ملی مسائل

آئینِ ہند، ہندوستانی سماج کا تانا بانا اور اسلام  کے عائلی قوانین

موجودہ صورت حال یہ ہے،اس پر فرقہ پرست ذہنیت کی طرف سےمزید مسلمانوں کے عائلی قوانین میں دراندازی کی کوشش کی جارہی ہے، ایسی صورت میں تصویر کتنی بھیانک ہوجائے گی اس پربھی غورکرنے کی ضرورت ہے۔ ملک کے مسلمانوں کو بھی اس وقت عائلی قوانین پر مکمل طور پر عمل کرتے ہوئے حالات کے تقاضہ کو سمجھتے ہوئے پورے ملک کے سامنے بہت ہی وضاحت کے ساتھ انہیں رکھنا چاہئے تاکہ ان کی خوبیاں لوگوں کے سامنے واضح ہوسکیں ۔

مزید پڑھیں >>

ہماری انفرادی بداعمالیوں کی شامت رسول اللہ ﷺ کی امت پر (آخری قسط)

آج ملت کے ہر طبقہ نے دین کو بے یار مددگار چھوڑ دیا ہے۔ہمارے تمام سرکاری ادارے دجالیت پھیلانے کی فیور میں ہیں دین کی نہیں ، وہ کھیل تماشا، ناچ راگ، شوبز اور فیشن و عریانت کو سپورٹ کرتے ہیں دین کو نہیں ۔ مسجدوں کے لاؤڈ سپیکروں پر پابندی عائد کر دی گئی کہ مسجد سے باہر کے لوگ دین کی باتیں نہ سن سکیں اس کے برعکس اگر ناچ راگ، مجرے، ڈانس و بھنگڑے، ڈرامہ ، موسیقی و فلم سازی پر پابندی لگتی تو معاشرہ بے حیائی و عریانیت کا خاتمہ نہ ہوجاتا؟

مزید پڑھیں >>

ہماری انفرادی بداعمالیوں کی شامت رسول اللہ ﷺ کی امت پر (قسط اول)

یہ حقیقت ہے کہ آج ہم جو دنیا میں در بدر بھٹک رہے، اور ذلت و رسوائی، خواری و ناداری ہم پر مسلط ہے یہ اپنے قومی نصب العین اور اسلاف کے نقش قدم سے ہٹ کر چلنے ہی کی سزاہے۔ کیونکہ مجموعی طور پر قوموں کو گمراہی ، ضلالت اور راہ راست سے بھٹکنے کا حساب دنیا میں ہی دینا ہوتا ہے۔ قوم اور امت کا معاملہ، سزاء و جزا دنیا ہی میں ہوا کرتی ہے۔

مزید پڑھیں >>

اسلام اور پانی

بچپن میں شایدپرائمری یا ہائی اسکول میں پہلی بار یہ پڑھا تھا کہ زمین کا 30 فی صد حصہ خشکی پر اور 70 فی صد حصہ پانی پر مشتمل ہے تو بڑا تعجب ہوا تھا ۔اس وقت اللہ کی یہ حکمت سمجھ میں نہیں آئی تھی ۔اس وقت جو بات دماغ میں آئی تھی انسانوںکو رہنے کے لئے گھر بنانے کے لئے زیادہ زمین کی ضرورت ہے ۔اسلئے خشکی کا حصہ زیادہ ہونا ضروری ہے۔اس وقت یہ معلوم نہیں تھا کہ انسان پانی پر اور پانی میں بھی گھر کیا سرنگیں اور ریلوے لائنیں بچھانے والاہے ۔اور نہ یہ معلوم تھا کہ خدا کا دیا ہوا 70 فی صد پانی ہونے کے باوجود ہم انسان پانی کی بوند بوند کے محتاج ہونے والے ہیں ۔

مزید پڑھیں >>

تین طلاق پر ٹکرائو کیوں؟

سنگھ نے سرکار پرمسلمانوں کے دبائو میں کام کرنے کا الزام لگایا تھا۔ اس سے ہندو سماج میں پیدا ہوئی ناراضگی کو دور کرنے کیلئے بابری مسجد کا تالا کھلوایا گیا۔اس کے بعد کیا ہوا ، کسے نہیں معلوم۔۔۔؟ ایک غلط فیصلہ کا خمیازہ آج تک ملک بھگت رہا ہے۔ آج پی چدمبرم اور دگوجے سنگھ جسے کئی دگج کانگریسی قبول کر چکے ہیں کہ شاہ بانو معاملے میں راجیو گاندھی سرکار کا فیصلہ غلط تھا۔ ایک بار پھر تین طلاق ( طلاق ثلاثہ ) کی حمایت میں بورڈ وجمعیت ساتھ کھڑے ہیں ۔

مزید پڑھیں >>

مسلمانوں کے عائلی مسائل: چند عملی تجاویز!

