تاریخ اسلام

سقوط غرناطہ اور امریکہ

اس وقت دنیا بھر میں جاری امریکی جارحیت کے تانے بانے سقوط غرناطہ کی دستاویز سے ملتے ہیں۔ اگر مسلم حکمران اس تاریخی حقیقت کو غور سے دیکھیں توانہیں معلوم ہو گا کہ ان کے اقتدار کا انحصار نیویارک اور واشنگٹن سے تعلق استوار کرنے میں نہیں بلکہ نیویارک اور واشنگٹن کے مفادات کے تحفظ کرنے میں ہے.

مزید پڑھیں >>

صلحِ حدیبیہ: غور و فکر کے چند پہلو

 معاہدہ کی تمام شقیں بہ ظاہرمسلمانوں کے خلاف تھیں ؛ لیکن آپ انے تمام کومنظورفرمایا۔ دراصل آپ ا کے پیش نظرمستقبل تھاکہ ایک بارمعاہدہ ہوجانے کے بعدسکون واطمینان کے ساتھ دعوتِ دین کے فریضہ کی ادائے گی کی طرف توجہ دی جاسکے گی، جس کے نتیجہ میں دیگرقبائل ِ عرب کے دائرۂ اسلام میں داخل ہونے کاقوی امکان تھا۔ ہوابھی ایساہی۔ مدتِ معاہدہ میں اچھے خاصے لوگ حلقہ بگوشِ اسلام ہوئے۔

مزید پڑھیں >>

اسلامى تہذيب کيوں کر زوال پذير ہوئى؟

عالم اسلام کى اندرونى تبديليوں کا تجزيہ کريں تو معلوم ہوگا مادى اور غير مادى وسائل کے حوالے سے مسلمانوں کا زوال صديوں پہلے شروع ہوچکا تھا. نظام خلافت ميں ضعف، منگولوں کے حملے اور ان کے کبھى نہ بھرنے والے زخم مسلمانوں کے زوال کى سرعت کا باعث بنے، اسى زمانے ميں اہل يورپ عالم اسلام سے تجارت اور صليبى جنگوں کے ذريعے پيدا ہونے والے نزديکى تعلقات کى بدولت اپنى ثقافتى اور علمى تحريک و بيدارى کا آغاز کرچکے تھے.

مزید پڑھیں >>

واقعہ اصحاب فیل

ابرہہ، جو یمن کاگورنرتھااس نے خانہ کعبہ و مسجدحرام کے مقابلے میں ایک شاندارعمارت بنائی، بلندوبالا عمارت کوسونے اور چاندی سے مرصع کیااور اس کے درودیوار اور اہم مقامات پر ہیرے جواہرات پیوست کیے۔ ایک عام آدمی جب عمارت کے قریب جاتاتواسے گردن اونچی کرکے اس کی بلندی مشاہدہ کرنی پڑتی تھی اور جب اندرداخل ہوتا تواس کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ جاتیں۔

مزید پڑھیں >>

 اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد!

عام طور پر ہم دیکھتے ہیں کہ عیسوی سال جب ختم ہونے لگتا ہے اور ڈسمبر کی آخری رات ہوتی ہے، بارہ بجے کے بعد جنوری کی صبح نمودار ہونے والی ہوتی ہے تو پوری دنیا میں جشن وطرب کا ماحول چھا جاتا ہے، شراب وشباب کے نشہ میں نئے سال کا استقبال کیا جاتا ہے اوربداخلاقی اور بیہودگی، شرافت وتہذیب کی تمام حدوں کو پارکرکے نئے سال کی خوشیاں منائی جاتی ہیں ۔

مزید پڑھیں >>

واقعۂ کربلا کی عصری معنویت:  قرآن و حدیث کی روشنی میں

واقعۂ کربلا کا گہرائی سے جائزہ لینے کے بعد جو چیز سب سے زیادہ روشن اور واضح طور پر نظر آتی ہے وہ ہے خدمت اسلام کے جذبے سے سرشار ہوکر اپنی اور اپنے اہل خاندان کی جان و مال کی پروا کیے بغیر دربارِ ایزدی میں اپنی جان کا نذرانہ پیش کردینااور ایک لمحے کے لیے بھی موت کے سامنے خوف و جھجھک کا مظاہرہ نہ ک

مزید پڑھیں >>

ماہِ محرم الحرام و عاشورہ کی فضیلت و اہمیت

یومِ عاشورہ ماہِ محرم الحرام کا دسواں دن مندرجہ بالا فضیلتوں و باتوں کے برعکس اپنے اندر ایک بالکل مختلف پہلو بھی رکھتا ہے۔  کیسا عجیب اتفاق ہے کہ اسی دن سرور کائینات صلی اللہ علیہ وسلم  کے چھوٹے نواسے حضرت امام حسین  رضی اللہ عنہ‘ کو میدان کربلا میں شہید کر دیا گیا۔

مزید پڑھیں >>

اردو شاعری اور شہیدِ کربلا

عربی اور فارسی ادب میں واقعۂ کربلا اور قربانیِ شبیرؑ کے موضوع پر قدیم زمانے سے شعر و ادب میں واضح طور پر فلسفۂ حق و باطل کو بیان کیا گیا ہے۔ اپنوں بیگانوں سبھی نے نواسۂ رسولؐ کو خراجِ عقیدت پیش کیا ہے۔ دانش وروں اور شاعروں نے اپنے قلم کے جوہر دکھائے ہیں۔ اردو شعر و نثر میں کربلا کو حق و باطل کا ایک اہم استعارہ سمجھا جاتا رہا ہے۔ ہمیشہ کے لیے حسینیت زندہ باد اور یزیدیت مردہ باد ہے۔

مزید پڑھیں >>

شہادت حسینؓ کا مقصد

 شہادت حسین رضی اللہ عنہ فی الحقیقت ، حق و صداقت ، آزادی و حریت، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی ایک عظیم الشان انسانی قربانی تھی جو صرف اس لئے ہوئی کہ تاکہ پیروان اسلام کیلئے ایک اسوۂ حسنہ پیش کرے اور اس طرح جہاد حق و صداقت اور اس کے ثبات و استقامت ہمیشہ کیلئے ایک کامل ترین مثال قائم کرے، پس جو بے خبر ان کو رونا چاہئے اور جو روتے ہیں ان کو صرف رونے ہی پر اکتفا نہ کرنا چاہئے۔

مزید پڑھیں >>

شہادت : یہ رتبہ ٔبلند ملا جس کو مل گیا

ضروری ہے کہ شہادت کی عظمت کو سمجھیں اور شہداء کے مقام و مرتبہ کو جانیں ،شہادت کوئی غم والم یا نوحہ وماتم کی چیز نہیں بلکہ عظیم تر کامیابی اور ابدی حیات  کی علامت ہے ،یہ رشک و فخر کا ذریعہ ہے نہ کہ افسوس و غم کا سبب ہے ۔

مزید پڑھیں >>