افسانہ

از راہِ ثواب

۔وہ بے چاری بیوہ ہے اور اس کے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں۔ تم لوگ تو جانتے ہی ہوکہ میری پینشن آٹھ ہزار روپے ہے۔۔۔۔۔۔۔اور پھر میں آج ہی تھوڑی مرنے والا ہوں۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔میرے ساتھ رہے گی تو۔ ۔۔۔۔۔ بیچاری کی باقی کی زندگی آرام سے گزر جائے گی۔بچے پال لے گی۔۔۔۔۔۔‘‘

مزید پڑھیں >>

منحوس

   ایک شام، ضیاء ابھی دفتر سے گھر لوٹا ہی تھا کہ دروازے پر دستک ہوئی۔ باہر پولس انسپیکٹر اور کئی مسلح سپاہی کھڑے تھے اسکے نام گرفتاری کا وارنٹ تھا۔ اس پرالزام یہ تھا کہ و فساد کی خبریں شائع کر کے مسلمانوں کو مشتعل کر رہا ہے اس طرح اسے جیل کی چہار دیواریوں میں بند کر دیا گیا۔

مزید پڑھیں >>

دل میں اٹھتے سوال

 ’’یہ سن کے ہم کو دکھ ہوا بہت دکھ ہم اسکے اجت (عزت) کے کھاتر (خاطر)تاڑی کا دوکان کھول دیا اور سالی کو تاڑی بیچنے کو بیٹھا دیا۔ تب سے سالی رکمنی تاڑی بیچنے لگی اور آج سالی کہتی ہے جا تو ہمر (میرا)کون لگے ہے۔ ہاں! ہم اس کا کون ؟ کچھ تو نہیں میاں بھائی کچھ بھی نہیں۔ اس کے کھاتر ہم اب تک ایک دن بھی اپن کھولی میں نہیں سویا۔ جاڑا گرمی برسات سب رات ہم پھوٹ پاتھ پر سوتے گجارا اور سالی وہ دن رات ہر بکھت ہمارکھولی میں رہے‘‘۔

مزید پڑھیں >>

اندھیری رات میں گرج چمک

"۔۔۔۔۔تم کہاں ہو مجھے اپنا ہاتھ دو، ہم ایک ساتھ چلتے ہیں، اگر دونوں میں سے کسی کو ٹھوکر لگے گی تو دوسرا اس کا سہارا بنے گا۔۔۔۔تم ٹھیک کہتے ہو لیکن تم کہاں ہو مجھے کچھ نظر نہیں آ رہا ۔۔۔۔۔ اس لیے میں نے تم سے کہا تھا کہ جدا نہ ہو ، دیکھنے کے لیے۔۔۔۔۔۔۔"

مزید پڑھیں >>

انقلاب

اس نے بارہا کہا کہ میں اس کی مدد کروں لیکن مجھے اتنی فرصت کہاں کہ میں ۔۔ ۔ ۔ حالانکہ وہ پڑھنے میں بہت تیز اور محنتی تھی پہلے ہی دن وہ ہمارے لکچر سے کئی سوالات اٹھا چکی تھی اور اسی وجہ کر میں اس سے بہت ہی زیادہ متاثر ہوا تھا اس کے علاوہ اس میں اور بھی کئی خوبیاں تھیں جو ہر وقت سبھی کو متاثر کر تی تھی تیزی چنچلاپن خوبصورتی یہ تمام خوبیاں اس میں یکجا تھیں۔

مزید پڑھیں >>

اک دن سے !

 زندگی چاہے جیسی بھی ہو، کسی بھی حالات سے گزر رہی ہو، خوشیوں کی ڈگر پر چل رہی و  یا غموں کے دوراہے پر کھڑی ہو۔ بحر حال ہر ایک کی زندگی میں ایک دن ایسا ضرورر آتا ہے جس دن سے وہ اپنے آپ کو بھول بیٹھتا ہے یا پھر یکسر اپنی زندگی کے روز و شب کے معمولات تبدیل کرنے پر مجبور ہوجاتا ہے۔

مزید پڑھیں >>

اُمیدِ وفا

دل میں ہزار تمنائوں کے خواب لئے آفاق اپنی معصوم سی زندگی اپنی پانچ بہنوں اور اپنے بڑے بھائی کی پرورش میں گزار رہا تھا ۔سب کا اکلوتا اور اپنے بھائی کا چھوٹا عزیز و رفیق آفاق کی حالت روتے روتے خراب ہو گئی تھی، اُکھڑے بال،سوجی آنکھیں ،سوگوار چہرہ اور ملگجا سا شکن آلود لباس۔اُس کے آنسو رمیز کو اپنے دل پر گرتے محسوس ہو رہے تھے۔

مزید پڑھیں >>

چیٹر

 بے بس نظروں سے آگے بڑھتے  رکشے کودیکھتے نعمان کے کانوں میں رکشے والے کے آخری الفاظ پڑے ۔ وہ اپنے اکلوتے پسنجر کو کہہ رہاہے’’ دیکھا…کیسا  بابولوگ کے حلیے میں پھرتاہے آج کل چیٹر لوگ!‘‘

مزید پڑھیں >>

پنجرہ

میں خدا کے نظام عدل پر حیران ہو رہا تھا کہ اُس عادل با دشاہ نے اِس کو کیسی سزا دی جیسے یہ مجبو ربے بس لڑکیوں کو دیتا تھا اِس نے دھا ڑیں مار کر رونا شرو ع کر دیا میں پنجرے کے پاس گیا اور دیکھا تو وہ بو لا مجھے خدا کے لیے با ہر نکا لو تو میں نے اُس کی آنکھوں میں گھورا اور کہا آزاد فضا ئوں میں انسا ن رہتے ہیں۔ کیونکہ تم جا نور ہو اِس لیے جانور پنجروں میں رہتے ہیں یہ کہہ کر میں گھر سے نکل آیا ۔

مزید پڑھیں >>