اردو سرگرمیاں

ڈاکٹر ایم۔نظام الدین کو تلنگانہ اردو اکیڈیمی کا بیسٹ اردو ٹیچر ایوارڈ

نسپل ایم وی ایس گورنمنٹ ڈگری اینڈ پی جی کالج محبوب نگر کی اطلاع کے مطابق 18نومبر2017ء کو چو محلہ پیالس خلوت حیدرآباد میں حکومت تلنگانہ محکمہ اقلیتی بہبود تلنگانہ اسٹیٹ اردو اکیڈیمی کی جانب سے مولانا ابوالکلام آزادی کی یوم پیدائش اور یوم اقلیتی بہبودکے موقع پر منعقدہ تقریب میں ڈاکٹر ایم نظام الدین اسسٹنٹ پروفیسر اردو ایم وی ایس گورنمنٹ ڈگری اینڈ پی جی کالج محبوب نگر کواردو اکیڈمی حکومت تلنگانہ کی جانب سے اردو بیسٹ ٹیچر 2016-2017 ڈگری کالج سطح کا ایوارڈڈپٹی چیف منسٹر جناب محمود علی صاحب نے ایوارڈ و توصیف نامہ اور نقد رقم دیا۔

مزید پڑھیں >>

شعبۂ اردو، سی سی ایس یو کے ٹاپر کو گورنر اتر پردیش کے ہاتھوں گولڈ میڈل

چو دھری چرن سنگھ یونیورسٹی، میرٹھ کے29ویں کنووکیشن کا انعقاد نیتا جی سبھاش چندر بوس آڈیٹوریم میں ہوا۔ جس کی صدارت اتر پردیش گورنر محترم رام نائک نے کی اور مہمان خصوصی کے طور پر جے این یو کے شیخ الجامعہ محترم جگدیش کمار نے شر کت کی۔ اس مو قع پر عزت مآب گورنر نے شعبہ اردو کے دو طالب علم یونیورسٹی کے ایم فل 2016-17ء کے ٹا پر وصی حیدر کو سابق صدر جمہوریہ ڈاکٹر شنکر دیال شرما کے نام سے جاری ڈاکٹر شنکر دیال شرما ایواڈ سے نوازا گیا۔

مزید پڑھیں >>

جسٹس مفتی محمد تقی عثمانی کی حیات کے ادبی پہلوؤں کو اجاگر کرنے کی ضرورت ہے!

جسٹس مفتی محمد تقی عثمانی نے گو نا گو ذمے داریوں اور مشغولیوں کے باوجود اپنے اندر ودیعت کی گئی شعری صلاحیتوں کو پہچان کر عمدہ شعر کہے ہیں ، اور ان کی شاعری کا موضوع عشقِ حقیقی ہے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ ان کی نظم ونثر کو باقاعدہ تحقیق کا موضوع بنا کر اس میں ادبی جواہر پارے تلاش کرنے کی کوشش کی جائے۔

مزید پڑھیں >>

ڈاکٹر م۔ ق۔ سلیم کو کارنامہ حیات ایوارڈ

احمدعلی میموریل ایجوکیشنل سوسائٹی کی جانب سے مولاناابوالکلام آزاد کی یوم پیدائش کے موقع پر حیدرآباد کی نامور ادبی شخصیت، محقق، نقاد ، بچوں کے ادیب وماہر تعلیم ڈاکٹر م ق سلیم صدر شعبہ اردو شاداں کالج کو ان کی سماجی‘ ملی‘ ادبی وتعلیمی خدمات کے صلہ میں کارنامہ حیات ایوارڈ سے نوازاگیا۔

مزید پڑھیں >>

شعبہ اردوڈگری راج کالج کے زیر اہتمام ’یوم اردو‘ تقریب

 اردو میڈیم طلبا کو اپنی زبان سے مایوس ہونے کی ضرورت نہیں ہے اور جہد مسلسل کے ساتھ زندگی گزار کر اقبال کے شاہین کی عملی تصویر بننا چاہئے۔ محمد مبین الدین لیکچرر تاریخ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اردو میڈیم کے طلبا اختیاری مضامین میں بھی محنت کریں اور اردو میڈیم کا اور اپنا نام روشن کریں اردو میڈیم طلبا کو بھی سماج میں ترقی کے مواقع دستیاب ہیں۔

