قرآنیات

تعمیر وترقی کے قرآنی اصول

قرآن مجید سے تربیت لینے والا انسان ایمان ویقین کی قوت سے مالا مال ہوتا ہے، عمل کے میدان میں سب سے آگے ہوتا ہے، عقل وحکمت کے میدان کا بہترین شہسوار ہوتا ہے، اور اپنے مشن کے لیے ہمیشہ سرگرم رہتا ہے۔ یہ چار اوصاف جس گروہ میں پیدا ہوجائیں اسے عروج وترقی کے قلعے یکے بعد دیگر فتح کرنے اور دنیا کی امامت کا تاج زیب سر کرنے سے کوئی نہیں روک سکتا ہے۔ ایسے ہی لوگ بلا شبہ اہل القرآن ہوتے ہیں ، اور وہی بے شک اہل اللہ بھی ہوتے ہیں ۔

مزید پڑھیں >>

مجھ سا بھی کوئی مظلوم نہیں!

ترک قرآن دنیا وآخرت دونوں جہاں میں ناکامی خست وذلت کے باعث ہیں، اس پر عمل پیرا ہونا اور قرآ ن کریم کو دستور حیات بنانا اوراس کے پیغام کو عام کرنے اوراس کو سیکھنے سمجھے اور اس کو زندگی کا اوڑھنا بچھونا بنانے کی ضرورت ہے، جس کی وجہ سے دونوں جہاں میں چین وسکون اور راحت ورآرام اور ہر دو جہاں کی کامیابی وکامرانی نصیب ہوسکتی ہے، ورنہ یہ جہاں بھی پریشانیوں کی آماجگاہ اور روز قیامت بھی سوائے افسوس، ناکامی اور نامرادی کے کچھ ہاتھ نہ آئے گا۔

مزید پڑھیں >>

سورۂ اخلاص تہائی قرآن کے برابر ہے!

توحید، رسالت اور آخرت۔ دین اسلام کے تین اہم ترین عقاید ہیں، سورۂ اخلاص عقیدہ ٔ توحید کوبیان کرتی اور وحدت ِ ِمعبود کے اصول تا قیامت طے کرتی ہے، اس کے ساتھ ساتھ یہ چار آیات مبارکہ پر مشتمل سورت ادیان باطلہ اور عقائدِ فرقِ ضالہ کا ردبھی کرتی ہے، اور بتاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا تمام معبود باطل، شیطان کی پھیلائی ہوئی گم راہی اور انسانی خواہشات کی ایجادہیں اور ان کے نام بھی اسی شیطان کے دیے ہوئے ہیں۔ ذیل میں احادیث ِمبارکہ کی روشنی میں اس عظیم سورت کے فضائل ذکر کیے جاتے ہیں، جس کی تلاوت کا ثواب ایک تہائی قرآن یعنی تقریباً 2022آیات کی تلاوت کے برابرہے، جس سے محبت کرنے والو ں کو جنت اوراللہ تعالیٰ کی محبت اور دوستی کی بشارت دی گئی ہے

مزید پڑھیں >>

قرآن حکیم کا سمجھ کر پڑھنا ہی مطلوب ہے! 

قرآن کریم عالم انسانیت پر نازل ہونے والی اللہ کی نعمتوں میں سے ایک عظیم نعمت ہے۔ یہ وہ نسخہ کیمیا ہے جس کے ذریعہ انسان نہ صرف یہ کہ اپنے خالق حقیقی کی معرفت حاصل کرسکتا ہے بلکہ اپنے وجود کے حقیقی مقاصد کو بھی پہچان سکتا ہے۔ وہ یہ جان سکتا ہے کہ اس کے لئے کامیابی اور نجات کی راہ کون سی ہے اور کس طرز حیات کو اختیار کرنے میں اس کی دنیوی و اخروی ذلت و رسوائی اور ناکامیابی ہے۔ اسی لئے اللہ رب العزت نے اسے کتاب ہدایت قرار دیاہے۔

مزید پڑھیں >>

انسانی فطرت اورقرآن (آخری قسط)

