تاریخ اسلام

واقعہ اصحاب فیل

ابرہہ، جو یمن کاگورنرتھااس نے خانہ کعبہ و مسجدحرام کے مقابلے میں ایک شاندارعمارت بنائی، بلندوبالا عمارت کوسونے اور چاندی سے مرصع کیااور اس کے درودیوار اور اہم مقامات پر ہیرے جواہرات پیوست کیے۔ ایک عام آدمی جب عمارت کے قریب جاتاتواسے گردن اونچی کرکے اس کی بلندی مشاہدہ کرنی پڑتی تھی اور جب اندرداخل ہوتا تواس کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ جاتیں۔

مزید پڑھیں >>

 اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد!

عام طور پر ہم دیکھتے ہیں کہ عیسوی سال جب ختم ہونے لگتا ہے اور ڈسمبر کی آخری رات ہوتی ہے، بارہ بجے کے بعد جنوری کی صبح نمودار ہونے والی ہوتی ہے تو پوری دنیا میں جشن وطرب کا ماحول چھا جاتا ہے، شراب وشباب کے نشہ میں نئے سال کا استقبال کیا جاتا ہے اوربداخلاقی اور بیہودگی، شرافت وتہذیب کی تمام حدوں کو پارکرکے نئے سال کی خوشیاں منائی جاتی ہیں ۔

مزید پڑھیں >>

واقعۂ کربلا کی عصری معنویت:  قرآن و حدیث کی روشنی میں

واقعۂ کربلا کا گہرائی سے جائزہ لینے کے بعد جو چیز سب سے زیادہ روشن اور واضح طور پر نظر آتی ہے وہ ہے خدمت اسلام کے جذبے سے سرشار ہوکر اپنی اور اپنے اہل خاندان کی جان و مال کی پروا کیے بغیر دربارِ ایزدی میں اپنی جان کا نذرانہ پیش کردینااور ایک لمحے کے لیے بھی موت کے سامنے خوف و جھجھک کا مظاہرہ نہ ک

مزید پڑھیں >>

ماہِ محرم الحرام و عاشورہ کی فضیلت و اہمیت

یومِ عاشورہ ماہِ محرم الحرام کا دسواں دن مندرجہ بالا فضیلتوں و باتوں کے برعکس اپنے اندر ایک بالکل مختلف پہلو بھی رکھتا ہے۔  کیسا عجیب اتفاق ہے کہ اسی دن سرور کائینات صلی اللہ علیہ وسلم  کے چھوٹے نواسے حضرت امام حسین  رضی اللہ عنہ‘ کو میدان کربلا میں شہید کر دیا گیا۔

مزید پڑھیں >>

اردو شاعری اور شہیدِ کربلا

عربی اور فارسی ادب میں واقعۂ کربلا اور قربانیِ شبیرؑ کے موضوع پر قدیم زمانے سے شعر و ادب میں واضح طور پر فلسفۂ حق و باطل کو بیان کیا گیا ہے۔ اپنوں بیگانوں سبھی نے نواسۂ رسولؐ کو خراجِ عقیدت پیش کیا ہے۔ دانش وروں اور شاعروں نے اپنے قلم کے جوہر دکھائے ہیں۔ اردو شعر و نثر میں کربلا کو حق و باطل کا ایک اہم استعارہ سمجھا جاتا رہا ہے۔ ہمیشہ کے لیے حسینیت زندہ باد اور یزیدیت مردہ باد ہے۔

مزید پڑھیں >>

شہادت حسینؓ کا مقصد

 شہادت حسین رضی اللہ عنہ فی الحقیقت ، حق و صداقت ، آزادی و حریت، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی ایک عظیم الشان انسانی قربانی تھی جو صرف اس لئے ہوئی کہ تاکہ پیروان اسلام کیلئے ایک اسوۂ حسنہ پیش کرے اور اس طرح جہاد حق و صداقت اور اس کے ثبات و استقامت ہمیشہ کیلئے ایک کامل ترین مثال قائم کرے، پس جو بے خبر ان کو رونا چاہئے اور جو روتے ہیں ان کو صرف رونے ہی پر اکتفا نہ کرنا چاہئے۔

مزید پڑھیں >>

شہادت : یہ رتبہ ٔبلند ملا جس کو مل گیا

ضروری ہے کہ شہادت کی عظمت کو سمجھیں اور شہداء کے مقام و مرتبہ کو جانیں ،شہادت کوئی غم والم یا نوحہ وماتم کی چیز نہیں بلکہ عظیم تر کامیابی اور ابدی حیات  کی علامت ہے ،یہ رشک و فخر کا ذریعہ ہے نہ کہ افسوس و غم کا سبب ہے ۔

مزید پڑھیں >>

کربلا اقوام عالم کے لئے مرکز اتحاد

 اگرآپ واقعہ کربلاکا تجزیاتی انداز میں مطالعہ کریں تو اس کے معنوی اقدار کے تناظر میں زندگی کی بہت سی حقیقتوں کا انکشاف ممکن ہے۔ لیکن کچھ حقیقتیں ایسی ہیں ،جو اس واقعہ کے فطری متون میں پوشیدہ ہیں۔ جن کا ادراک ایک متعین وقت کا متقاضی ہے۔ لیکن وقت کی بصیرتیں جب ان حقائق کے درمیان حائل حجابات کو چاک کریں گی تو دنیا کی آنکھیں حیرت واستعجاب سے پھٹ جائیں گی اور جاء الحق۔۔ ۔ ۔ ۔ کی قہرمان صدائیں ظالموں کے کلیجوں کوچیڑ کر رکھ دیں گی۔

مزید پڑھیں >>

حضرت عمر ؓ  کے دور میں قانون سازی

گنتی کے چند حکمران گزرے ہیں جو بذات خود قانون ساز تھے اور انہوں نے صرف حکمرانی ہی نہیں کی بلکہ انسانیت کو جہاں قانون سازی کے طریقے بتائے وہاں قوانین حکمرانی و جہانبانی بھی بنائے۔ ایسے حکمران انسانیت کااثاثہ تھے۔ امیرالمومنین حضرت عمر بن خطاب خلیفہ ثانی انہیں حکمرانوں میں سے ہیں جنہوں نے عالم انسانیت کو وحی الہی کے مطابق قوانین بناکر دیئے اور قانون سازی کے طریقے بھی تعلیم کیے۔ آپﷺ نے فرمایا تھا کہ میرے بعد اگر کوئی نبی ہوتاتووہ حضرت عمر ہوتے۔

مزید پڑھیں >>

واقعہ کربلا: دین کی بقا اور اسلام کی سربلندی

ایمان و محبت کا دعویٰ عمل کے بغیر صحیح نہیں حضرت امام حسین کے عمل کو دیکھیں اور عبرت حاصل کریں ۔دعا ہے کہ ہم سب کو اللہ ر ب العزت عبرت و نصیحت حاصل کرنے کی توفیق رفیق بخشے اور اللہ کے محبوب بندوں کے نقش قدم پر چلنے کی قوت عطافرمائے، قیامت کے دن نبین،صدیقین،شہدااور صالحین کے دامن کرم میں ہم سب کا حشر فرمائے اور حسینی کردار کو اپنانے کی توفیق عطا فرمائے۔

مزید پڑھیں >>