پرسنل لا کے نفاذ اور عائلی تعلیمات پر عمل آوری کے لیے تعلقات استوار کرنے اور روابط برقرارر کھنے کے ساتھ ساتھ چند عملی کام بھی ضروری ہیں ،یہ کام داخلی سطح پر ہونے چاہیے۔سب سے پہلا اور انتہائی ضروری کام کانسلنگ سینٹرس کا قیام ہے۔

مزید پڑھیں >>

نکاح ایک نعمت ہے،جسے امت کیلئے زحمت بنادیا گیا

ایک مرد اور عورت کے درمیان اسلامی قانون کے مطابق جو تعلق اور رابطہ استوار کیاجاتاہے ،اسے شریعت اسلامی میں نکاح کہتے ہیں ۔یہ محض اپنی نفسانی اور جنسی خواہشوں کے پورا کرنے کیلئے نہیں اور نہ نکاح کا یہ مقصد ہے کہ ایک مرد اور عورت کسی نہ کسی طرح ایک دوسرے کے گلے پڑ جائیں اور نہ شریعت اس امر کی اجازت دیتی ہے کہ عورت کوشہوانی خواہشات کی تکمیل کا سامان بناکر رکھ دیا جائے۔ شریعت اسلامیہ میں نکاح ایک دینی اور مذہبی عمل اور ایک گہرا تمدنی، اخلاقی اور قلبی تعلق ہے۔

مزید پڑھیں >>

مسلم پرسنل لا پر حملے کا بہترین جواب کیا ہوسکتا ہے؟

اگر مسلمان طے کرلیں کہ وہ شیطان کے راستے کو ہمیشہ ہمیشہ کیلئے چھوڑ دیں گے اور ہمیشہ ہمیشہ کیلئے اللہ رب العزت کے راستے کو اپنا لیں گے تو ان کی دنیا بدل جائے گی۔ آسمانوں سے رحمتوں کی بارش ہونے لگے گی اور دشمنوں کے حملے کا سارا زور آناً فاناً ٹوٹ جائے گا۔

مزید پڑھیں >>

اُٹھو! یا نیند ابھی باقی ہے؟

آج اسلام دشمن طاقتیں ہر محاذ سے مسلمانوں کو دبانے، کچلنے، ہٹانے اور ختم کرنے کے دَر پہ ہے ۔ مسلم پرسنل لاء پر کاری ضرب اور شریعت میں تبدیلی کا شوشہ تو پہلا حملہ ہے۔ لیکن بڑے افسوس اور شرمندگی کے ساتھ یہ بات ہمیں تسلیم کرنی ہوگی کہ ہم خود بحیثیتِ مسلمان، مسلم پرسنل لاء کا نہ احترام کرتے ہیں اور نہ اس پر عمل کرنے کی کوشش۔ جو قانون ہمیں اسلام اور شریعت کے صحیح غلط پہلوؤں سے آگاہ کرکے اسکی طرف رہنمائی کرتا ہیں ، ہمیں اس سے کسی طرح کا کوئی واسطہ نہیں ۔

مزید پڑھیں >>

بیوہ خاتوں کی معاشی مشکلات کا حل

جب کسی عورت کے شوہر کا انتقال ہوجاتا ہے تو اس کے بچے یتیم اور وہ بیوہ کہلاتی ہے ۔ سماج میں بیوہ عام طور سے بے سہار ا بن کر رہ جاتی ہے ، نہ ہی اس کے رشتے دار سہارا دیتے ہیں اور نہ اس کے سماج وسوسائٹی والے ۔ یہ وہ مرحلہ ہوتا ہے جب عورت نفسیات کا شکار ہوجاتی ہیں بطور خاص اسوقت جب ایک طرف معاشی تنگی کا سامنا ہو اور دوسری طرف بچوں او ر اپنے گزربسر کا مسئلہ ہو۔ ایک ایسی ہی خاتون نے مجھ سے ذکر کیاکہ کچھ دن پہلے میرے شوہر کا انتقال ہوگیا ، میرے پاس چھوٹے بچے ہیں ، کوئی سہارا دینے والا نہیں اور نہ ہی کوئی ذریعہ معاش میرے پاس ہے براہ کرم مجھے قرآن وحدیث سے کوئی وظیفہ بتائیں تاکہ مجھے اللہ کی طرف سے رزق ملتا رہے اور کسی کے سامنے ہاتھ پھیلانے کی نوبت نہ آئے ۔ مجھے اللہ کی ذات پر پورا بھروسہ ہے وہ میرے لئے ضرور کوئی رزق کا دروازہ کھولے گا

مزید پڑھیں >>