حالیہ مضامین

  • نعروں سے قربانی کا حساب نہیں ہوتا!

    چھتیس گڑھ کے وزیر اعلی رمن سنگھ نے کہا ہے کہ سکما کی لڑائی ملک کی سب سے بڑی جنگ ہے. وقت آ گیا ہے کہ ایک حکمت عملی کے ساتھ آگے بڑھا جائے. کیا ایک حکمت عملی کے ساتھ آگے بڑھنے کا وقت 25 جوانوں کی موت اور 7 کے زخمی ہونے کے بعد ہی آیا ہے، اگر سکما کی لڑائی ملک کی سب سے بڑی جنگ ہے تو اس کا وقت کیا 25 اپریل کو آیا ہے. اس طرح کی باتوں کا کیا یہ مطلب ہے کہ ملک کی سب سے بڑی جنگ ہم بغیر حکمت عملی کے خلاف لڑ رہے ہیں .کہنا آسان ہے، جن کے گھر میں قربانی کی خبر پہنچتی ہے ان پر جو گزرتی ہے اسے ہم لچھے دار الفاظ سے کیا بیان کریں . ہم چاہتے ہیں کہ آپ آواز سنیں ، محسوس کریں کہ جنہیں ہم صرف شہادت کے فریم میں دیکھتے ہیں ، ان کے گھر میں شوہر، بھائی، والد، بھتیجا نہ جانے کس کس فریم میں دیکھا جاتا ہوگا.

    مزید پڑھیں >>
  • کیا دہلی کے دماغ میں کشمیر ہے؟

  • دیتے ہیں دھوکہ یہ بازیگر کھلا!

  • خیرجلیس فی الزمان کتاب

  • زمین: ایک امانت

  • ’پروفیسر صغیر افراہیم کا تنقیدی شعور‘ کا علی گڑھ میں اجراء

    تحقیقی مقالہ’’ پروفیسر صغیر افراہیم کا تنقیدی شعور‘‘ اور ’’سہ ماہی تحریک ِ ادب (خصوصی نمبر) ‘‘ کا پر وقار تقریب ِ رسم اجراء حرف زار لٹریری سوسائٹی ، دیارِ ادب انڈیا، علامہّ قیصر اکادمی علی گڑھ ، بزمِ نویدسخن علی گڑھ ، گلشن ادب علی گڑھ، کے زیر اہتمام بہ اشتراک غالب اسٹڈی سینٹر، ابن سینا اکادمی دودھ پور، علی گڑھ میں 13؍ اپریل کو انعقاد کیا گیا تھا ۔رسم اجراء بدستِ مبارک جناب عارف نقوی صاحب صدر اردو انجمن، برلن (جرمنی)، اجراء کی صدارت جناب مظفر حسین سید صاحب، مہمانِ خصوصی پروفیسر ڈاکٹر صغیر افراہیم صاحب ، مہمان اعزازی ڈاکٹر وکرم سنگھ صاحب ، پرووائس چانسلر سید احمد علی،پروفیسر سید محمد ہاشم، پروفیسر طارق چھتاری،پروفیسر محمد زاہد ، پروفیسر مولا بخش ،پروفیسر شکیل صمدانی ، موجود تھے۔

    مزید پڑھیں >>
  • مجھے لگ رہا تھا کہ شادی خوشی ہے

  • چشمِ خرد پہ وا ابھی حیرت کا در نہیں

  • یہ آخری کارواں نہیں ہے

  • جشنِ معراج النبی