تعلیم و تربیت

مسلمانوں کا تعلیمی نظام: ایک تاریخی جائزہ

 موجودہ دور میں مسلمانوں کے درمیان تعلیم کے دو دھارے (Stream) جاری ہیں۔ ایک کو قدیم یا دینی کہا جاتا ہے اور دوسرے کو جدید یا عصری۔یہ دونوں دھار ے متوازی چلتے ہیں اور جس طرح دریا کے دونوں کنارے طویل ترین فاصلہ طے کرنے کے با وجود کہیں نہیں ملتے، اسی طرح ان دونوں دھاروں کے درمیان بھی کہیں یکجائی نہیں ہوتی۔ والدین کو ابتدا ہی میں فیصلہ کرنا ہوتا ہے کہ وہ اپنے بچے کو کسی دینی مکتب یا مدرسے کے حوالے کریں یا کسی اسکول میں اس کا داخلہ کرائیں ۔ جدید تعلیم حاصل کرنے والا بچہ ڈاکٹر، انجینیر، آرکیٹکٹ یا کسی پروفیشن کا ماہر تو بن جاتا ہے، لیکن اس کی دینی تعلیم واجبی سے بھی کم ہوپاتی ہے۔

مزید پڑھیں >>

تحفظ نفس کے بغیر تعلیم ممکن نہیں!

طلبہ و طالبات جو قوم کے مستقبل ہیں جب انکے محافظ ہی ظالم اور بھیڑیئے نکل جائیں تو انکا وجود دوسروں سے کیسے محفوظ رہیگا,اور جب تعلیمی اداروں کا یہ حال ہوگا تو بھلا قوم میں کہاں سے ایسے لوگ پیدا ہونگے جو ملک کا نام روشن کریں , پوری دنیا اسبات کو مانتی ہیکہ ہر قوم اور ملک کی امیدیں طلبہ و طالبات سے ہی وابسطہ ہوتی ہیں اگر اس آگ کو یہیں ٹھنڈھانہیں کیا گیا تو اسکی لپیٹ سے پورے ملک کے طلبہ و طالبات متاثر ہونگے اور اس سے حکومت کا وقار بھی خطرے میں آجائیگا

مزید پڑھیں >>

اسلامی اساس پر علوم کی تدوینِ نو

علوم کی اسلامی تدوین کی موجودہ تحریک نے (جو ایک تہائی صدی سے زیادہ عرصے سے موجود ہے) نتائج کے جلد حصول کی طرف توجہ دی چنانچہ اس کام کے اُن تقاضوں کی طرف اُن (داعیوں) کی طبیعت مائل نہیں ہوئی، جو دیر طلب تھے۔ فاروقی نے اپنامشہور بارہ نکاتی خاکہ پیش کیا جس میں ترتیب کے ساتھ اُن اقدامات کی نشاندہی کی گئی جن کے ذریعے علوم کی تدوین کا کام انجام پاسکتا تھا۔ ان اقدامات میں آخری اقدام نصابی کتب کی تیاری کا تھا۔ اس پورے اندازِ فکر میں عجلت پسندی جھلکتی ہے۔ سوچا یہ گیا کہ ایک مرتبہ نصابی کتب مرتب ہوجائیں تو گویا تدوینِ علوم کا کام مکمل ہوجائے گا اور اس کے بعد محض ان کتابوں کاپڑھنا پڑھانا کافی ہوگا۔ لیکن واقعہ یہ ہے کہ نئے خطوط پر علمی ارتقاء پیشِ نظر ہو تو آدمی کے ذہن میں آغازِ کار کے طورپر نصابی کتب تیار کرنے کا خیال نہیں آئے گا بلکہ وہ تحقیقی سرگرمیوں پر توجہ کرے گا۔

مزید پڑھیں >>

موت زندگی کی اصل حقیقت

مطلب کچھ نہیں سوائے اس کے کہ انسان اپنے آپ پر غور کرے، اپنی اصل حقیقت کو سمجھے، سمجھنے کے بعد وہ کارنامے انجام دے جن پر عمل پیرا ہو کر ’’اگر اس دنیا میں کچھ بھی نہ ملے تاہم آخرت میں رسوائی کا سامنا نہ ہو، وہاں انجامِ بد سے سابقہ پیش نہ پڑے۔ انسان ایسی زندگی گزارے کہ آخرت کے دربار میں سرخ رو ہو کر پیش ہو ۔ اللہ تعالیٰ ہر انسان کو اپنی اصل حقیقت سمجھنے اور پھر کامیابیٔ دارین عطا فرمائے۔

مزید پڑھیں >>

یکساں تعلیم سے ہوگی سب کی ترقی

بلاشبہ بھارت نے اس مقام تک پہنچنے کیلئے انتہائی کوشش اور محنت کی ہے۔ تبھی ملک کی تین چوتھائی آبادی لکھنے پڑھنے کے لائق ہوئی ہے۔ وزیراعظم نریندر مودی نے برکس کانفرنس میں اس عہد کو دوہرایا کہ بھارت 2016کے اقوام متحدہ کے سسٹینبل ڈیولپمنٹ ایجنڈا 2030کا پابند ہے۔

