افسانہ

چیٹر

 بے بس نظروں سے آگے بڑھتے  رکشے کودیکھتے نعمان کے کانوں میں رکشے والے کے آخری الفاظ پڑے ۔ وہ اپنے اکلوتے پسنجر کو کہہ رہاہے’’ دیکھا…کیسا  بابولوگ کے حلیے میں پھرتاہے آج کل چیٹر لوگ!‘‘

مزید پڑھیں >>

پنجرہ

میں خدا کے نظام عدل پر حیران ہو رہا تھا کہ اُس عادل با دشاہ نے اِس کو کیسی سزا دی جیسے یہ مجبو ربے بس لڑکیوں کو دیتا تھا اِس نے دھا ڑیں مار کر رونا شرو ع کر دیا میں پنجرے کے پاس گیا اور دیکھا تو وہ بو لا مجھے خدا کے لیے با ہر نکا لو تو میں نے اُس کی آنکھوں میں گھورا اور کہا آزاد فضا ئوں میں انسا ن رہتے ہیں۔ کیونکہ تم جا نور ہو اِس لیے جانور پنجروں میں رہتے ہیں یہ کہہ کر میں گھر سے نکل آیا ۔

مزید پڑھیں >>

زندگی

محمد شاہ نواز ہاشمی سورج آج پورے شباب پر تھا چاروں  طرف اپنی کرنوں  کو پھیلائے ہوئے ہر بشرکواپنے وجود کا احساس کرا رہا تھا۔آج اتوار یعنی چھٹی کے دن بھی گرمی سے لوگوں  کی حالت ابتر تھی اور لوگ …

مزید پڑھیں >>

فرشتے زمین پر

یہی وہ لو گ ہیں جن کہ آنکھیں کسی ضرورت مند کو دیکھ کر بھیگ جا تی ہیں جو کسی کی ضرورت پر تڑپ جا تے ہیں جو دوسروں کی ضرورت کو اپنی ضرورت پر ترجیح دیتے ہیں ایسے ہی سخاوت کے علمبردار لوگ ہو تے ہیں جو جانتے ہیں کہ سخا وت سے اللہ کے نا م پر دینے سے ان کے کاروبار نے دن دگنی رات چوگنی تر قی کی ہ

مزید پڑھیں >>

بے بس انسان

میں بیدار نہیں ہوں پھر بھی لوگ مجھے بیدار کہتے ہیں ان لوگوں نے میرا نام بیدار کیوں رکھا مجھے اس کا علم نہیں اور نہ ہی کبھی اس راز کو میں نے جاننے کی کوشش کی۔ پہلے پہل مجھے بہت برا لگاتھا لیکن بار بار سنتے سنتے مجھے بھی یہ نام پسندآنے لگا۔ آخر کار میں نے اسے اپنے نام کے ساتھ جوڑا دیا اورگائوں کے سارے لوگ میرے اصل نام کو بھول گئے اس طرح میں بیدار بن گیا۔

مزید پڑھیں >>

اور مجاہد تیار ہو گیا !

تم دیکھ رہے ہو کی نام نہاد مسلم ممالک میں اسلامی تعلیمات کی پامالی ہو رہی ہیں ۔ بُڑھی ماؤوں کو سڑک پر کھینچا جا رہا ہے،بہنوں کے گریبانوں کو چاک کیا جا رہا ہے،ان کی عصمت کو تارتار کیا جا رہا ہے،ان کی عزت کی بولی لگائی جا رہی ہے،بیٹوں کو پیٹ پیٹ کر ہلاک کر دیا جا رہا ہے،مردوں سے جیلوں کو بھر دیا جا رہا ہے،زندہ انسانوں کو جلا دیا جا رہا ہے۔

مزید پڑھیں >>

تو بہ کے آنسو!

اُس کی آنکھیں بہت خو بصورت برائون چمکدار اُس کے جسم اور ریشمی زلفوں کو چھونے والی ہوا خو شبوئوں سے لبریز ہو کر جہاں جہاں جا تی وہاں وہاں خوشبوئوں کے ڈیرے ڈال دیتی اُس کے جسم کو چھو نے والے جھونکے خو شبوئوں کی خیرات لے کر دور دراز تک ما حو ل کو سحر انگیز بنا دیتے اُ سکے یا قوتی ہونٹوں سے الفاظ پھولوں کی طرح جھڑتے تو سریلے جھرنوں میں رقص کر تی مو جوں کا احساس ہو تا۔ اُس کی جا دو نگا ر زبان حرکت میں آتی سما عتیں عقیدت و احترام سے اپنی جھو لیاں پھیلا دیتیں ۔

مزید پڑھیں >>

قدرت کا انصاف!

بعد میں جب راضی خلیفہ بناتو اُس نے کسی وجہ سے نا راض ہو کر پہلے ابن مقلہ کو قیدی بنایا پھر اُس کا ہا تھ کا ٹ دیا جب متقی کا زما نہ آیا تو وہ ایک دن عجا ئب گھر میں گیا تو وہا ں ایک طبق دیکھا جس میں ایک سر اور ایک ہا تھ رکھا ہوا تھا اور پا س کی ایک کا غذ پر لکھا تھا یہ حسین بن قاسم کا سرہے دوسرے کاغذ پر لکھا تھا یہ وہ ہا تھ ہے جس نے یہ سر کاٹا تھا ۔

مزید پڑھیں >>

جنت کی خوشبو!

شرم و حیا کی پیکر آج پھر التجا لے کر وہ میرے پاس آئی ہو ئی تھی، اُس کے چہرے پر سیر ت و کردار کا گلا بی نو ر پھیلا ہوا تھا۔ نر م و نا زک جسم کی ما لک دھان پان سی لڑکی پچھلے کئی دنوں سے میرے پاس آرہی تھی، وہ ہر با ر آکر انتظار میں بیٹھ جا تی، میں جب اُس کو اشارہ کر تا تو وہ میرے پاس آکر اایک ہی سوا ل کر تی کہ آپ میرے ساتھ میرے گھر کب چلیں گے۔

مزید پڑھیں >>

  خواب کی الٹی تعبیر!

انکا جواب نئے انداز کا تھا ہزاروں سوالوں کا جواب ایک چپ وہ خاموشی سے سب کچھ سنتے رہے تھے اسکے برعکس میں کافی خوش تھی کہ جس شخص سے دنیا کبھی آنکھ نہ ملا سکی اسے میں نے اتنی جھاڑ پلائی اسکے بعد میں شیر بن گئی اور میرا سر فخر سے بلند ہو گیا تھا لیکن جب مجھے اپنی غلطیوں کا احساس ہوا تو مجھے انکے سامنے جانے سے بھی خوف لگنے لگا یہاں تک کہ معافی مانگنے میں بھی اور میں بھیگی بلی بن بیٹھی تھی۔

مزید پڑھیں >>