بے شک بہت سے لوگ اللہ تعالیٰ کی آیتوں سے غافل ہیں اوران پر توجہ نہیں دیتے۔ نہ اسے یاد کرتے، نہ اس کی آیات پر غوروفکر کرتے ہیں۔ وہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کے مزے لوٹتے ہیں اور باقی سب کچھ فراموش کردیتے ہیں۔ اس کی جنت و جہنم اورحساب و عذاب کے بارے میں نہیں سوچتے۔ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں سے فیض یاب ہوتے ہیں لیکن اس کی نافرمانی کرتے اور اس کے ذکر و اطاعت سے اعراض کرتے ہیں اور اکثر لوگوں کی عمر سی غفلت میں گزر جاتی ہے۔

مزید پڑھیں >>

قرآن اور  حضورؐ کی حیات طیبہ لازم و ملزوم ہیں

 کسی نے سچ کہا ہے کہ قرآن اور عملی قرآن یعنی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ آپس میں لازم و ملزوم ہیں ۔ جس نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں دیکھا وہ قرآن کو دیکھ لے لیکن جنہوں نے پورا قرآن نہیں دیکھا تھا ان کیلئے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہی کافی تھے۔

مزید پڑھیں >>

انسان قرآن کے آئینہ میں (قسط دوم)

انسان کی بھول اس وقت نمایاں طور پر ظاہر ہوجاتی ہے جب سختی اور ابتلاء کی منزل کو عبور کرکے عیش و آسائش حاصل کرلیتا ہے۔ اگر اسے یہ علم ہوجائے کہ یہ آرام و راحت، یہ مال و جاہ اور یہ منصب وعلم ایک آزمائش اور امتحان ہے تو وہ اپنے ربّ کو نہیں بھولے گا اور اس کے ایمان اور جذبہ شکر میں اضافہ ہوجائے گا لیکن اس بھول اور نسیان کو تو انہوں نے اپنے باپ دادا سے وراثت میں پایا ہے، جن سے اس کے پروردگار نے عہد لیا تو بھول گئے۔ یہ ان کی اولاد کی طبیعت اور فطرت بن چکی ہے مگر اللہ تعالیٰ جس کی حفاظت فرما دے۔

مزید پڑھیں >>

انسان قرآن کے آئینہ میں (قسط اول)

انسان! جیسا کہ علیم و خبیر نے بیان کیاہے، سب سے زیادہ جھگڑالو ہے۔ اللہ تعالیٰ نے بہت سی مخلوقات پیدا کی ہیں اور وہ سب اس سے کم جھگڑالو ہیں اوریہ بڑی باعث ِشرم بات ہے۔اس لئے انسان کو اپنے غرور و تکبر سے باز آنا چاہئے... اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو سمجھانے کے لئے مثالیں بیان کیں، لیکن وہ سچائی کے ظاہر ہوجانے کے باوجود اس کے بارے میں جھگڑتے ہیں۔ اگر انسان اس بدترین اَخلاقی بیماری کا علاج نہ کرے اور شفا بخش دوا سے اس کا اِزالہ نہ کرے تو یہ کتنی بری بیماری ہے!

مزید پڑھیں >>

 کتاب اللہ کی خوبیاں

قرآن حکیم کا یہ ایک بہت بڑا معجزہ ہے کہ دیگر کتابوں کے برخلاف اس میں کوئی نقص نہیں پایا جاتا۔ کیونکہ یہ پاک و منزہ ذات باری تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوئی ہے اور اگر کسی کو اس بات سے انکارہے کہ یہ غیراللہ کی کتاب ہے اور ا س میں کمی و زیادتی ہے تو "فلیاتوا بحدیث مثلہ ان کانوا صادقین "اگر یہ اپنی بات میں سچے ہیں تو یہ بھی ایسا کوئی کلام لے آئیں۔ (سورہ طور 34)

مزید پڑھیں >>

قرآن مغالطوں سے پاک کتاب ہے

علم مسرتِ حقیقی بخشتا ہے اور ملاقات ِ الٰہی ایسا ہی کوئی لطف ہوگی نہ کہ جسم میں نصب دو آنکھوں سے کسی ’’شئے‘‘ (آبجیکٹ) کا دیکھنا۔ البتہ اس علم کی چونکہ کوئی حدود نہیں ہیں اور پھر اس کو مزید انفس و آفاق میں تقسیم کردیا گیا فلہذا عین ممکن ہے کہ انفس میں ملاقات ِ الٰہی علم کی کسی ایسی شکل میں ہو جو بعینہ سرور بخش ہونے کے ساتھ ساتھ یکسر معروضی علوم سے مختلف ہو۔

مزید پڑھیں >>