تاریخ عالم

خلافت سے ملوکیت اور جمہوریت

  حکومت کے کرتوتوں سے عوام کو دور رکھنے کی خاطر ‘عقیدہ و مذہب کے نام قتل و خون کا بازار گرم کیا۔ حکومت اور دولت کا نشہ ایک مخصوص اعلی طبقے میں اس قدر سرچڑھ کر بولنے لگاہے کہ اگر کوئی نچلی ذات کا شخص اپنے نمائندے کے پاس اپنی کسی مصیبت کا علاج ڈھونڈنے آتا ہے تو اس کو اور اس کے افرادِ خاندان کو خود اپنا تھوک چاٹنے پر مجبور کردیا جاتا ہے۔ ایک دیہاتی لڑکی کھانا مانگتے مانگتے بلک بلک کر مرجاتی ہے۔ راشن کی دوکان والا اس کو چاول اس لئے نہیں دیتا کہ اس کا آدھار راشن کارڈ سے ملحق نہیں ہے۔

مزید پڑھیں >>

‘عالمی یوم ڈاک’ کے حوالے سے

جب ڈاک نے ترقی کی توخط و کتابت کا سلسلہ شروع ہوا۔یہ صرف خط ہی نہیں تھے بلکہ اس وقت کی تاریخ لکھ رہے تھے۔ خطوط کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اہم شخصیت کے خطوط پر کتابیں شائع ہوئی، جن میں انشائے داغ، غالب کے خطوط، خطوطِ آزاد،مشاہیر کے خطوط، جوش ملیح آبادی کے خطوط، علامہ اقبال کےجاوید اقبال کےنام  خطوط وغیرہ شامل ہیں۔ یہ نہ صرف خطوط کا درجہ رکھتے ہیں بلکہ یہ تاریخ کو بھی قلم بند بھی کرتے ہیں۔

مزید پڑھیں >>

ڈاک: انسانی رابطوں کا ذریعہ

 ماضی قریب میں رابطوں کے تیزرفتار سلسلوں نے خط کی اہمیت کو ماند کر دیا ہے،اب خط لکھناایک تکلف سمجھاجاتاہے اور گفتگوکرنا ظاہر ہے کہ آسان ہو گیاہے اورعوام الناس آسانی کی طرف زیادہ مائل ہو گئے ہیں لیکن اس ک باوجود بھی ڈاک کی اہمیت میں کوئی کمی نہیں ہوئی ڈاکیاآج بھی ہماری ثقافت کا حصہ ہے، دروازے پر ڈاکیے کا انتظار آج بھی افسانوں اور ناولوں اور حتی کہ بعض نظموں اور غزلوں کا بھی عنوان بن جاتا ہے۔ وقت کے بڑھنے کے ساتھ ساتھ ڈاک کی اہمیت ایک بار پھر دوبالا ہوگی اور یہ خدمت نت نئے رنگوں سے انسانی زندگی کے خالی خانوں کو قوس قزع کی مانند حسن و زیبائش سے آشنا کر دے گی۔

مزید پڑھیں >>

برمی مسلمانوں کی تاریخ: مسائل اور کرنے کے کام!

آج برما جسے اب میانمار کہا جاتا ہے بدھ کے پیروکاروں کا ملک ہے۔ اراکان اس کا ایک صوبہ ہے جو بیس ہزار مربع میل پر مشتمل ہے۔ اس میں تقریباً تیس لاکھ سے زائد مسلمان آباد ہیں۔ اراکان دراصل تاریخی حیثیت کا حامل علاقہ ایک زمانے میں باقاعدہ خودمختار خوشحال مسلم سلطنت تھاجس کی ابتدا1420ئکے دوران ہوئی۔

مزید پڑھیں >>

جدید یورپ کا ارتقاء اور اسلام پر جدید مطالعات کا آغاز

 اخبارات ورسائل پر نظر رکھنے والے جانتے ہیں کہ اسلام اور مغرب کی کشمکش آج بھی جاری ہے ،مستشرقین کے انداز تحقیق کا رخ ضرور بد ل گیا ہے ان کے تحقیقات و مطالعات کا سلسلہ بند نہیں ہوا ہے چنانچہ انہی مقاصد کی حصولیابی کے لئے 9/ ستمبر  2001  ء کو امریکہ کے ولڈ ٹریڈ سنٹر پر حملہ کراگیا تاکہ اس کے ذریعہ افغانستان میں اسلامی حکومت کی اٹھنے والی چنگاری کو بجھا کر رکھ دیا جائے جس میں شاید انہیں کامیابی کم نقصان زیادہ ہوا اور اسی مقصد کے پیش نظر ابھی دو سال قبل ابو بکر البغدادی کی قیادت میں اسلامک اسٹیٹ کے نام پر جو خونی کھیل شروع ہوا وہ بھی اسی کا ایک حصہ ہے جسے امریکہ اور دیگر یورپین ممالک کا تعاون حاصل ہے ۔اس کے ذریعہ اسلام کے چہرہ کو مسخ کرنے اور اسلام کی طرف مائل ہونے والوں کو اس سے بیزار کرنے کی کوشش کی گئی جس میں انہیں ناکامی ملی ۔

مزید پڑھیں >>

ظلمت یوروپ میں تھی جن کی خر د راہ بیں

 ڈاکٹرمحسن عثمانی ندوی مسلمان جب دنیا میں سائنس ، صنعت اور تجارت کی بلندیوں پر پہونچ چکے تھے، اس وقت یوروپ قرون مظلمہ کے اندھیروں میں گھرا ہوا تھا، عالم اسلام کی ترقی کازمانہ یوروپ کی انتہائی پسماندگی کا زمانہ …

مزید پڑھیں >>

غزوۂ بدر :ایمان افروز معرکہ حق و باطل

مفتی محمد صادق حسین قاسمی کریم نگری رمضان المبارک خود ایک عظیم الشان مہینہ ہے ،جس میں بے شمار اللہ تعالی کی رحمتیں نازل ہوتی ہیں اور خصوصی معاملات انسانوں کے ساتھ کئے جاتے ہیں ،پھر اللہ تعالی نے اس …

مزید پڑھیں >>