دیگر نثری اصناف

نزار قبانی: جدتِ افکار اور جرأتِ اظہار کا استعارہ!

نزار کو جب لوگ’’شاعر المرأۃ‘‘ (شاعرِ نسواں )کہتے تھے، تو وہ مست ہوجاتے تھے اور اب بھی عام طورپر جب لوگوں کی زبان پر نزار کانام آتاہے یا کوئی ان کی شاعری پڑھتا یا سنتا ہے، تو بے ساختہ اس کا ذہن ان کے اس لقب کی طرف چلاجاتا ہے، مگر اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ نزار اپنی قومی نظموں، ملی ترانوں، واضح تنقیدی تصورات اور اپنے مختلف مقالات میں ایک ایسے دانشور نظر آتے ہیں، جو نہ صرف عورتوں سے محبت کرتا ہے؛بلکہ وہ اپنے وطن کی مٹی اور اس کی آب و ہوا سے بھی قلبی انس رکھتا ہے۔

مزید پڑھیں >>

قلبی واردات اور عصری رُجحانات کے شاعر برقی اعظمی

ضلع اعظم گڑھ کی مردم خیزمٹّی نے کیفیؔ جیسے گوہر آبدار و تابدار پیداکئے ہیں جنہوں نے پوری دُنیا ئے ادبیات میں اعظم گڑھ کانام روشن کیاہے۔ شہرت و شہامت کے سرتاج شاعر جناب احمد علی برقیؔ اعظمی کاخمیربھی اسی ضلع کی زرخیزمٹّی سے اُٹھاہے۔ موصوف گذشتہ کئی دہوں سے اُردو ادب کی خدمت کافریضہ پائے استقلال کے ساتھ بڑی مستعدی سے لگاتار انجام دیتے چلے آرہے ہیں۔ آپ مقامی مشاعروں میں ہی نہیں بلکہ جموں کشمیرکے مشاعروں میں ٹیلی ویژن اور ریڈیو کے پروگراموں میں مشارکت فرماکر دادوستائش اور تحسین وتہنیت کے گرانقدرنذرانے وصول کرتے رہے ہیں۔

مزید پڑھیں >>

غزل دریافت جبکہ نظم ایجاد ہوتی ہے!

غزل اور نظم میں وہی فرق ہے جو ایجاد اور دریافت میں ہوتاہے۔ دریافت ہے کسی شئے کا مل جانا۔ ایجاد ہے کسی شئے کو ازخود تخلیق کرنا۔ بالفاظ دیگر دریافت کسی حاد ثے کی طرح ہوتی ہے۔ کسی شئے کا اتفاق سے مل جانا فرد کا ذاتی کمال نہیں ہوسکتا۔ اگرچہ اس میں کلام نہیں کہ کہنہ مشق غزل گو شعرأ اور مبتدیوں کے اشعار کو دیکھ کر صاف کہا جاسکتاہے کہ کہنہ مشق شاعر نے کمال کردیا۔اور یہ اس کا ذاتی کمال ہے۔ لیکن سچ تو یہ ہے کہ جنگل جنگل کی خاک چھاننے والے اور کبھی کبھار جنگل سے گزرنے والے، ہر دو طرح کے مہم جوؤں کی دریافتوں میں بھی تو وہی فرق قائم رہتاہے۔

مزید پڑھیں >>

سوشل میڈیا میں اردو: لفظیات کو درپیش مسائل

سوشل میڈیا میں اردو زبان کے استعمال کے وقت چاہے وہ چیٹنگ میں ہو یا بلاگنگ اور پوسٹنگ، زبان و بیان کے اصول کو اسی طرح ذہن میں رکھنا چاہیے،جس طرح ہم حقیقی دنیا میں باہمی گفتگو کے دوران یا کچھ لکھتے وقت اس کا خیال رکھتے ہیں ،اس پر توجہ دینا اس لیے ضروری ہے کہ اگر ان غلطیوں کو ناقابلِ اعتنا سمجھتے ہوئے یو ں ہی چلنے دیا جائے،تو دھیرے دھیرے باقاعدہ ایک ایسی زبان وجود میں آجائے گی،جسے ’’اُردِش‘‘سے تعبیر کیا جارہا ہے۔

