مذہبی مضامین

بسم اللہ کا معنی ومفہوم اور اسکی عظمت و برکت

مسلمان بسم اللہ کی برکت سے کچھ نہ کچھ ضرور واقف ہے مگرہر مسلمان جسے حکم دیا گیا ہے کہ بسم اللہ کئے بغیر کوئی کام شروع نہ کرو آہستہ آہستہ بھولتا جا رہاہے جنہں آج کل پڑھا لکھا یا تعلیم یافتہ کہا جاتا ہے وہ جلسہ یاتقریب میں بسم اللہ کہنے سے نہ صرف جھجکتے ہیں بلکہ اسے کہنے میں شرم محسوس کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ اسے کہنے سے ان کی عزت وعظمت میں کمی آجائے گی اور اپنوں میں نکوبن جائیں گے مگر جو لوگ بسم اللہ کی عظمت اور برکت سے واقف ہوں وہ اس نعمت کو فصل گل ولالہ کا پابند نہیں سمجھتے ان کی زبان سے بسم اللہ کہے بغیر کوئی بات نکلتی ہی نہیں وہ کوئی کام شروع کرنے سے پہلے ضرور بسم اللہ کہتے ہیں ۔

مزید پڑھیں >>

ملی نجات کی شاہرہ

اگر ہم یہ پسند نہیں کرتے کہ ہماری موجودہ حالت جوں کی توں بر قرار رہے اور ہم پر خود اپنے وجود سے دشمنی کرنے والا ایک فرض ناشناس گروہ ہونے کا جوواقعی الزام لگ چکا ہے وہ نہ خلق کے سامنے سے دور ہونہ خدا کے سامنے سے تو اس کی واحد تدبیر صرف یہی ہوسکتی ہے کہ ہم خداوشناس بنیں ، اپنا فرض یاد کریں اور پھر اس نصب العین کے ہو رہیں ۔ جسکے سوا ہمارا کوئی دوسرا نصب العین نہیں ، اور نہ مسلمان ہوتے ہوئے کبھی ہو سکتا ہے۔ یہ بات نہ کسی خوش عقیدگی کی پیداوار ہے نہ ماضی پر ستی کا نتیجہ ۔

مزید پڑھیں >>

فرقہ پرستی: نقصانات، وجوہات اور حل

ہمیں اگر امام ابوحنیفہ ؒ سے محبت ہے تو محبت کا ظہار کرسکتے ہیں ، فرط محبت میں نسبت بھی کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے جیساکہ کوئی امام مالک سے فرط محبت کے طور پر اپنے نام کے ساتھ مالکی لکھے۔ لوگوں کا صدیقی ، فاروقی اور عثمانی لکھنا بھی بطور محبت ہے ۔ کوئی کسی مدرسے سے فارغ ہوتا ہے تو اس کی محبت میں خو د کو اس طرف انتساب کرتا ہے ۔ محبت کے اظہار کے لئے کی اچھی نسبتوں میں کوئی حرج نہیں لیکن اگر نسبت کا مطلب الگ فرقہ بنانا ہے تو مذموم ہے خواہ نسبت کسی شخص کے نام پر ہو، ادارے کے نام پر یا قوم وعلاقہ کے نام پر ہو۔

مزید پڑھیں >>

ناسور نہ بن جائے کہیں!

ماہ اپریل کے پہلے دن تمام مسلمانوں کو بحری جہازوں پر سوار کر دیا گیا ۔انہیں اپنے وطن کو رخصت کرتے ہوئے بڑی تکلیف ہورہی تھی لیکن اطمینان بھی تھا کہ چلوجان تو بچی ۔۔۔! جب جہاز سمندر کے عین وسط میں جاپہونچا تو منصوبہ بندی کے تحت فرڈ نینڈ کے گماشتوں نے جہاز میں سوراخ کرکے خود حفاظتی کشتیوں پر سوار ہوکر بھاگ گئے اور پورا جہازچشم زدن میں غرق آب ہوگیااور تما م لوگ سمندر کی آغوش میں ابدی نیند سوگئے۔

مزید پڑھیں >>

اپریل فول منانا مسلمانوں کو زیب نہیں دیتا!

مزاح کرنا انسان کے لیے ضروری ہے، یہ ایک ایسی نعمت ہے جس کے ذریعے انسان بہت سے غموں کو بھلا کر تروتازہ محسوس کرتا ہے۔ اسی لیے مزاح کرنا اسلام اور انسانی فطرت میں معیوب نہیں سمجھا گیا، البتہ مزاح کے طریقوں پر ضرور غور کرلینا چاہیے۔ اس لیے کہ بعض دفعہ ایک چیز، ایک انسان کے لیے لطف اندوزی کا باعث بنتی ہیلیکن دوسرے کے لیے وبال جان بن جاتی ہے۔ ایسے مذاق ومزاح کو ظاہر ہے انسانی فطرت خصوصاً دینِ اسلام، جو کہ عین فطرت ہے، ہرگز درست وجائز قرار نہیں دے سکتا۔

مزید پڑھیں >>

اپریل فول ناجائز و حرام ہے!

’’اپریل فول ‘‘ کے حرام و ناجائز ہونے میں کسی مسلمان کو ذرہ برا بر تذبذب کا شکار نہیں ہونا چاہئے ۔اس لئے کہ اس میں جن باتوں کا ارتکاب کیا جاتاہے وہ اسلامی تعلیمات کے مطابق حرام ہیں ۔ جیسے جھوٹ، دھوکا، گندہ مذاق، تمسخر، و عدہ خلافی، مکر و فریب ، بددیانتی اور امانت میں خیانت وغیرہ۔ یہ سب مذکورہ ا مور فرمانِ الٰہی اورفرمانِ رسول کی روشنی میں ناجائز اور حرام ہیں ۔ خلاف مروت، خلاف تہذیب اور ہندوستان کے سماج و معاشرے کے خلاف ہیں۔

مزید پڑھیں >>

جھاڑ پھونک وغیرہ میں جنّوں کا سہارا لینا شرک ہے!