مزید پڑھیں >>

ہائر اسٹڈیز کی بنیادی باتیں

میں نے اپنے تعلیمی کیریر میں انگلش understanding کو لے کر اردو میڈیم کے طلبہ کے لئے جتنی بھی کتابیں دیکھی ہیں ان میں عبداللہ خطیب کی کتاب مدرس (انگلش سکھانا سیکھیں ) نے مجھے بہت متاثر کیا ہے۔ میرا مضمون پڑھنے والے ہر قاری کو یہی مشورہ ہے کہ وہ ضرور اس کتاب کو حاصل کریں جو کہ انکے کیریر کے لئے ایک سنگ میل ہو سکتی ہے۔

مزید پڑھیں >>

صلاحیتوں کو پہچاننے اور ترقی دینے کی ضرورت

موجودہ دور نے علم کے میدان میں بڑی ترقی کی ہے اور اس کے نئے نئے شعبے کھلے ہیں ۔ لیکن آج کے طرز ِتعلیم کا نقص یہ ہے کہ اس میں طالب علم کے ذہن و مزاج ، رجحانِ طبع اور صلاحیت کو نہیں، بلکہ مارکیٹ کی ضرورت اور تقاضوں کو سامنے رکھا جاتا ہے۔ پوری دنیا میں یہی رجحان غالب ہے کہ مارکیٹ کی جو ضرورت ہے، تعلیم و تربیت کے ذریعہ اس ضرورت کو پورا کرنا چاہیے۔ مثال کے طور پر بہت سے بچوں کا فطری رجحان سوشل سائنس کی طرف ہو سکتا ہے، لیکن آج ڈیمانڈ ہے فزیکل سائنس کی، تو بچے کو اس میں لگا دیا جاتا ہے۔اس طرح ایک بچہ، جو بڑا ادیب بن سکتا تھا، معاشیات کا ماہر ہو سکتا تھا، میدانِ سیاست کا رہ نما بن کر ابھر سکتا تھا، وہ ڈاکٹر اور انجینیربن گیا ۔ اس لیے کہ ہم نے یہ نہیں دیکھا کہ اس کے اندر کیا صلاحیت ہے؟ لیکن جن لوگوں کو اپنی فطری صلاحیتوں کو پروان چڑھانے اور اپنے مزاج کے لحاظ سے کام کرنے کے مواقع مل جاتے ہیں وہ بہت تیزی سے آگے بڑھتے ہیں اور خوب ترقی کرتے ہیں۔

مزید پڑھیں >>

تعلیم میں درآئی مجرمانہ ذہنیت اور اسلام کا نظریۂ تعلیم وتربیت

بچوں میں تشدد، مجرمانہ ذہنیت اور جنسی زیادتی  جوایک بڑے مسئلہ کے طور پر ابھر کر سامنے آئی ہے۔ اگر بات ان کے اسباب کی کی جائے تو یہ بہت واضح ہیں ۔بے فکر، لاپروا، غیر ذمہ دار اور بے سمت تفریحات، بے راہ رو ٹی وی کلچر، مفاد پرست اور فرقہ پرست سیاست، نشہ خوری  حتی کہ بچوں تک میں اس کے تئیں بڑھتا ہوا رجحان کے ساتھ ساتھ تعلیم وتربیت  کی روح کا فقدان ہے۔

مزید پڑھیں >>

سرکاری اسکول کے اساتذہ کو درپیش چیلنجز

 مرکزی اور ریاستی حکومتیں اگر واقعی تعلیمی نظام کو بہتر بنانا چاہتی ہیں تو انہیں ان بنیادی مسائل کو حل کرنے کے لیے ٹھوس لائحہ عمل بنانا ہوگا لیکن افسوس کہ سرکاری اسکولوں کو اب تک تجربہ گاہ کے طور پر ہی استعمال کیا جاتا رہا ہے ، ایک ایسی تجربہ گاہ جہاں کے بیشتر تجربے ناکام ثابت ہوتے ہیں۔

مزید پڑھیں >>

نافع علم وتعلیم: توکل علی اللہ  اور ترقی!

ہمارے نزدیک یہ حالات ہماری ہی غلطیوں کا خمیازہ اور بے عملی کا ثمرہ ہیں ۔ علم دین اور علم دنیا کی تقسیم کا اسلام سے کوئی لینا دینا نہیں ۔اگر  کوئی تقسیم ہے بھی تو   علم کے نافع  یا  غیر نافع  ہونے کے تعلق سے ہے اور بس ۔ علم اگر نافع ہے تو مطلوب بھی ہے اور محمود بھی ۔

مزید پڑھیں >>