حالیہ مضامین

  • اُمتِ مسلمہ: زوال سے عروج کی جانب

    اُمتِ مسلمہ کے اہلِ فکر و نظر ہمیشہ اُمت کو خود احتسابی کی  طرف متوجہ کرتے رہے ہیں ۔ اپنی تاریخ کے دوران جب بھی اُمت زوال سے دوچار ہوتی نظر آئی ہے، اہلِ علم نے زوال کے اسباب جاننے کی کوشش کی ہے اور اُمت کی دوبارہ عروج کی طرف پیش رفت کی راہیں تلاش کی ہیں ۔ غوروفکر کا یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے اور اہلِ علم کی جانب سے اس موضوع پر تجزیے اور تحقیق پر مبنی اظہارِ خیال سامنے آتا رہتا ہے۔ زوال کی علامتیں مسلمانوں کی آپس کی گفتگو میں عموماً زیرِ بحث آتی ہیں مثلاً مسلمانوں کی دینی فرائض سے غفلت، اخلاقی پستی، تفرقہ اور انتشار، ایک دوسرے کی حق تلفی، باہم کشت و خون، بے سمتی اور مایوسی، بے حوصلگی اور کم ہمتی، احساسِ ذمہ داری کا فقدان، ضروریاتِ زندگی کے لیے دوسروں پر انحصار، کاہلی اور جمود، علمی و تحقیقی کاوشوں سے بے اعتنائی، اسراف اور فضول خرچی، ذہنی مرعوبیت، سیاسی آزادی سے محرومی اور مقصد زندگی سے لاتعلقی۔ زوال کی اس کیفیت کو عروج سے بدلنے کے لیے زوال کی وجوہات کو جاننا ضروری ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ ان وجوہات پر قابو پاکر، امت کو دوبارہ عروج کی جانب گامزن کیا جاسکتا ہے، اور جو کچھ کھویا گیا ہے اس کی تلافی کی جاسکتی ہے۔

    مزید پڑھیں >>
  •  طلاق ثلاثہ کا حل عدالت عالیہ نہیں شرعی پنچایت ہے!

  • لال قلعہ سے وزیر اعظم کی چوتھی تقریر

  • جشن  آزادی: جب حقیقت یہ بن نہیں سکتے، میری آنکھوں سے خواب لے جاؤ

  • لو ! آپ اپنے دام میں صیّاد آگیا

  • اُمتِ مسلمہ: زوال سے عروج کی جانب

    اُمتِ مسلمہ کے اہلِ فکر و نظر ہمیشہ اُمت کو خود احتسابی کی  طرف متوجہ کرتے رہے ہیں ۔ اپنی تاریخ کے دوران جب بھی اُمت زوال سے دوچار ہوتی نظر آئی ہے، اہلِ علم نے زوال کے اسباب جاننے کی کوشش کی ہے اور اُمت کی دوبارہ عروج کی طرف پیش رفت کی راہیں تلاش کی ہیں ۔ غوروفکر کا یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے اور اہلِ علم کی جانب سے اس موضوع پر تجزیے اور تحقیق پر مبنی اظہارِ خیال سامنے آتا رہتا ہے۔ زوال کی علامتیں مسلمانوں کی آپس کی گفتگو میں عموماً زیرِ بحث آتی ہیں مثلاً مسلمانوں کی دینی فرائض سے غفلت، اخلاقی پستی، تفرقہ اور انتشار، ایک دوسرے کی حق تلفی، باہم کشت و خون، بے سمتی اور مایوسی، بے حوصلگی اور کم ہمتی، احساسِ ذمہ داری کا فقدان، ضروریاتِ زندگی کے لیے دوسروں پر انحصار، کاہلی اور جمود، علمی و تحقیقی کاوشوں سے بے اعتنائی، اسراف اور فضول خرچی، ذہنی مرعوبیت، سیاسی آزادی سے محرومی اور مقصد زندگی سے لاتعلقی۔ زوال کی اس کیفیت کو عروج سے بدلنے کے لیے زوال کی وجوہات کو جاننا ضروری ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ ان وجوہات پر قابو پاکر، امت کو دوبارہ عروج کی جانب گامزن کیا جاسکتا ہے، اور جو کچھ کھویا گیا ہے اس کی تلافی کی جاسکتی ہے۔

    مزید پڑھیں >>
  •  طلاق ثلاثہ کا حل عدالت عالیہ نہیں شرعی پنچایت ہے!

  • کچھ نظر انداز تو کچھ پر خصوصی توجہ کی ضرورت ہے!

  • جنگ آزادی میں مسلمانوں اور مدارس کی قربانیوں کا صلہ!

  • لال قلعہ سے وزیر اعظم کی چوتھی تقریر