قرآن وسنت کے رو سے مصیبت کے وقت فریاد طلب کرنا عبادت ہے۔ اور جب استعاذہ عبادت ہے تو غیر اللہ سے طلب کرنا شرک اکبر قرار پائے گا جو ملت سے خارج کردینے والا عمل ہے۔ لہذا جو جن اور شیطانوں سے مدد طلب کرے وہ کفر اکبر کا مرتکب ہونے کی وجہ سے کافر ہے۔ اور وہ مشرک باللہ ہے جو تعویذ وگنڈے بناکر شیطانوں اور سرکش جِنّوں کی مدد حاصل کرتا ہے، اس کے لئے اپنے تعویذوں اور طلاسم میں شیطانی نام لکھتا ہے۔ اور ایسے ہی مصیبت اور خوف کے وقت جِنّوں کو مدد کے لئے پکارنا یہ سب شرک اکبر کی قسم سے ہے۔کیونکہ اس میں اللہ سبحانہ وتعالی کے علاوہ سے مدد طلب کرنے کا عمل ہے۔

مزید پڑھیں >>

مسلم طلباءتنظیمیں:وقت کی ضرورت اور کرنے کے کام

ایک طویل فکری زوال کی وجہ سے آج مسلمانوں کی حالت قابل رحم ہوچکی ہیں۔آج اس ملت کے نوجوان کو ہر پرجوش مقرر اپنا قائد لگتا ھے۔اس سوشل میڈیا کے دور نے ہمیں اپنے حقیقی قائدین سے دور اور خود ساختہ قائدین کے بہت قریب کردیا ھے ۔شہلا رشید اور کنہیا کمار ہمارے محبوب ہیں انکی چند تقریروں سے ہم اتنے متاثر ہیں کہ ہماری عقلیں کام نہیں کررہی۔لیکن ہمارے نوجوان اس بات سے بیخبر ہیں کہ یہ دونوں افراد جن تنظیموں سے وابسطہ ہیں وہ تنظیمیں اسلامی دشمنی میں اپنا کوئی ثانی نہیں رکھتی ۔یہ وہی لوگ ہیں جو ہم جنس پرستی کی کھل کر حمایت کرتے ہیں ۔ہاں ین کے نزدیک لیونگ ریلشن شپ میں کوئی برائی نہیں ۔ان کہ نزدیک محمد عربی صل علیٰ وعلیہ و سلم بھی تو ایک انسان تھے وہ تنقید سے ماوراء کیوں ہوں۔

مزید پڑھیں >>

پُر فتن دور میں ایمان کی حفاظت مسلمانوں کی اہم ذمہ داری!

عالم ِ اسلام کی عظیم دینی درسگاہ دارالعلوم دیوبند کے عظیم المرتبت مہتمم ،مصلح ومربی حضرت مولانا مفتی ابوالقاسم نعمانی صاحب مدظلہ اپنی گوناگوں خوبیوں اور کمالات کی بنیاد پر ملک کے ممتاز علماء ومفکرین میں شمار ہوتے ہیں ۔ آپ کی شخصیت بے مثال تواضع ،خوش خلقی وشریں کلامی کی وجہ سے ہر خواص وعام کے یہاں مقبولیت رکھتی ہیں ،آپ تعلیم وتدریس،اصلاح و تذکیر ،تربیت وتزکیہ،اوراہتمام کے انتظام وانصرام کی مصروفیات کے ساتھ ،اسفار اور قوم وملت کی دینی رہبری و رہنمائی کے لئے ملک کے طول وعرض کے علاوہ بیرون ِ ملک میں بھی اپنے مؤثر خطابات اوربصیرت افروز بیانات کے ذریعہ علم وعمل کی روشنی پھیلاتے رہتے ہیں اور افرادِ امت کو دین اسلام سے وابستہ کرنے کی سعی ٔ پیہم وجہدِ مسلسل فرماتے ہیں ۔

مزید پڑھیں >>

نماز عصر کا ضیاع ، سارے نیک اعمال کا ضیاع ہے !

ایک مسلمان کے اوپر دن ورات میں پانچ وقت کی نمازیں فرض ہیں جنہیں اپنے اپنے وقتوں پر اد ا کرنا ہے ، ان کا تارک قرآن وحدیث کی روشنی میں کافر ہے ۔پنچ وقتہ نمازیں فریضہ ہونے کے ساتھ اپنے دامن میں نمازی مومنوں کے لئےہزاروں فیوض وبرکات لئے ہوئے ہیں ۔دل کا سکون ، پریشانی کا حل ، بیماری سے شفا، آنکھوں کی ٹھنڈک ، مال ،اولاداور زندگی میں برکت ، گناہوں کی مغفرت، درجات کی بلندی، خالق ومالک کی قربت اور اس کی نصرت ومہربانی، شروفساد سے پناہ ، دنیا میں عزت وراحت اور آخرت میں کامیابی وکامرابی یہ سب اور ان کے علاوہ بے شمار خوبیاں نماز میں ہیں ۔ اس کا سب سے عظیم فائدہ یہ ہے کہ اللہ تعالی اپنے بندوں کو جہنم سے دور کردے گا اور جنت ان کا ٹھکانہ بنائے گا۔

مزید پڑھیں >>