ادب

ایک شام، ڈاکٹرمحمد ریاض اور ڈاکٹر احمد علی برقیؔ اعظمی کے نام!

معروف شاعر ڈاکٹر احمد علی برقی اعظمی سے منسوب دوسری محفل کے آغاز میں کے ایم سی شعبہ اردو سے وابستہ ڈاکٹر امتیاز وحید نے ڈاکٹر احمد علی برقی اعظمی کا تفصیلی تعارف کراتے ہوئے، ان کی شاعری، فکرو فن بالخصوص ان کی موضوعاتی غزل گوئی پرخصوصی گفتگو کی جس سے ان کی شاعری، فکر، فن، ملاحظات اور تجربات کا مکمل احاطہ کیا۔

مزید پڑھیں >>

اردو کے فوجی کم اور سپہ سالار زیادہ: خدا محفوظ رکھے اس زباں کو

بے شک اردو کا ہر طالب علم اگر خود کو استاد اور سپہ سالار اور بادشاہ سلامت سمجھ رہا ہے تو اس میں وہ کس کا حق مار رہا ہے کہ جبینوں پر شکنیں پیدا ہورہی ہیں ۔ اچھا تو یہ ہے کہ سب پیادوں کو ہمارے اساتذۂ کرام ایسی تربیت دیں کہ وہ فوجی تو ہوں ہی، فوج کی قیادت کرنے کی صلاحیت بھی پیدا ہوجائے اور جب ان کی مقدر کی تختی پر بادشاہت کا تمغہ آویزاں ہونے کی نوبت آئے تو وہ اسے بھی کامیابی کے ساتھ نبھاسکتے ہوں ۔ اب نئی قیادت کا وقت آیا چاہتا ہے۔

مزید پڑھیں >>

شعبہ عربی و فارسی الہ آباد یونیورسٹی میں دوروزہ بین الاقوامی سیمینار کاشاندار انعقاد

اس میں سیمینار میں پڑھے جانے والے مقالات پر تمام شرکاء کے ساتھ گفتگو ہوئی۔ مندوبین نے اپنی رائے پیش کیں ساتھ ہی طلباء کے سوالوں پر غور کیا گیا۔ کو پیش کیا۔ اس جلسہ میں ڈاکٹر اسلم جمشید پوری ،ڈاکٹر مہتاب جہان اور صبا ابصار کے مقالوں پر ان کی مختلف نوعیت کا ہونے کے سبب پسندیدگی کا اظہار کیا گیا۔ مختلف ممالک کے سفر نامہ نویسوں کے حوالے سے دلچسپ باتیں نکل کر آئیں جن میں ہوین سانگ کا بھی ذکر کیا گیا ۔

مزید پڑھیں >>

شاعر، ادیب، ناقد، محقق ،معلم: پروفیسر نازؔ قادری

نازقادری کو ان کی کتابوں پر بہار ، اترپردیش اور مغربی بنگال اردو اکادمیوں نے انعامات دیے ہیں ۔ انہیں آل انڈیا میر اکادمی لکھنؤ کے امتیاز میر ایوارڈ (1993)، آئی آئی ایف ایس نئی دہلی کے وجے شری ایوارڈ ( 2006) آئی آئی ایف ایس کے شکشا رتن ایوارڈ (2008)یو نی ورسٹی گرانٹس کمیشن کے ایوارڈ آف امیرٹس فیلو شپ (2010)، بہار اردو اکادمی کے وقاری حسن عسکری ایوارڈ (2013)سے سرفراز کیا جا چکا ہے۔

مزید پڑھیں >>

اپنے شعر خود شکار کرنے والے کو محبت کا خراج

صرف لکھنؤ ہی نہیں  اردو دنیا  ’اچھے انسانوں ‘اور ’اچھے انسان شاعروں‘ سے خالی ہوتی جارہی ہے۔ انور ندیم ملیح آبادی ،ملک زادہ منظور اور انجم عرفانی کے بعدآج (18 ستمبر  2017 کی صبح ) تشنہ عالمی بھی چلے گئے ۔جانا تو ہم سب کو ہے بس اتنا ہے کہ آج وہ کل ہماری باری ہے! البتہ افسوس اس کا ہے کہ ہم علی گڑھ میں قیام  اور لکھنؤ سے دوری کے سبب اِن دوستوں سے  اُن کے اِس دار ِفانی کو داغ ِمفارقت دینے سے قبل ملاقات نہیں کر سکے۔

مزید پڑھیں >>

17 ستمبر: یومِ تکریم ِزوجہ

بیگم بگڑ گئیں۔  آپ نے میرے پکوان کو بدمزہ کہا  میں اسے برداشت نہیں کرسکتی۔  یہ بنت حوا کی توہین ہے۔  میں اس ظلم کے خلاف احتجاج کروں گی  اور روتے ہوئے باورچی خانے کی جانب لپکیں۔  کلیم صاحب نے اندازہ لگا لیا کہ اب کیا ہونے والا ہے۔  وہ فوراً پلنگ کے نیچے دبک گئے۔ بیلن کے ساتھ بیگم نے واپس آکر دیکھا تو شوہر نامدار غائب تھے۔ انہیں یقین تھا کہ لنگی اور بنیان میں تو وہ ملک الموت کے ساتھ بھی نہیں جائیں گے اس لیے آواز لگائی۔ کیوں ؟ کہاں ؟؟ چھپے بیٹھے ہیں  باہر نکلو؟؟؟ کم ازکم میری عینک ہی دے دو تاکہ میں  بتی جلا کر آپ کو  تلاش کرسکوں۔

مزید پڑھیں >>