عالم اسلام

بیت المقدس کا حالیہ بحران اور ہماری ذمے داری

۶؍دسمبر کی تاریخ ہم میں سے ہر ایک کو یاد ہوگی۔ آج سے پچیس برس قبل اسی تاریخ میں ایودھیا میں شرپسندوں اور شدّت پسندوں کے ہاتھوں سے بابری مسجد شہید کی گئی تھی۔ دن کے اجالے میں کھلی جارحیت کا مظاہرہ کیاگیاتھا اور اللہ واحد کی عبادت کے لیے بنائے گئے گھر کو مسمار کرکے زمیں بوس کردیاگیاتھا۔ امسال۶؍دسمبر کو ایک اور حرکت کی گئی، جس سے دنیا بھر کے مسلمانوں نے اذیت محسوس کی اور ان کے دلوں میں اضطراب پیداہوا۔ اس تاریخ کو صدرِ امریکہ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ وہ یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرتے ہوئے اپنا سفارت خانہ تل ابیب سے یروشلم منتقل کردیں گے۔

مزید پڑھیں >>

بے پَیر کا مجاہد

حضرت عمرو بن الجموح ؓ اور ابراہیم ابو ثریا کی سیرتوں سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ انسان کسی بھی حال میں ہو، اس کی صحت کیسی بھی ہو، اس کی عمر چاہے جتنی ہو، اس کا معاشی معیار جو بھی ہو، وہ کیسے ہی حالات سے گھرا ہوا ہو، کیسے ہی مسائل سے دوچار ہو، چاہے جیسی صلاحیت کا مالک ہو، کیسے ہی وسائل رکھتا ہو، لیکن اگر وہ چاہے تو اللہ تعالٰی کی خوش نودی سے بہرہ ور ہوسکتا ہے اور جنت الفردوس کا مستحق بن سکتا ہے _

مزید پڑھیں >>

معذور فلسطینی ابراہیم ابو ثریا کی شہادت

ابراہیم مسجدِ اقصٰی کی حفاظت اور اسرائیل کے ظلم کے خلاف لڑتے ہوئے جام شہادت نوش کر گئے، آپ کو یہ تو پتہ تھا کہ اسرائیل پانچویں بڑی فوجی طاقت ہے، مگر تم نے معذوری کے بعد بهی مسجدِ اقصٰی سے محبت کی لازوال مثال پیش کر گئے، ہم تو لاکھوں کے مالک ہیں، طاقت و قوت رکھتے ہیں، گھروں میں بڑی بڑی تعلیمی ڈگریاں ہیں، مگر ہم آپ کے ساتھ شامل نہیں ہو سکے آپ کے لئے کچھ نہیں کر سکے، آپ دونوں پیروں سے معذور ہو کر بهی جام شہادت نوش کر گئے، اخبار میں آپ کی شہادت کی خبر پڑھ کر ہم غم زدہ ہو گئے-

مزید پڑھیں >>

کیا تم ان سے ڈرتے ہو؟

اہل ایمان کے دائمی دشمن(المائدہ۔ ۸۲) قوم یہوداور دبراہمہ(مشرکین ) دنیا کی تنہا  دوایسی قومیں ہیں جو پیدائشی بلندی و پستی کے جاہلانہ و مفسدانہ نظریے پر یقین رکھتی ہیں۔ یہودی ہر غیر یہودی کو گولم GOLLAM یا  GENTILEہی نہیں کہتے بلکہ اپنے تحفظ کے لیے  ان کے بے سبب اور بے خطا  قتل کو بھی جائز سمجھتے ہیں ۔ جبکہ اسلام انسانوں کی بلندی و پستی اور عزت و ذلت کا معیار اللہ کا تقویٰ ہے ( ان اکرمکم عند ا للہ اتقاکم )اور ایک بے گناہ کا قتل کو قرآن پوری انسانیت کے  قتل کے مترادف قرار دیتا ہے۔

مزید پڑھیں >>

نہیں، ہم  ہرگز مایوس نہیں!

انیسویں صدی  مسلمانوں کے زوال  کی تکمیل کی صدی تھی۔ لیکن یہ زوال صدیوں کے عروج و اقتدار کے بعد رو نما ہوا تھا۔ سامراج کےقریب  دو سو سالہ اقتدار  کے خاتمے کے بعد برہمنوں کو کئی ہزار سال بعد حاصل ہونے والا اقتدار، اس بار سو سال  بھی پورے نہیں کر سکے گا۔ انشا اللہ۔ سنگھ پریوار کی قیادت میں پہلے با لواسطہ  اور اب بلا فصل برہمنوں اور اُن کے معاونوں کو جو اقتدار ملا ہوا ہے وہ  محض ستر برسوں میں بیک وقت نمرودی و فرعونی،قارونی و یزیدی   فساد فی الارض کے ملغوبے کی انتہا کو پہونچنے کے قریب ہے۔ ان کا ظلم اور اسراف ہی لے ڈوبے گا۔

مزید پڑھیں >>

سعودی حکومت کی خاموشی منصوبہ بندہے!

