ہندوستان

مسلمانوں کے عائلی مسائل: چند عملی تجاویز!

پرسنل لا کے نفاذ اور عائلی تعلیمات پر عمل آوری کے لیے تعلقات استوار کرنے اور روابط برقرارر کھنے کے ساتھ ساتھ چند عملی کام بھی ضروری ہیں ،یہ کام داخلی سطح پر ہونے چاہیے۔سب سے پہلا اور انتہائی ضروری کام کانسلنگ سینٹرس کا قیام ہے۔

مزید پڑھیں >>

ای وے ایم کا مسئلہ حل کرنے پر توجہ کیوں نہیں دی جاتی؟

جمہوریت کا جنازہ نکل گیااور ہندستانی جمہوریت خطرے میں ہے ، جیسے جملے تو خاصے عرصے سے اخباروں وغیرہ کی زینت بنتے رہے ہیں اور بہت سے درد مند دل رکھنے والے مفکروں نے بھی سماج و سیاست کے مطالعے و مشاہدے کے بعد پورے وثوق کے ساتھ اس کے اشارے دیے ہیں ،اب سوال یہ ہے کہ اگر واقعی دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت خطرے میں ہے تو سیکولر افراد کیا کر رہے ہیں ؟ یعنی اس خطرے کو دور کرنے کے لیے کیا لائحۂ عمل طے کیا گیا ہے ؟ ایسا تو نہیں کہ اس خطرے کو نشان سے اوپر نکل جانے کا انتظار کیا جا رہا ہے ؟ایسے بہت سے سوالات ہیں جو لاکھوں کروڑوں ہندستانیوں کے ذہن و دماغ میں گردش کرتے رہتے ہیں اور جن کا جواب اُنھیں نہیں ملتا۔

مزید پڑھیں >>

یوگی جی!آپ کابے حدشکریہ

یہ با ت مسلم کہ مسلمانو ں کے ساتھ ناانصافی ہورہی ہے اورحکومت نے مسلمانوں کوذہنی طور پر پریشان کرنے کاایک اورحربہ اپنایاہے مگراب ہمیں بھی طے کرلیناچاہیے کہ ہم کسی کے پریشان کرنے اورسازش کرنے والوں کی چال میں پھنسنے والے نہیں ۔ہم عیدمیلادالنبی جیسے مناتے آ رہے تھے ویسے ہی مناتے رہیں گے ۔

مزید پڑھیں >>

پنجاب میں گندم کی خریداری اور متعلقہ افسران کی لوٹ مار

ان دنوں پنجاب میں گندم کا سیزن عروج پر ہے، کٹائی کے بعد خریداری کا عمل شروع ہوچکا ہے۔ اس سال حکومت نے گندم خریداری کا ہدف 40 لاکھ ٹن مقرر کیا ہے۔ گذشتہ روز وزیر اعلی کے کوارڈینیٹر رانا مبشر اقبال نے کہا کہ کاشتکاروں سے گندم کا ایک ایک دانہ خریدیں گے، گندم کی خریداری مہم میں کاشتکاروں کو ہر ممکن سہولت کو یقینی بنایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ خریداری مہم میں کسی بددیانتی کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے اور حکومت پنجاب کی اس ضمن میں زیرو ٹالرینس پالیسی ہے۔

مزید پڑھیں >>

مودی کے منہ سے ’’تین طلاق‘‘ کی باتیں!

کون نہیں جانتا ہے کہ ہمارے ملک کے پردھان منتری نریندر مودی اپنی بیوی کو سات روزمشکل سے اپنے گھر میں رکھ سکے۔ جب سے وہ گھر سے باہر کی گئی مودی جی نے نہ اس کو پلٹ کر دیکھا اور نہ ہی کسی سے اس کا حال چال معلوم کیا۔ جب وہ بیچاری غم کی ماری نے مودی جی کے وزیر اعظم ہونے پر خوشیوں کا چراغ جلایا اور برسوں بعد اس کی آرزوؤں کا پھول کھلا کہ اس کے شوہر نامدار اسے صدارتی محل میں حلف وفاداری کے موقع پر تقریب میں شرکت کی دعوت دیں گے تو پردھان منتری نے گھر سے نکالی ہوئی بیوی کو یہ کہہ کر مایوس کر دیا کہ ’’یہ منہ اور مسور کی دال‘‘۔

مزید پڑھیں >>

ہم بے چارے مسلمان! 