مزید پڑھیں >>

لاہور سے قصور تک کا سفر: یادوں کے دریچوں سے حال کی چوکھٹ پر 

مصروفیات و مجبوریوں اور مصلحتوں کی زنجیروں سے بچ بچا کر قصور جانے کا خوشگوار ماحول استوار ہو جائے تو اِس کے سوا مجھے اور کیا چاہے۔ تو کیسے ممکن تھا کہ ایک تو پاکستان رائیٹرزونگ کے زیراہتمام اور دوسرا یہ قصور میں منعقدہ تقریب کا دعوت نامہ میرے لئے باعثِ مسرت نہ ہوتا۔ مذہبی، ثقافتی اور روحانی روایات کا امین شہرقصور کی لازوال ادبی تاریخ بھی ہے جس میں یہاں کی ادبی تنظیموں کا ادبی شخصیات کی آبیاری اور تربیت میں ناقابل فراموش کردار رہا۔ مگر یہ پہلی مثال ہے کہ ایک دوسرے شہر کی ادبی تنظیم قصور کی سرزمین پرپاکستان بھر سے اہل علم و دانش کو ایک پلیٹ فورم پراکٹھا کر کے ادب کا ایک نئا چراغ روشن اورایک نئی تاریخ رقم کر رہی تھی۔

مزید پڑھیں >>

کیفی اعظمی کے آوارہ سجدے

آوارہ سجدے کیفی اعظمی کا تیسرا مجموعہ کلام ہے، جو ۱۹۷۴ء میں شائع ہوا۔ اس سے پہلے ان کے دو مجموعے منظرِ عام پر آئے، ’’جھنکار‘‘ ان کا پہلا مجموعہ کلام ہے، جس میں انہوں نے رومان اور انقلا ب کا عمدہ امتزاج پیش کیا ہے، تاہم اس مجموعے کی زیادہ تر نظمیں رومانی ہیں ۔  یہ رومان کوئی معمولی قسم کا رومان نہیں ہے بلکہ اس میں اعلیٰ شاعری کے بہترین نمونے موجود ہیں ۔ اس پورے مجموعے میں کیفی رومان اور حسن و جمال کی کیفات سے متاثر نظر آتے ہیں ۔

مزید پڑھیں >>

میر انیس کا نعتیہ کلام

میر انیس کے کلام میں پائے جانے والے نعتیہ کلام پر کچھ ضبط تحریر کرنے سے پہلے ضروری سمجھتاہوں کہ میں اپنے قارئین کی خدمت میں یہ بات عرض کرتا چلوں کہ اصل میں نعت کے مبادیات کو سمجھنے کے لئے ضروری ہے کہ سب سے پہلے ہم اردو کی معروض وجود میں آنے کے اسباب و علل پر بھی تھوڑا توجہ دیں۔ ایسا کرنے سے ہمیں اردو ادب میں ’’نعت‘‘جیسی مقدس صنف سخن کو سمجھنے میں آسانی ہوگی۔ہندوستان ابتدا سے ہی کثیر اللسانی ملک رہا ہے۔

مزید پڑھیں >>

شعری کہکشاں کا ایک دلکش رنگ ’ اقبال جاوید‘

وہ تجربات کی دلکشی کوکلام کی روح میں سموکر احساس کی خوشبو جگاتے ہیں اور قاری کے دل و دماغ کومتاثر کرکے جمالیاتی شعور کی آبیاری کرتے ہیں ۔غالب،اقبال،فیض،فراز اور محسن نقوی ان کے پسندیدہ شعرا ہیں ۔ اقبال جاوید شاعری کے علاوہ فن موسیقی پر بھی خوب دسترس رکھتے ہیں ۔ وہ خوب صورت اور سریلی آواز کے مالک ہیں اورموسیقی میں مستعمل تقریباً دس سازوں پر یکساں مہارت رکھتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ انہیں صحت کے ساتھ لمبی زندگی دے تاکہ وہ یونہی اردو ادب کی خدمت کرتے رہیں ۔

مزید پڑھیں >>