عوامى ریستورانوں سے حلال كهانوں كى قانونى آسانیاں ختم كى جا رهى هيں _تكفين وتدفين كى حاصل هونے والى سہولتیں بهى نشانه پر هيں اور وه وقت دور نہيں جب يكساں مواقع كے دستور كو خواتين اور هم جنس پرست اماموں كى تقررى كے لئے استعمال كيا جائے گا_

مزید پڑھیں >>

میانمار(برما)حکومت کی ہٹ دھرمی!

برما جیسے تیسری دنیاکے غریب ترین ملک نے بھی اقوام متحدہ کے اس فیصلے کی توثیق سے انکار کردیاہے اور کہا کہ ہماری حکومت خود ان حالات کی تحقیقات کاآغاز کرے گی۔برماکایہ انکار اس عالمی ادارے کے منہ پر ایک کھلا طمانچہ ہے۔دنیاکے بڑے بڑے طاقتورممالک تو ببانگ دہل اقوام متحدہ کے فیصلوں اور قراردادوں کو اپنے پاؤں کی ٹھوکر پر رکھتے ہیں لیکن اب تو برما جیسے ملک بھی اقوام متحدہ کو کسی خاطر میں نہیں لارہے اورجینوامیں ہونے والے فیصلوں کو جوتی کی نوک پررکھ رہے ہیں ۔برما کی حکومت نے واضع کیاہے کہ مسلمانوں کے قتل اور املاک کے نذرآتش ہونے کو سنجیدگی سے لیاجارہا ہے اور مسئلے کے مستقل حل کے بارے میں فیصلے کیے جارہے ہیں ۔یعنی دوسرے معنوں میں اقوام متحدہ کے ادارہ برائے انسانی حقوق کو ہمارے معاملات میں ٹانگ اڑانے کی ضرورت نہیں ہے اور اقوام متحدہ کواپنی اوقات میں رہنا چاہیے

مزید پڑھیں >>