کانگریس نے ایک بار پھر اپنی ناکامی کا ٹھیکرہ مسلمانوں کے سر پھوڑ نے کی کوشش کی ہے۔ اس سے پہلے لوک سبھا انتخابات میں شرمناک ہار کا سبب بھی اس نے مسلمانوں کو ہی قرار دیا تھا ،لیکن اس وقت ڈائریکٹ مسلمانوں کا نام نہ لیتے ہوئے ’اقلیتوں ‘ کہنے پر ؎ہی اکتفا کیا تھا کہ ’ کانگریس کو اس کی اقلیت نوازی لے ڈوبی ‘ ۔

مزید پڑھیں >>

کفر ٹوٹا خدا خدا کرکے!

اجستھان کی ریاست الور میں یکم اپریل کو یعنی تقریباً ایک مہینہ پہلے ایک شرمناک واقعہ پیش آیا تھا کہ جے پور کے مویشی میلے سے دودھ دینے والی گائیں خریدکر چند مسلمان ہریانہ لئے جارہے تھے الور میں ان کی گاڑی کو روک کر غنڈوں کی ایک بھیڑ نے ان مسلمانوں کو اتارا اور الزام لگایا کہ وہ گایوں کو اسمگل کرکے لئے جارہے ہیں ۔

مزید پڑھیں >>

ملک کی سلامتی خورش وپوشش کی یکسانیت میں ہرگزنہیں!

ملک اورجمہوریت کی سلامتی اسی میں ہے کہ ہرمذہب والے کواس کے مذہب کے مطابق جینے دیاجائے، کسی کی ’’خواہش‘‘ کی خاطر کسی کی ’’خواہش‘‘ کاخون کرناہرگز درست نہیں ، نہ اس کی کوشش کی جائے اورناہی اس کوہوادی جائے؛ البتہ لوگوں کی سوچ کوبدلنے کی ضرورت ہے اوریہ بتانے کی ضرورت ہے کہ جب ایک باپ کے دوبچوں کی خواہشیں الگ ہوتی ہیں اورباپ ہرایک کی خواہش پوری کرتاہے توپھرملک کے تمام بسنے والی قوموں کی خواہشیں کیوں کر پوری نہیں کی جاسکتیں ؟

مزید پڑھیں >>

رزرویشن کا مسئلہ

ابھی چند دنوں پہلے اخبار میں سپریم کورٹ کا ایک فیصلہ رزرویشن پر نظر سے گزرا۔جسٹس آر بھانو متی اور جسٹس اے ایم کھانولکر کی بنچ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ رزرویشن زمرے کے امیدوار کو اسی زمرے میں نوکری ملے گی چاہے اس نے جنرل زمرے کے امیدوار سے کتنے ہی زائد نمبر حاصل کئے ہوں ۔مذکورہ بنچ نے مزید کہا ہے کہ ایک بار زرو کوٹے میں درخواست دے کراس میں چھوٹ اور دیگر رعایتیں لینے کے بعد امیدوار رزرو کوٹے کے لئے ہی نوکری کا مستحق ہوگا۔اسے جنرل زمرے میں ایڈجسٹ نہیں کیا جا سکتا۔

مزید پڑھیں >>

بی جے پی اور مسلم رائے دہندگان

عام طور پریہ مانا جاتاہے کہ مسلمان بھاجپا کو ووٹ نہیں دیتے(یہ تاثرسچائی کے خلاف ہے)۔ اس سوچ کی وجہ بی جے پی کا رویہ، اس کا عمل، پولرائزیشن کی سیاست اور مسلمانوں کا رد عمل ہے۔ جس کے نتیجہ میں مسلمانوں کے بھاجپا کو ووٹ نہ دینے کا بھرم پیدا ہوتا ہے۔ سچائی یہ ہے کہ آزاد بھارت کے مسلمانوں نے نہ تو آل انڈیا کوئی سیاسی پارٹی بنائی نہ ہی کسی کو اپنا لیڈرمانا۔ کچھ لوگوں نے پارٹیاں بنائیں بھی لیکن مسلمانوں نے انہیں قبول نہیں کیا۔ اس کے برخلاف انہوں نے’ ہندوؤں ‘ پر بھروسہ کیا اوران کو اپنا لیڈر بی مانا۔ اس سلسلہ میں نہرو،لوہیا، اندرا، جے پرکاش نارائن، وی پی سنگھ، اٹل بہاری واجپئی، چندر شیکھر، ایم جی آر، این ٹی آر، دیو گوڑا، شردپوار، لالو، نتیش اور ملائم سنگھ وغیرہ کا نام لیا جاسکتا ہے۔ مسلمان ’ہندوؤں ‘ کے ذریعہ بنائی گئی صوبائی وقومی پارٹیوں میں ساتھ رہے اوراب بھی ہیں ۔ یہاں تک کہ جن سنگھ میں بھی مسلمان شامل رہے۔

مزید پڑھیں >>