ٹرینڈنگ
- طلاق زندگی ہے : سونم اور راجا رگھوانشی کیس کے تناظر میں
- پہلگام حملہ : ایسے حملوں سے پہلے چوکسی کیوں نہیں برتی جاتی؟
- فلسطین اور عرب حکمراں: اسے دوستی کا نام دیں گے یا دغا کا؟
- نفقۂ مطلّقہ کے بارے میں سپریم کورٹ کا حالیہ فیصلہ
- ملک کے موجودہ حالات اور ہمارا سیاسی وژن
- الیکشن، نت نئے ایشوز اور ہمارا رول
- نیامشن نیا ویژن
- بھڑوا، کٹوا، ملا آتنک وادی …
- مملکت سعودی عرب: تاریخ، معاشی چیلنجز اور حکمت عملی
- بچوں کو تعلیم کی ضرورت ہے، اجرت کی نہیں
براؤزنگ زمرہ
ادب
محبت کی کہانی!
اگر آپ کسی چیز کو پانی کی شدت سے خواہش رکھتے ہیں تو ساری کائنات اس چیز کو ملانے میں آپ کے ساتھ اس سازش میں شریک ہو جاتی ہے۔
شہنشاہ طنز و مزاح مشتاق یوسفی کی یاد میں
مشتاق یوسفی کا معاملہ ’تو چیزے دیگر است‘ والا تھا۔ وہ جس مقام پر فائز تھے وہاں تک رسائی کسی طنز و مزاح نگار کے لیے ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہے۔ اور عہد حاضر…
مرزا غالب کی غزل پر شگفتہ تضمین
پچیس بار ہار چکا ہوں میں انتخاب
"کب سے ہُوں کیا بتاؤں جہانِ خراب میں"
یوسفیؔ نہیں رہے تو کیا، ہم ’عہد ِ یوسفی‘ ہی میں ہیں
مشتاق یوسفی اپنے سماج اور دنیا کو تتلی جیسی سیکڑوں آنکھوں سے دیکھنے والے ایسے ہی ’شگفتہ نگار ‘ تھے جن کے یہاں نہ پھکڑ پن ہے،نہ ٹھٹھول، نہ دریدہ دہنی بلکہ…
اردو ادب و مزاح نگاری کے ایک درخشاں عہد کا خاتمہ
میری نظر میں جس طرح ایک جاسوسی ناول نگار کی کامیابی کا ثبوت یہ ہے کہ اس کی کتاب پڑھتے ہوئے آدمی کو یہ اندازہ ہی نہ ہو کہ وہ اپنے بستر یا مطالعے کی میز پر ہے…
فیس بُک کی محفلیں اردو کی ہیں خدمت گذار: ایک منظوم تعارف
فیس بُک پر ہیں جو ادبی محفلیں سرگرمِ کار
ہیں بقدرِ ظرف اردو کی سبھی خدمتگذار
ساہتیہ اکادمی کے ’یوا پرسکار‘ کے لیے شہناز رحمن کا نام منتخب
شہناز رحمن نے ایوارڈ کیلئے منتخب کئے جانے پر ساہتیہ اکادمی کا شکریہ ادا کیا ہے اور اسے مکمل طور پر والدین کی دعا اور اساتذہ کی توجہ کا نتیجہ بتایا ہے۔
ہاتھ جلے گھر کے چراغ سے
ٹیکسی کی کھڑکیاں بند کرتے ہوئے ہم نے شمع اور شاہد بھائی کے چہروں کو پیلا پڑتے اور بچوں کے چہروں کو غصے سے لال ہوتے دیکھا۔ جب ہم اپنے بازو میں بیٹھے چاچاجی…
یادِ رفتگاں: بیاد ممتازمزاح نگار مشتاق یوسفی مرحوم
مشتاق یوسفی جو تھے عالم میں انتخاب
تھے وہ سپہرِ اردو کے رخشندہ ماہتاب
مشتاق احمد یوسفی کے انتقالِ پر ملال پر منظوم خراجِ عقیدت
کوئی چراغ نہیں، گُل ہوا ہے سورج آج
جہانِ ہست میں مشتاق یوسفی نہیں اب
اردو ادب کی شان تھے مشتاق یوسفی
اردو ادب کی شان تھے مشتاق یوسفی
اردو کے ترجمان تھے مشتاق یوسفی
کہا میں نے مری آنکھوں میں پانی ہے
کہا میں نے مری آنکھوں میں پانی ہے
جواب آیا محبت کی نشانی ہے
انا کی قید سے نکلوں، وفا کو عام کروں
انا کی قید سے نکلوں، وفا کو عام کروں
گلے وہ بڑھ کے لگائیں تو احترام کروں
لطفِ نگاہِ یار کا مطلب بدل گیا
لطفِ نگاہِ یار کا مطلب بدل گیا
یعنی کہ دل نثار کا مطلب بدل گیا
اک جھلک اور دکھاؤ نہ اگر ممکن ہو
فہم و ادارک میں آؤ نہ اگر ممکن ہو
اک جھلک اور دکھاؤ نہ اگر ممکن ہو
رقصِ مینا
اس نے بائک سے چاروں طرف تلاش لیا مگر کچھ پتہ نہ چلا... دورونزدیک کے تالاب اور جھاڑیوں سےبھی کچھ سُراغ نہ مِلا اور نہ ہی نبیلہ اپنےمیکےپہنچی تھی اس کا مبائل…
پیغام محبت کی زباں ہے اردو
پیغامِ محبت کی زباں ہے اردو
کِردار کی عظمت کا نشاں ہے اردو
کس جگہ کس وقت اور کس بات پر کتنا چپ رہنا ہے اُن کو علم ہے
کس جگہ کس وقت اور کس بات پر کتنا چپ رہنا ہے اُن کو علم ہے
میری شرحِ خواہش و جذبات پر کتنا چپ رہنا ہے اُن کو علم ہے
عید آئی بھی اور گزر بھی گئی
جس کا تھا مُنتظرخبر بھی گئی
عید آئی بھی اور گذر بھی گئی
آئی ہے آج لے کے خوشی کا پیام عید
آئی ہے آج لے کے خوشی کا پیام عید
رمضان کا ہمارے لئے ہے انعام عید
نیرو مودی اور نیرو سیزر
جی ہاں کہا جاتا ہے کہ اپنا سونے کا محل بنانے کے لئے اس نےروم کے بیشتر علاقوں کو نذر آتش کروا دیا تھا ۔ یہ خوفناک آگ ۵ دن تک بھڑکتی رہی ۱۴اضلاع میں سے ۴…
سفیر امن و سکوں بن کے آئے عیدالفطر
سفیر امن و سکوں بن کے آئے عید الفطر
دلوں سے سب کے کدورت مٹائے عید الفطر
عید بھر دے زندگی میں آپ کی خوشیوں کے رنگ
عید بھر دے زندگی میں آپ کی خوشیوں کے رنگ
آپ کے اِس رنگ میں پڑنے نہ پائے کوئی بھنگ
یہ عشق جس بشر پہ مہربان ہو گیا
یہ عشق جس بشر پہ مہربان ہو گیا
وہ تنگ دست رہ کے بھی سلطان ہوگیا
