تقابل ادیان

بدھ ازم کا زوال!

آج برما لبرل ریاست ہے اور اس کو دین و مذہب سے کوئی سروکار نہیں لیکن اگر یہ ملک بدھ ازم کی ریاست بن گیا تو تم اس ملک میں غیر محفوظ ہوجائو گے تمہارا کاروبار اور مان و دولت اور عزت و عصمت سب کچھ چھن جائے گا اور اس وقت آپ کی مدد کرنے کو کوئی تیار نہ ہوگا

مزید پڑھیں >>

ہندومت ایک مطالعہ (آخری قسط)

  آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم ہندوستان میں رہنے والے ہر ہندی تک اسلام کی پاکیزہ تعلیمات اور اس کے محکم اصولوں کو بحسن و خوبی پہو نچائیں اور آج انہیں یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ ان دین عند اللہ الاسلام(آل عمران۔19۔پارہ 3) کہ اللہ کے نزدیک اگر کوئی دین ہے تو وہ اسلام ہے اسی پر عمل پیرا ہوکر اور اس کی تعلیمات کو دل و جاں سے لگا کر ہی نجات کا حصول ممکن ہو سکتا ہے ۔

مزید پڑھیں >>

ہندومت ایک مطالعہ (قسط چہارم)

ہندو مت کی کتابوں میں اس کا سبب یہ بیا ن کیا گیا ہے کہ روح کا انسانی جسم سے باہر نکلنے کے بعدچونکہ اس کے دوسرے انسانوں سے تعلقات کی بنیاد پر بہت سارے مطالبات اور معاملات باقی رہ جاتے ہیں جن کی ادائیگی کے لئے اور اپنے اعمال کے ثمرات کو پانے کی خاطر روح نئے روپ اور نئے قالب میں ظہور پذیر ہوتا ہے ۔

مزید پڑھیں >>

ہندومت ایک مطالعہ (قسط سوم)

رفتہ رفتہ جب ہندو مت میں نئی نئی چیزیں درآئیں اور ذات پات کا نظام اس حد تک بڑھ گیا کہ شودروں کے ساتھ جانوروں جیسا سلوک کیا جانے لگا اور مذہبی عبادات اس حد تک پیچیدگی کا شکار ہو گئے کہ غریب کے لئے ان تمام پوجا پاٹ اور یگیہ وغیرہ کو انجام دینامشکل ہو گیا تو لوگوں میں ہندومت سے بغاوت کی چنگاریاں اٹھنے لگیں اور دھیرے دھیرے لوگ برہمنوں کے خلاف اپنی زبانیں کھولنے لگے اور یہیں سے فرقہ بندی کی ابتداء ہوتی ہے۔ اس مقالہ کے اندر ہم چند اہم فرقوں اور ان کے عقائد سے بحث کریں گے۔ 

مزید پڑھیں >>

ہندومت ایک مطالعہ (قسط دوم)

ایک ابدی روح ہے جو پاک ہے اور جو بڑھاپے،موت،بھوک،پیاس اور غم سے بری ہے یہی آتمن ہے ۔انسان کے اندر روح اور اس روح کی ہر خواہش حق ہے،یہی وہ روح ہے جس کو ہر قیمت پر ہم کو پالینا چاہیئے ۔جس نے اپنی روح کو پا لیا اور اس کی معرفت حاصل کر لی اس نے تمام دنیائوں کو پا لیا ،اوراس کی تمام خواہشات پوری ہو گئیں

مزید پڑھیں >>

ہندومت ایک مطالعہ (قسط اول)

ہندوستان ایک قدیم ملک ہے اور دنیا کے جن خطوں میں پہلے پہل انسانی تہذیب و تمدن نے آنکھیں کھولی ہیں ان میں ہندوستان کو بھی شمار کیا جاتا ہے۔ آ ثار قدیمہ اور علم الانسان اور جغرافیائی تحقیقات نے اس بات کی وضاحت کی ہے کہ اب تک انسانوں کی ایسی کوئی بھی جماعت نہیں رہی ہے جو مذہب سے بالکل عاری رہی ہو ۔خود ہندوستان بھی چار بڑے مذاہب کا منبع اور سرچشمہ اور مختلف تہذیب وتمدن کی آماجگاہ رہا ہے۔

