ادب

ہوا کے غبارے

گر ہم تاریخ انسانی کا بغور مشاہدہ کر یں تو یہ اٹل حقیقت سامنے آتی ہے کہ انسان کا ویری اصل میں انسان ہی رہا ہے اِس میں کو ئی شک نہیں کہ مو سمی طو فان بستیاں اُجا ڑگکئے سیلا بی مو جوں نے آبا دیوں کو صفحہ ہستی سے مٹا دیا زلزلے شہروں کو کھنڈرات میں بدل گئے وبائیں زندگیاں چاٹ گئیں وحشی درندوں نے انسانوں کا قیمہ بنا دیا لیکن انسان نے اپنا تسلط دوسروں پرقائم کر نے کے لیے بے شمار جنگیں لڑیں ہیں

مزید پڑھیں >>

گھر گھر کی نانی

قاضیین نانی تھیں تو غریب عورت لیکن وہ بہت صاف گو تھیں جب کبھی انہیں کسی سے تکلیف ہوتی تو وہ اسکے منہ پر ہی دے مارتی کبھی بھی وہ کسی سے ڈرتی اور نہ ہی کسی سے متاثر ہوتی تھیں لیکن کسی کے پیٹھ پیچھے شکایت اورغیبت کرنا انہیں بالکل پسند نہ تھاوہ اس مجلس میں کبھی نہ بیٹھی جہاں شکایت و غیبت کا بازار گرم ہوتا اسی بنا پر بہت سارے لوگ ان کی عزت کرتے تھے اور کچھ نفرت بھی۔

مزید پڑھیں >>

عالمی یوم مادری زبان اورحاشیہ پر پڑی زبان اردو

اردو والوں کا اس سے بڑا المیہ اور کیا ہو سکتا ہے کہ آزادی حاصل ہوئے کتنی دہائیاں گزر گئیں ، لیکن اب تک قومی سطح پر’ یوم اردو ‘ منانے کی کوئی ایک تاریخ طیٔ نہیں ہو سکی ہے، نہ ہی یونیسکو کے ذریعہ ہر سال 21 فروری کو عالمی سطح پر مادری زبان کی اہمیت اور افادیت کے پیش نظر اس کے تحفظ اور اس کی بقا کے لئے دی جانے والی دستک کا ہی کوئی رد عمل ہورہا ہے۔

مزید پڑھیں >>

ادبستان کی افسانوی نشست کا انعقاد

مہمان خصوصی مشہور سوشل ورکر جمال ارپن نے بھی تمام تخلیق کاروں کو مبارک باد دی اور انھیں ہر قسم کے تعاون کا یقین دلایا۔ انھوں نے کہا کہ یہ ایکک اچھے کام کی ابتداء ہوئی ہے اس لیے آپ لوگ کوشش کریں ہمارے شہر میں نہ ذہانت کی کمی ہے اور نہ محنت کشی۔ آپ نے ارادہ باندھ لیا ہے تو منزل خود آپ کے قدم چومے گی۔

مزید پڑھیں >>

  کش مکش 

میں اسکے بارے میں کچھ بھی نہیں جانتا کہ وہ کون ہے؟ اور کہاں رہتی ہے اور نہ ہی کبھی جاننے کی کوشش کی۔ بہر حال میں اتنا ضرور جانتا ہوں کہ وہ ایک شریف لڑکی ہے اور کشور کو دل و جان سے پیار کرتی ہے۔

مزید پڑھیں >>

شہر قبرستان

دولت کے ڈھیر لگا نے سے تھو ڑا وقت نکال کر کبھی کبھی قبرستان جا کر دیکھ لیا کر یں اِن بو سیدہ قبروں میں جو ہڈیوں میں تبدیل ہو چکے ہیں یہ بھی اپنے زما نے کے بہت اہم اور ضروری لو گ تھے اپنے زما نے میں ان کو بھی ضر وری اور اہم کے مر ض نے حقیقی بصیرت سے محروم رکھا تھاورنہ آج کا انسان ما دیت پرستی میں غرق جا نور کا روپ نہ دھا ر چکا ہو تا بلکہ اپنی حقیقت سے آشنا ہو چکا ہو تا ۔

مزید پڑھیں >>