اس وقت دنیا بھرکے مسلمانوں میں یہ سوال گہراتا جارہاہے کہ یروشلم معا ملے میں ٹرمپ کے فیصلے کے خلاف باضابطہ طور پر احتجاج کرنے کے ساتھ ساتھ اگر سعودیوں نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کردیے توعالم اسلام کی مشرق وسطیٰ کے حوالے سے پالیسی کا کیا ہوگا؟ یہ سوال شاید اتنا بے تکا ہے نہیں جتنا کہ یہ لگتا ہے۔

مزید پڑھیں >>

انٹرپول نے ڈاکٹر ذاکر نائک کو امن پسند تسلیم کیا

ڈاکٹر ذاکر نائک کو انٹرپول کے ذریعے سے کلین چٹ دےء جانے سے مسلمانوں میں خوشی کا ماحول ہے۔ اس خوشی کے موقع پر ہم اپنے فیس بُک قارئینِ کرام کا شکریہ ادا کرتے ہیں کہ انهوں نے ہمیشہ ڈاکٹر ذاکر نائک سے دلی محبت کا اظہار کیا اور ان کے لئے برابر دعائیں کرتے رہے۔ آج اللہ تعالیٰ نے ہم سب کی دعائیں قبول فرمائیں ، دشمنوں کی سازشوں کو شکست ہوئی۔ قرآن پاک کے سورہء آل عمران آیت نمبر 54 میں ہے کہ کفار و مشرکین تدبیریں کرتے ہیں مگر اللہ تعالیٰ بہترین تدبیر کرنے والا ہے-

مزید پڑھیں >>

 نئی صلیبی جنگ کی تیاریاں !

صہیونیت کے جادوگروں نے دنیا بھر کے مالیاتی نظام کو اپنے شکنجے میں جکڑنے کے لئے سودی نظام کا معاشی خاکہ متعارف کروایا اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے یہودیوں نے ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف نامی مالیاتی اداروں کے ذریعے پوری دنیا اور تیسری دنیا کے پسماندہ ممالک کو قرضوں کی آڑ میں معاشی غلامی کا تاج پہنا دیا۔ سودی نظام کے بانیوں نے نیا منصوبہ کچھ یوں مرتب کیا ہے کہ دنیا کا ہر انسان اپنی دنیاوی خواہشات کی کمزوریوں کے ہمراہ سودی نظام کے خونخوار جبڑوں میں اپنی گردن خود ہی پھنسائے۔ اور پھر عمر بھر نکلنے نہ پائے۔

مزید پڑھیں >>

فلسطین کا حق دار کون: اسرائیل یافلسطینی مسلمان؟

اسرائیل کو اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے،  کہ آج بھی مسلم امت کی رگوں میں دوڑنے والا خون نہایت سرخ ہے، اور ایمانی حرارت سے کھول رہا ہے، وہ اسلامی مقدسات کے تحفظ کے لیے ہربازی کھیل سکتی، اور اپنی قیمتی سے قیمتی متاع کو داؤں پر لگا سکتی ہے!وہ اپنے سروں پر مسلّط ظالم وجابر اور اسلام دشمن حکم رانوں اور بادشاہوں سے بھی عاجز آچکی ہے، اور اللہ تعالی کی مدد شامل حال رہی، تو وہ وقت دور نہیں جب وہ ان سب کو اپنے پیروں سے روند کرسارے عالم کے لیے نمونۂ عبرت بنادے گی!

مزید پڑھیں >>

یہودیت واستعماریت کا نیا محاذ بیت المقدس

مشرقی وسطیٰ عرصے سے استعماری اور سامراجی طاقتوں کی سیاسی و جدلیاتی یورشوں کا مرکز بنا ہوا ہے۔ طاغوتی طاقتوں نے مسلمانوں کی سرزمین کو میدان جنگ اور ان کے گھروں کو مقتل بنایا دیا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ پراگندہ خاطری مسلمانوں کامقسوم بن چکی ہے۔ انسانی قانون ساز اداروں نے بھی مسلمانوں پر ہو رہے پے درپے مظالم سے چشم پوشی اختیار کرلی ہے۔ بے گناہوں اور مظلوموں کی آوازوں کو مسلسل خاموش کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

مزید پڑھیں >>