مزید پڑھیں >>

ہندو مذہب نہیں تو بحث کیسی؟

ہندو یا ہندوتو کا استعمال،بحث صرف ملک کے کم سمجھ بے پڑھے لکھے عوام کے جذبات کو بھڑکا کریاگمراہ کرکے سیاسی مفاد کے لئے کسی کے حق میں یا کسی کے خلاف ماحول بنانے کیلئے کیا جاتا رہا ہے۔ جنہیں ہندو کہہ کر ہندوتو کی دہائی دی جاتی ہے ان میں سے بہت سے لوگ قوم واد کے نظریہ سے اتفاق نہیں رکھتے۔ دین دیال اپادھیائے ہندوتو کو راشٹر واد کی بنیاد مانتے تھے، ملک نے ہمیشہ اس سوچ کو خارج کیا ورنہ ملک کی تصویر کچھ اور ہوتی۔ موہن بھاگوت نے مسلم دانشوروں کے بیچ اس بات کو مانا تھا کہ ہندو کوئی مذہب نہیں بلکہ ہماری تہذیبی پہنچان ہے۔اگر اسے کسی مذہب یا کسی خاص طبقہ سے نہ جوڑا گیا ہوتا تو شاید اپنے آپ کو ہندو کہنے میں کسی کوا عتراض نہ ہوتا۔ آئین نے بھارتیہ کہا ہے تو’ہندو‘کہنے پر اصرار کیوں ؟آزاد ملک میں اتنا حق تو ہونا ہی چاہئے کہ انسان یہ طے کرسکے کہ اسے کس نام سے جانا جائے۔ ہندی ہیں ہم وطن ہیں کیا قومی اتحاد کیلئے اتنا کافی نہیں ہے۔

مزید پڑھیں >>

اسلام اورہندو ازم کی مشترکہ اقدار

یہ ناقابل انکار حقیقت ہے کہ ہندوستان مختلف ادیان ومذاہب ،اور تہذیب وثقافت کی آماجگاہ ہے،سرزمین ہند نے سینکڑوں رشیوں،منیوں،مبلغین واعظین اورمذھبی شخصیات کو جنم دیاہے۔انھوںنے اپنی تعلیمات کے ذریعہ ہندوستان کی روحانیت اورمذہبی حیثیت کو پورے عالم میں متعارف …

مزید پڑھیں >>

انبیاء علیھم السلام کا احترام اورمکالمہ بین المذاہب

بین المذاہب مکالمہ ضرورہو لیکن برابری کی بنیادپر۔نیچے لیٹے ہوئے کمزور،لاغراور بے بس انسان کی شہ رگ پر انگلی رکھ کر اس سے مکالمے کا نتیجہ جو برآمد ہوگاوہ روزروشن کی طرح عیاں ہے۔بین الاقوامی مذہبی مکالمہ ضرورہو لیکن ان لوگوں سے جو امت کے نمائندہ ہوں ،آمروں ،ڈکٹیٹروں اور خاندانی حکمرانوں سے جنہیں اپنے اقتدار کی طوالت کے لیے سامراج کی اعانت چاہیے ان سے مکالمہ انہیں سے ہی مکالمہ ہو گا امت اس سے بری الذمہ ہوگی۔اﷲ کرے یہ مکالمہ شروع ہو ،اقوام عالم کے درمیان ہم آہنگی فروغ پائے،امن عالم اس کرہ ارض کا مقدر بنے اور محسن انسانیتﷺ کا آخری خطبہ اس بات کا ضامن بنے کہ انسانیت کا مستقبل انسان سے وابسطہ ہو۔

مزید پڑھیں >>

جاگیرداری نظام بمقابلہ شورائیت

جاگیرداری کا توڑ صرف یہ نہیں کہ اب جاگیرداروں سے ان کی جاگیریں چھین لی جائیں ،بلکہ اسلام ایک آفاقی و ابدی دین ہے جو انسانیت کی فلاح دارین کا ضامن ہے۔اس دین کی تعلیمات بتاتی ہیں ہیں کسی بھی اجتماعی نظام کو چلانے کے لیے مشاورت وہ واحدراستہ ہے جوجاگیرداری کے لیے سدراہ ہے۔کسی بھی میدان کار میں جاگیروں کا ہونا شاید اتنا برا نہیں جتنا ان جاگیروں کے مالکان کا خدا بن جانا ہے۔جب مشاورت سے اور تقوی و خوف خداسے نظام ہستی چلایاجائے گا توکسی بھی نظام سے اس کے برے اثرات ختم کیے جا سکتے ہیں ۔مشورے کانظام سب سے پہلے توجاگیردارسے اس کی رعونت چھینے گا،پھر لوگوں سے مشورے کے نتیجے میں اس میں اپنی رائے کے خلاف بات سننے کا حوصلہ جنم لے گا،اختلاف رائے کے نتیجے میں جب جمہورکی رائے پر فیصلہ ہو گا تو جاگیرداری نظام کی ماں ہی مر جائے گی۔

مزید پڑھیں >>