تاریخ عالم

انسان اور زمین کی حکومت (قسط سوم)

عزازیل بحکم ربی نیک جنات کی جماعت کے ساتھ زمین پر آیا اور اپنے نائب مقرر کئیے اور خود اللہ کی عبادت اور درس تدریس میں مشغول رہتا۔ جب دل چاہتا آسمانوں پر چلا جاتا جنت کی سیر کرتا۔عزازیل کا منبر بھی جنت میں تھا جہاں بیٹھ کر وہ فرشتوں کو درس و تدریس دیتا اور اس کے منبر پر عرش کا ایک ٹکڑا (یا کونہ) ہر وقت سایہ کئیے رکھتا_

مزید پڑھیں >>

انسان اور زمین کی حکومت (قسط دوم)

ابلیس کی والدہ کا نام "نبلیث" تھا جو قوم جنات کی سب سے زیادہ طاقتور مادہ تھیں کہ کئی سو کا مقابلہ کر سکتی تھی ان کے چہرے کی ساخت جیسے مادہ بھیڑئیے کا چہرہ ہوتا ہے (واضح رہے کہ جنات کی شکلیں مختلف ہوتی یا ہو سکتی ہیں اور یہی ان کی پہچان اوپر بیان کی گئی کہ وہ کسی بھی صورت میں متشکل ہو سکتے ہیں ) ان دونوں کے بارے مشہور تھا کہ جس قوم میں چلیپا اور نبلیث ہوں وہ کبھی ہار نہیں سکتی کوئی قوم ان کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔

مزید پڑھیں >>

ٹائم مشین

28 اکتوبر 1943 کا دن تھا۔  دوسری جنگ عظیم زوروں پر تھی۔ ۔ہٹلر کی جنگی کشتیوں نے اتحادی فوجوں کی ناک میں دم کررکھا تھا۔ اسوقت ہٹلر کی بحری قوت کو توڑنے کے لیے مشہور سائنسدان البرٹ آئن سٹائن کے ساتھ فلاڈلفیا میں ایک نہایت خفیہ تجربہ کیا گیا۔ جس کا مقصد پورے  جنگی بحری جہاز کو  نظروں  سے اوجھل کر دینا تھا۔

مزید پڑھیں >>

کولمبس: انسانی تاریخ کا ایک  سیاہ باب!

کولمبس تیس اکتوبر 1451 میں ریپبلک آف جنوا (اٹلی) میں پیدا ہوا۔  سلطنت ہسپانیہ کا تنخواہ دار ملازم رہا۔ وہ ایک تجربہ کار سپاہی اور مہم جو جہاز ران تھا۔ مگر ایک سیاح کے طور پر زیادہ معروف ہوا۔ وہ اختیارات، دولت اور دربار تک رسائی کا ہمیشہ متمنی رہا۔ اس مقصد کے لئے وہ نت نئے منصوبے سوچتا رہتا تھا۔ یہی چیز اسے نئے ممالک کی کھوج اور دریافت پر اکساتی تھی۔

مزید پڑھیں >>

کرسمس کی تاریخ: ابتدا اور موجودہ حالت

  کرسمس (Christmas) دو الفاظ کرائسٹ (Christ) اور ماس (Mass) سے مل کر بنا ہے۔ کرائسٹ مسیح علیہ السلام کو کہتے ہیں اور ماس اجتماع? اکٹھا ہونے کو، یعنی مسیح کے لیے اکٹھا ہونا، میسحی اجتماع یا یومِ میلادِ مسیح علیہ السلام۔یہ لفظ تقریباً چوتھی صدی کے قریب قریب پایا گیا، اس سے پہلے اس لفظ کا استعمال کہیں نہیں ملتا۔ دنیا کے مختلف خطوں میں کرسمس کو مختلف ناموں سے یاد کیا جاتا ہے۔ (کرسمس کی حقیقت بترمیم)’وکی پیڈیا‘ میں ہے کہ عیدِ ولادتِ مسیح یا بڑا دِن، جس کو کرسمس بھی کہتے ہیں جو یسوع مسیح (اسلامی نام: عیسیٰ) کی ولادت کا تہوار ہے۔

