ادب

’پروفیسر صغیر افراہیم کا تنقیدی شعور‘ کا علی گڑھ میں اجراء

تحقیقی مقالہ’’ پروفیسر صغیر افراہیم کا تنقیدی شعور‘‘ اور ’’سہ ماہی تحریک ِ ادب (خصوصی نمبر) ‘‘ کا پر وقار تقریب ِ رسم اجراء حرف زار لٹریری سوسائٹی ، دیارِ ادب انڈیا، علامہّ قیصر اکادمی علی گڑھ ، بزمِ نویدسخن علی گڑھ ، گلشن ادب علی گڑھ، کے زیر اہتمام بہ اشتراک غالب اسٹڈی سینٹر، ابن سینا اکادمی دودھ پور، علی گڑھ میں 13؍ اپریل کو انعقاد کیا گیا تھا ۔رسم اجراء بدستِ مبارک جناب عارف نقوی صاحب صدر اردو انجمن، برلن (جرمنی)، اجراء کی صدارت جناب مظفر حسین سید صاحب، مہمانِ خصوصی پروفیسر ڈاکٹر صغیر افراہیم صاحب ، مہمان اعزازی ڈاکٹر وکرم سنگھ صاحب ، پرووائس چانسلر سید احمد علی،پروفیسر سید محمد ہاشم، پروفیسر طارق چھتاری،پروفیسر محمد زاہد ، پروفیسر مولا بخش ،پروفیسر شکیل صمدانی ، موجود تھے۔

مزید پڑھیں >>

یہ آخری کارواں نہیں ہے

ایک وقت اے گا جب ہماری نسل سے بیشتر نام نہیں ہونگے .کیونکہ موت ایک حقیقت ہے .لیکن لکھنے والوں کا کارواں موجود ہوگا .فیس بک ایک بڑی حقیقت ہے . فیس بک پر اچھے رسائل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے .سبین علی اور نقاط کے مدیر نے اچھی روایت شروع کی ہے .اس سلسلے میں اہم نام ابرار مجیب کا بھی ہے .ابرار کو بھی سخت رویہ اپنانا ہوگا .تنازعات کا سلسلہ چلتا رہیگا ..لیکن اب ان نیے ناموں پر سنجیدگی سے گفتگو کرنے کا وقت آ چکا ہے ..

مزید پڑھیں >>

رنج خادم کو بہت ہے مگر آرام کے ساتھ!

اردو کے نام پر بہت سارے کاروبار ہیں ۔ کچھ چل رہے ہیں اور کچھ چلانے کے لیے تیار ہو رہے ہیں ۔ جمہوری نظام اور صارفی عہدمیں تنخواہ دار ملازمین ہی سب کچھ کریں گے۔ اسی لیے صدرِ مملکت اور وزیرِ اعظم کو بھی تنخواہیں میسّر ہیں اور اسکول کے استاد یا ایک اخبار کے کارکْن صحافی کو بھی حسب ِ ضابطہ تنخواہیں ملتی ہیں ۔ سب کے فرائض طے ہیں اور انھیں کام کرنے ہوتے ہیں ۔آج کے زمانے میں ’ خدمت‘ کا لفظ کتابوں یا تقریروں میں ہی اچھا معلوم ہوتا ہے۔

مزید پڑھیں >>