• دل کو روؤں یا جگر کو میں!

    دنیا کا کون مسلمان ہے جو فلسطین اور کشمیر سے محبت نہ کرتا ہو؟ اور یہ دیکھ کر اس کا دل خون نہ ہوتا ہو…

حالیہ مضامین

  • ٹیکہ کاری:ماں کی ذمہ داری!

    بھارت میں ٹیکے نہ لگوانے کے پیچھے کئی طرح کی وجوہات سامنے آئیں ۔ شروع میں مذہبی حضرات نے ٹیکہ کاری کو شک و شبہ کی نظر سے دیکھا۔ انہوں نے عام لوگوں کے اس مہم سے جڑنے کی مخالفت کی۔ کئی ایسی باتیں بھی کہی گئیں جن کا ٹیکوں سے دور کا بھی واسطہ نہیں تھا۔ جیسے پولیو کی دوا کے بارے میں کہا گیا کہ یہ آبادی کو کنٹرول کرنے کیلئے پلائی جانے والی دوا ہے۔ یا بچوں کو اس دوا سے بانجھ بنانے کی کوشش کی جارہی ہے وغیرہ۔ دھیرے دھیرے یہ غلط فہمیاں دور ہوئی ہیں اور مذہبی لوگ ٹیکہ کاری کی اہمیت سے واقفیت ہوئے ہیں ۔ اس کے علاوہ کچھ لوگوں نے ٹیکوں کے بارے میں کہا کہ ہم اس کی ضرورت محسوس نہیں کرتے۔ کچھ نے اس سے لاعلمی ظاہر کی۔ کچھ نے کہا ہمیں نہیں معلوم کہ کب کونسا ٹیکہ لگتا ہے۔ کچھ نے کہا کہ ٹیکے لگانے کا وقت مناسب نہیں ہے۔ کئی کا کہنا تھا کہ ٹیکے لگوانے کیلئے ہمارے پاس وقت نہیں ہے۔ کچھ نے ٹیکہ لگنے سے بچے کے بیمار ہونے کا ڈر ظاہر کیا تو کسی نے غلط صلاح کا سہارا لیا۔ کچھ نے کہا کہ ہم ٹیکوں کی قیمت ادا نہیں کرسکتے۔ جبکہ سرکار کی جانب سے ٹیکے مفت میں فراہم کئے جاتے ہیں ۔

    مزید پڑھیں >>
  • اسلام کا تصور نکاح اور موجودہ شادیوں کی محفلیں!

  • اختلافات کی صورت میں غیر شرعی اقدام سے گریز کرنے کا مشورہ!

  • جھوٹ پر لاٹھا لاٹھي اور میڈیا کا طرز عمل!

  • کیا ملک میں جی ایم سرسوں کی پیداوار ہونی چاہئے؟

  • ٹیکہ کاری:ماں کی ذمہ داری!

    بھارت میں ٹیکے نہ لگوانے کے پیچھے کئی طرح کی وجوہات سامنے آئیں ۔ شروع میں مذہبی حضرات نے ٹیکہ کاری کو شک و شبہ کی نظر سے دیکھا۔ انہوں نے عام لوگوں کے اس مہم سے جڑنے کی مخالفت کی۔ کئی ایسی باتیں بھی کہی گئیں جن کا ٹیکوں سے دور کا بھی واسطہ نہیں تھا۔ جیسے پولیو کی دوا کے بارے میں کہا گیا کہ یہ آبادی کو کنٹرول کرنے کیلئے پلائی جانے والی دوا ہے۔ یا بچوں کو اس دوا سے بانجھ بنانے کی کوشش کی جارہی ہے وغیرہ۔ دھیرے دھیرے یہ غلط فہمیاں دور ہوئی ہیں اور مذہبی لوگ ٹیکہ کاری کی اہمیت سے واقفیت ہوئے ہیں ۔ اس کے علاوہ کچھ لوگوں نے ٹیکوں کے بارے میں کہا کہ ہم اس کی ضرورت محسوس نہیں کرتے۔ کچھ نے اس سے لاعلمی ظاہر کی۔ کچھ نے کہا ہمیں نہیں معلوم کہ کب کونسا ٹیکہ لگتا ہے۔ کچھ نے کہا کہ ٹیکے لگانے کا وقت مناسب نہیں ہے۔ کئی کا کہنا تھا کہ ٹیکے لگوانے کیلئے ہمارے پاس وقت نہیں ہے۔ کچھ نے ٹیکہ لگنے سے بچے کے بیمار ہونے کا ڈر ظاہر کیا تو کسی نے غلط صلاح کا سہارا لیا۔ کچھ نے کہا کہ ہم ٹیکوں کی قیمت ادا نہیں کرسکتے۔ جبکہ سرکار کی جانب سے ٹیکے مفت میں فراہم کئے جاتے ہیں ۔

    مزید پڑھیں >>
  • نئی قومی صحت پالیسی اور عوام

  • نیند

  • صحت کے حوالہ سے بیداری لانے کے لئے میڈیا ورک شاپ

  • صحت اور اسلامی تعلیمات

  • ٹیکہ کاری:ماں کی ذمہ داری!

    بھارت میں ٹیکے نہ لگوانے کے پیچھے کئی طرح کی وجوہات سامنے آئیں ۔ شروع میں مذہبی حضرات نے ٹیکہ کاری کو شک و شبہ کی نظر سے دیکھا۔ انہوں نے عام لوگوں کے اس مہم سے جڑنے کی مخالفت کی۔ کئی ایسی باتیں بھی کہی گئیں جن کا ٹیکوں سے دور کا بھی واسطہ نہیں تھا۔ جیسے پولیو کی دوا کے بارے میں کہا گیا کہ یہ آبادی کو کنٹرول کرنے کیلئے پلائی جانے والی دوا ہے۔ یا بچوں کو اس دوا سے بانجھ بنانے کی کوشش کی جارہی ہے وغیرہ۔ دھیرے دھیرے یہ غلط فہمیاں دور ہوئی ہیں اور مذہبی لوگ ٹیکہ کاری کی اہمیت سے واقفیت ہوئے ہیں ۔ اس کے علاوہ کچھ لوگوں نے ٹیکوں کے بارے میں کہا کہ ہم اس کی ضرورت محسوس نہیں کرتے۔ کچھ نے اس سے لاعلمی ظاہر کی۔ کچھ نے کہا ہمیں نہیں معلوم کہ کب کونسا ٹیکہ لگتا ہے۔ کچھ نے کہا کہ ٹیکے لگانے کا وقت مناسب نہیں ہے۔ کئی کا کہنا تھا کہ ٹیکے لگوانے کیلئے ہمارے پاس وقت نہیں ہے۔ کچھ نے ٹیکہ لگنے سے بچے کے بیمار ہونے کا ڈر ظاہر کیا تو کسی نے غلط صلاح کا سہارا لیا۔ کچھ نے کہا کہ ہم ٹیکوں کی قیمت ادا نہیں کرسکتے۔ جبکہ سرکار کی جانب سے ٹیکے مفت میں فراہم کئے جاتے ہیں ۔

    مزید پڑھیں >>
  • کرپشن ماتم کرنے سے ختم نہیں ہوگا!

  • اسلام کا تصور نکاح اور موجودہ شادیوں کی محفلیں!

  •  فرض اور پیشے کا یہ عجیب رشتہ!

  • اختلافات کی صورت میں غیر شرعی اقدام سے گریز کرنے کا مشورہ!