مزید پڑھیں >>

تاریخ کا سبق

یہ عجیب اتفاق ہے کہ ہم نے آج تک ہٹلر کو کبھی برا کہا نہ لکھا۔ ہم نے ہٹلر کا ہمیشہ دفاع کیا۔ہٹلر کوئی صاحب ایمان نہ تھا کہ ہم اس می، مومنو، کی صفات ڈھونڈی۔ وہ ایک حکمرا، تھا اور بوجوہ اسے Totaliterian حکومت چاہئے تھی۔اور آج صاحب ایمان سعودی والے بھی ایسے ہی حکومت چلا رہے ہی،۔ پھر یہ صحیح اور وہ غلط کیو، ؟ہٹلر سے ہماری ہمدردی کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ جرمنی کا ڈکٹیٹر حکمرا، ہونے کے باوجود تاریخ می، وہ انہی لوگو، کا ستایا ہوا ہے جن کے ستائے ہوئے نہ صرف ہم ہی، بلکہ اب تو ساری دنیا ہی ان کی ڈسی ہوئی ہے۔گذشتہ نصف صدی سے ہم دیکھ رہے ہی، کہ ہم من حیث القوم اس کے لئے روتے نہی، تھکتے کہ یہودی ہر طرح سے مسلمانو، کو اور اسلام کو بدنام کر رہے ہی۔

مزید پڑھیں >>

فرانسسکو پزارو کے شہر میں!

یوں لاطینی ہسپانوی ثقافت باقی یورپ کے مقابلہ میں ایسے جمود کا شکار ہوئی کہ اب مسلم ثقافت سے ہی اس زوال کا موازنہ کیا جاسکتا ہے اور عجب یہ کہ دونوں ایک ہی فکری مغالطہ کے اسیر ہوئے کہ دنیا میں کامیابی درست عقیدہ اور نیک مذہبی اعمال سے مشروط ہے اس طرح دونوں تہذیبوں میں سیکولرزم کا دروازہ سختی سے بند ہوگیا۔ شام کے سائے بڑھنا شروع ہوئے تو سیلانی نے بھی تُریخییو سے رخت سفر باندھا باقی رہے نام اللہ کا۔

مزید پڑھیں >>

مسلمانوں کی طرف سے امریکہ کی دریافت اور کولمبس کا جھوٹ

کئی شہادتوں سے ثابت ہوتاہے کہ اندلس (سپین ) اورمغربی افریقہ سے مسلمان کرسٹوفرکولمبس سے کم وبیش پانچ صدیاں پیشتر امریکہ پہنچے تھے بلکہ اس کی ٹھوس شہادت موجود ہے کہ مسلمان جہازراں ہی کولمبس کونئی دنیا کی طرف لے کر گئے تھے۔  کولمبس ابھی پیدا بھی نہیں ہوا تھا کہ مسلمانوں نے امریکہ دریافت کرلیا تھا، حالانکہ عمومی طورپر یہی کہا جاتاہے کہ کولمبس نے امریکہ دریافت کیا تھا۔

مزید پڑھیں >>

خلافت سے ملوکیت اور جمہوریت

  حکومت کے کرتوتوں سے عوام کو دور رکھنے کی خاطر ‘عقیدہ و مذہب کے نام قتل و خون کا بازار گرم کیا۔ حکومت اور دولت کا نشہ ایک مخصوص اعلی طبقے میں اس قدر سرچڑھ کر بولنے لگاہے کہ اگر کوئی نچلی ذات کا شخص اپنے نمائندے کے پاس اپنی کسی مصیبت کا علاج ڈھونڈنے آتا ہے تو اس کو اور اس کے افرادِ خاندان کو خود اپنا تھوک چاٹنے پر مجبور کردیا جاتا ہے۔ ایک دیہاتی لڑکی کھانا مانگتے مانگتے بلک بلک کر مرجاتی ہے۔ راشن کی دوکان والا اس کو چاول اس لئے نہیں دیتا کہ اس کا آدھار راشن کارڈ سے ملحق نہیں ہے۔

مزید پڑھیں >>

‘عالمی یوم ڈاک’ کے حوالے سے

جب ڈاک نے ترقی کی توخط و کتابت کا سلسلہ شروع ہوا۔یہ صرف خط ہی نہیں تھے بلکہ اس وقت کی تاریخ لکھ رہے تھے۔ خطوط کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اہم شخصیت کے خطوط پر کتابیں شائع ہوئی، جن میں انشائے داغ، غالب کے خطوط، خطوطِ آزاد،مشاہیر کے خطوط، جوش ملیح آبادی کے خطوط، علامہ اقبال کےجاوید اقبال کےنام  خطوط وغیرہ شامل ہیں۔ یہ نہ صرف خطوط کا درجہ رکھتے ہیں بلکہ یہ تاریخ کو بھی قلم بند بھی کرتے ہیں۔

مزید پڑھیں >>