مزید پڑھیں >>

 شعبۂ اردو جامعہ ملیہ اسلامیہ میں نو وارد طلبہ کا استقبال

’’طلبہ کو چاہیے کہ وہ اپنی شخصیت کی نشّوو نمااور حصول علوم وفنون کے لئے حد درجہ انہماک ا ورسنجیدگیا اختیار کرے۔ جامعہ علم ودانش کے ساتھ فکری وعملی تربیت پر اپنی ابتدا سے ہی خصوصی توجہ دیتی آئی ہے ‘‘۔ ان خیالات کا اظہاربزم جامعہ کی جانب سے منعقدہ شعبۂ اردو کے نو وارد طلبہ کی استقبالیہ تقریب میں ڈین فیکلٹی برائے انسانی علوم و السنہ پروفیسر وہاج الدین علوی نے کیا۔

مزید پڑھیں >>

کتاب ‘جدید ہندی شاعری’ کی رسم رو نمائی

انجمن ترقی اردو (ہند) کے زیر اہتمام اردو گھر نئی دہلی میں خورشید اکرم کی ترتیب دی ہوئی کتاب جدید ہندی شاعری کی رسم رو نمائی کے موقع پر مشہور دانشور و نقاد پروفیسر شمیم حنفی نے کہا کہ یہ کوئی اچھی بات نہیں کہ اردو اور ہندی خانوں میں بٹی رہی۔ ان دیواروں کو ٹوٹنا چاہئے اور یہ کتاب اس جانب ایک بڑا قدم ہے۔

مزید پڑھیں >>

دو روزہ قومی سمینار:عصر حاضر میں بچوں کا ادب اور ہماری ذمہ داریاں

 سدی پیٹ کی سرزمین ادب کے اعتبار سے کافی زرخیز ہے۔یہاں وقفہ وقفہ سے اردو کے کامیاب کل ہند مشاعروں کا جناب مسکین احمد بانی انجمن محبان اردو سدی پیٹ کی جانب سے انعقاد عمل میں آتا رہا ہے ان کی کاوشوں سے اب تک 35کل ہند مشاعرے منعقد ہوئے ہیں۔ سدی پیٹ میں ادب کے سازگار ماحول بنانے میں مسکین احمد کا نمایاں کرداررہا ہے۔ تحریک فروغِ اردو کے روح رواں فخر الدین صاحب بھی اردو کے فروغ میں انتھک کوشش کوجاری رکھے ہوئے ہیں ان کے علاوہ اب سدی پیٹ میں بحیثیت اسسٹنٹ پروفیسر اردو کے ڈاکٹرسید اسرار الحق سبیلی کاڈگری کالج پرتقرر عمل میں آیا ہے۔

مزید پڑھیں >>

’راج نرائن رازؔاور ان کے بعض ہم عصر شعرا‘ کے موضوع پر خطبہ

انجمن ترقی اردو (ہند) نئی دہلی کے زیرِ اہتمام راج نرائن رازؔ میموریل سوسائٹی کی جانب سے 07 نومبر 2017 بروز منگل شام پانچ بجے اردو گھر میں پہلا راج نرائن راز یاد گاری خطبہ کا انعقاد ہوا، جس میں معروف و ممتاز نقّاد و دانشور پروفیسر شمیم حنفی نے ’’راج نرائن رازؔ اور ان کے بعض ہم عصر شعرا‘‘  کے عنوان سے اپنا  پُر مغز خطبہ پیش کیا۔پروفیسر شمیم حنفی دو درجن سے زائد اہم کتابوں کے مصنف ہیں اور پروفیسر موصوف کے سیکڑوں ادبی، تہذیبی اور ثقافتی موضوعات پر مضامین ہندستان اور پاکستان کے ممتاز رسائل میں شائع ہوچکے ہیں۔

مزید پڑھیں >>